بچے جشن ولادت کس طرح منائیں!

خوشی منانے کا طریقہ ہر مذہب،قوم اور برادری کا جُدا گانہ اور مختلف  ہوتا ہے،ایّامِ خوشی کبھی دنیاوی  تو کبھی مذہبی رنگ میں رنگے ہوتے ہیں،مسلمانوں کی زندگی میں خوشی کا سماں باندھ دینے والے دنوں میں سے ایک دن12ربیعُ الاوّل یعنی  عید  میلادُ النبی   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا بھی ہے۔ اس دن عاشقانِ رسول اپنے پیارے نبی حضرت محمدِ  مصطَفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ولادت (پیدائش) کا دن نہایت جوش و جذبے سے مناتے اور اپنے پیارے آقا   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

محترم والدین! بچوں کے دلوں میں اس اسلامی تہوار کی اہمیت، مَحبَّت اور عظمت پیدا کرنے کےلئے آپ کیا طریقہ اپنا سکتے  ہیں؟ مُلاحظہ فرمائیے:

٭اس مبارک مہینے میں گھروں میں،  محلّے میں بچّوں کے لئے محفلِ نعت کا خصوصی اہتمام کریں اور مختلف کتب و رسائل (مثلاً سیرتِ مصطفیٰ،صبحِ بہاراں اور نُور والا چہرہ) سے پیارے آقا   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے بچپن کے واقعات اور بچّوں کے ساتھ شفقت و محبت کے واقعات بیان کریں نیز ممکن ہوتو محفلِ نعت کے اختتام پر بچّوں کیلئے نیاز کا بھی اہتمام کریں لیکن اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ نیاز میں جس شے کا اہتمام کیا جائے وہ حِفظانِ صحّت کے اُصولوں کے مطابق ہو ٭بچّوں کے سامنے عید میلادُ النّبی   صلَّی اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اہمیت بیان کریں تاکہ بچّوں میں جشنِ ولادت کی اہمیت کا احساس پیدا ہو ٭بچّوں کو نعتیں پڑھنے کا ذہن دیں ٭ربیعُ الاوّل میں مدنی چینل پرہونے والے مدنی مذاکروں میں اپنی شرکت کے ساتھ ساتھ بچوں اور گھر کے تمام افراد کے لئے پابندی کے ساتھ مدنی مذاکرے دیکھنے کا اہتمام کیا جائے ٭ربیعُ الاوّل کا چاند نظر آنے پر خوشی منائیں اور اپنے عزیز و اَقارِب کو اس مہینے کی مبارک باد دیں، آپ کی دیکھا دیکھی یہ عمل آپ کے بچّوں کی عادت کا بھی حصّہ بن جائے گا ٭اس موقع پر جھنڈے اور لائٹیں وغیرہ لگانا مسلمانوں کا اپنے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے مَحبَّت ظاہر کرنے کا ایک اچھا  طریقہ ہے مگر یہ کام بہت چھوٹے بچّوں کو ہرگز نہ سونپیں کیونکہ اس طرح کوئی بھی حادِثہ رُونُما ہوسکتا ہے ٭بچّوں کو نئے کپڑے پہنائیں ٭نَعلَین پاک کے بیج Badge بَرَکت کی نیّت سے بچّوں کے کُرتے (قمیص) پر سینے کے مقام پر لگائیں مگر اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اس بیج کی پکڑ (Grip) مضبوط ہو ورنہ اس کی بے ادبی کا اندیشہ ہے ٭کثرت سے صدقہ و خیرات کریں اور اپنے بچّوں کے ہاتھ سے بھی صدقہ کروائیں تاکہ بچّے بھی اللہ کریم کی راہ میں خرچ کرنے کے عادی بنیں ٭گھر میں پیارے آقا   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسندیدہ غذائیں تیّار کرکے بچّوں کو کھلائیں([1]) ٭12ربیعُ الاوّل کے دن عاشقانِ رسول اپنی عقیدت کااظہار کرنے کے لئے جلوسِ میلاد بھی نکالتے ہیں، اس میں بچّوں کے ساتھ خود بھی شریک ہوں، انہیں اکیلا نہ بھیجیں ٭اس دن بچّوں میں نقشِ نعلِ پاک، گنبدِ خَضْرا اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے منسوب تبرکات کی ڈرائنگ (Drawing) بنانے کے مقابلے گھروں میں منعقد کریں نیز اچّھی کارکردگی (Performance) پر انہیں انعامات بھی دیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔

اللہ کریم ہمیں اورہمارے بچّوں کو پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سچّی محبت عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…بلال حسین عطاری مدنی   

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی



1      پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی غذاؤں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے ماہنامہ فیضانِ مدینہ ربیعُ الاوّل1440/دسمبر2018 صفحہ58 کا مطالعہ کیجئے۔

Share

بچے جشن ولادت کس طرح منائیں!

اسد اور عادل دوبھائی تھے، عادل جو اسد سے بڑا، بہت غُصّے والا اور سَخْت مِزاج تھا۔ ایک دن اسد اس کے کمرے میں گیا تو عادل نے  اسے ڈانٹتے ہوئے کہا:اسد! کس سے پوچھ کر آئے ہو یہاں؟

بھائی……وہ میں……وہ…… چُپ! ایک دَم چُپ ہوجاؤ اور دفع ہوجاؤ، خبردار! آئندہ میرے کمرے میں بغیر پوچھے آئے تو!

بھائی کی ڈانٹ سُن کر اسد رونے لگا اور اپنی ماں کو بتانے لگا جوکہ خود بھی عادل کے اس رَویّے سے پریشان تھی اور کئی بار عادل کو سمجھا بھی چکی تھی مگر عادل پر ماں کے سمجھانے کا اثر زیادہ دیر تک نہ رہتا اور وہ بعد میں پھر اسد پر غصہ کرنے لگتا۔

اب کی بار عادل کی ماں نے اسے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اَخلاقِ کریمہ کے ذریعے سمجھاتے ہوئے کہا: بیٹا! اب آپ سمجھدار ہوچکے ہو! بچپن میں لوگوں کے کئے ہوئے سُلوک بڑے ہونے کے بعدیاد آتے ہیں۔ تم اپنے چھوٹے بھائی اسد پر شفقت کیا کرو تاکہ بڑا ہونے کے بعد وہ تمہاری شفقتوں کو یاد کرکے تمہارے ساتھ رہنا پسند کرے۔

تمہیں پتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیارے صحابی حضرت سیِّدُنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال مدنی آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں رہا، آپ نے کبھی مجھے اُف تک نہ فرمایا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ ”فلاں کام تم نےکیوں کیا یا فلاں کام کیوں نہ کیا؟“ (مسلم،ص972،حدیث:6010)

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بچّوں کےپاس سے گزرتے تو انہیں سلام کہتے۔(بخاری،ج4،ص170،حدیث:6247)

اسی طرح رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کسی سفرسے واپس آتے اور بچّے آپ کا اِستِقبال کرتے تو آپ انہیں سُوار کرلیتے چنانچہ مسلمانوں کا لشکر جنگِ مَوتَہ سے لوٹا تو اہلِ مدینہ نے استقبال کیا۔ مدینے کے بچّے بھی بھاگے اور غازِیانِ اِسلام سے ملاقات کی۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بچّوں کو دیکھا تو فرمایا: ”بچّوں کو اپنے ساتھ سُوار کرلیں عبداللہ بن جعفر مجھے پکڑا دیں“ عبد اللہ بن جعفر کو لایا گیا تو آپ نے انہیں سُواری پر آگے بٹھالیا۔ (السیرۃ النبویہ لابن ہشام،ج2،ص324)

اس کے بعد امّی نے کہا:دیکھا بیٹا! ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کس طرح بچّوں پر شفقت فرماتے تھے، آپ بھی وعدہ کریں کہ آئندہ اپنے بھائی پرغُصّہ نہیں کریں گے، ماں نے پیار بھرے لہجے میں عادل سے کہا۔

عادل:مگر امّی جان! اسد بھی تو میرے کمرے میں آکر میری چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے!!!

امّی جان: بیٹا! اسد آپ کا چھوٹا بھائی ہے آپ کو اس کے ساتھ پیار و محبت کا برتاؤ رکھنا چاہئے۔

عادل: امّی جان! میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ اسد کے ساتھ پیار و محبت سے رہوں گا اور اس پر غُصّہ نہیں کروں گا۔ ماں نے عادل کا ماتھا چوما اور خوب دعاؤں سے نوازا۔

پیارے بچو! گھر میں چھوٹے بچّوں پر شفقت کیجئے کہ بچّوں پر شفقت کرنا سنّت ہے اور گھر والوں کے لئے کبھی بھی پریشانی کا سبب نہ بنیں بلکہ والدین کو خوش کرکے ان کی دعائیں لیں۔

اللہ پاک ہمیں اپنے پیارے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حُسنِ اَخلاق کا صدقہ عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…حامد رضا مدنی

٭…مدرس جامعۃ المدینہ فیضان اولیا ءاحمد آباد ہند 

Share

Articles

Comments


Security Code