مومن کی شان

گزشتہ سے پیوستہ

٭مسلمان ایمان پر قائم رہنے والا اور ہر طرح کے امتحان میں ثابت قدم رہنے والا ہوتاہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:( اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) )ترجمۂ کنزالایمان: بےشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔(پ24،حٰمٓ السجدۃ:30)

٭مسلمان عذابِ جہنم سے اللہ کریم کی پناہ و مغفرت مانگتا ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:( وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ﳓ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ(۶۵) اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا(۶۶))ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہم سے پھیر دے جہنم کا عذاب بےشک اس کا عذاب گلے کا غُل (پھندا) ہے بےشک وہ بہت ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔(پ19، الفرقان: 65، 66)

٭مسلمان نہ تو اللہ کی نعمتوں کو ضائع کرتا اور اسراف و فضول خرچی کرتاہے اور نہ ہی کنجوسی و بخل سے کام لیتاہے بلکہ اعتدال میں رہتاہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:( وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷)) ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔(پ19،الفرقان:67)

٭مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ بھائیوں کی طرح رہتا اور باہم صلح و محبت کا معاملہ رکھتا ہے، کبھی کسی معاملے میں مسلمان بھائیوں میں شکررَنْجی(ناراضی) ہوبھی جائے تو صلح کرواتاہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:( اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ )ترجمۂ کنز الایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو۔(پ26،الحجرات:10)

٭مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے بخشش و مغفرت کی دُعا کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:( یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ ) ترجمۂ کنزالایمان:عرض کرتے ہیں اے ہمارے ربّ ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔(پ 28،الحشر:10)

٭مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی پیٹھ پیچھے بُرائی نہیں کرتا۔ اللہ کریم کا فرمان ہے: ( وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ ) ترجمۂ کنزالایمان:اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ (پ26،الحجرات:12)

٭مسلمان امانت کی حفاظت کرتا اور وعدہ و عہد کی پابندی کرتا ہے۔ اللہ کریم کا فرمان ہے:( وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)) ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔(پ18،المؤمنون: 8)

٭مسلمان اپنے ماں باپ کے ساتھ ہمیشہ نرمی سے پیش آتا، ان کے حقوق کا خیال رکھتا اور ہر طرح سے ان کی خدمت میں پیش پیش رہتا ہے، ان کے آگے اُف تک نہیں کہتا اور ان کے بڑھاپے میں تو اور بھی زیادہ نرمی و محبت سے کام لیتاہے۔ ارشاد ربِّ کریم ہے:( وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳)) ترجمۂ کنزالایمان: اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔(پ15،بنیٓ اسرائیل:23)

٭مسلمان بھلائی اور نیکی کے کاموں کی طرف جلد بڑھنے والا ہوتا ہے۔اللہ کریم کا فرمان ہے:( اُولٰٓىٕكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ(۶۱))ترجمۂ کنز الایمان: یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی سب سے پہلے انہیں پہنچے۔(پ18،المؤمنون:61)

٭مسلمان اِزْدِواجی معاملات میں بھی اپنے پیارے اللہ اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات کی پیروی کرتا ہے اور بیویوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ان سے اچھا برتاؤ کرتا ہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:( وَ  عَاشِرُوْهُنَّ  بِالْمَعْرُوْفِۚ ترجمۂ کنزالایمان:اور ان سے اچھا برتاؤ کرو۔(پ4، النسآء:19)

٭مسلمان جانتا ہے کہ اسے فضول نہیں بلکہ اللہ کریم کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ قراٰن پاک میں ارشاد ہے:

( اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵))ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں (پ18، المؤمنون: 115) ایک مقام پر ارشاد ہوا:

(وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶))

ترجمۂ کنزالایمان:اور میں نے جِنّ اور آدمی اتنے ہی(اسی لئے) بنائے کہ میری بندگی کریں ۔(پ27،اَلذّٰرِیٰت:56)

٭مسلمان فضولیات اور بیہودہ باتوں اور کاموں سے دُور رہنے والا ہوتا ہے۔اللہ کریم کا فرمان ہے: (وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳)( ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔(پ18، المؤمنون:3)

٭مسلمان نفسانی خواہشات کی پیروی میں گناہوں کی دَلْدَل میں نہیں گِرتا بلکہ اپنی شرمگاہ کو گناہ سے بچاتا ہے۔ ربِّ کریم کا فرمان ہے: ( وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵))ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔(پ18،المؤمنون:5)

٭مسلمان جُھوٹ،فُحْش کلامی، گالی گلوچ اور بے حیائی جیسی حرکاتِ بد سے دور رہتا ہے اور ہرگز شیطان کی پیروی نہیں کرتا۔ ارشادِ خداوندی ہے( وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸) اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ)ترجمۂ کنز الایمان: اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے وہ تو تمہیں یہی حکم دے گا بدی اور بے حیائی کا۔(پ2، البقرۃ: 168، 169)

٭مسلمان سُود جیسی نحوست و لعنت سے بچتااور اللہ و رسول کے اعلانِ جنگ سے ڈرتا ہے ، کیونکہ سُود نہ چھوڑنے والوں سے اللہ کریم نے اعلانِ جنگ فرمایا ہے۔ اللہ کریم کا فرمان ہے:( یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَاْكُلُوا  الرِّبٰۤوا  اَضْعَافًا  مُّضٰعَفَةً۪-  وَّ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تُفْلِحُوْنَۚ(۱۳۰)) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو سُود دونا دون نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اُس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے۔(پ4،اٰل عمرٰن:130)

٭مسلمان زمین پر نرمی سے چلتا ہے اور تکبرو غرور اور اَکڑ کر نہیں چلتا۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: (وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا) ترجمۂ کنزالایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔(پ19،الفرقان:63)

٭مسلمان جاہلوں سے بلاوجہ الجھ کر بحث و مباحثہ میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ سلام کرتے ہوئے اپنی راہ چلا جاتاہے۔قراٰن کریم میں ارشاد ہے: (وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳) ) ترجمۂ کنزالایمان: اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام۔(پ19،الفرقان:63)

٭مسلمان حلال روزی و رزق کھاتا اور اللہ پاک اور رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حرام کردہ چیزوں سے بچتاہے۔ ارشادِ مولائے کریم ہے: ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ-اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ(۱) )ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو تمہارے لیے حلال ہوئے بے زبان مویشی مگر وہ جو آگے سنایا جائے گا تم کولیکن شکار حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہو بے شک اللہ حکم فرماتا ہے جو چاہے۔(پ6،المآئدۃ:1)

٭مسلمان قیامت کے دن پر یقین رکھتا ہے کہ مرنے کے بعد ایک دن اٹھایا جائے گا اور دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کے بارے میں حساب کتاب ہوگا۔ اللہ کریم کا فرمان ہے: (وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ(۳))ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔(پ 19،النمل:3)

٭مسلمان تلاوتِ قراٰن کرتاہے۔اللہ کریم کا فرمان ہے: ( یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ(۱۱۳))ترجمۂ کنز الایمان :اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں۔ (پ4،اٰل عمرٰن:113)

تلفّظ درست کیجئے!

غلط الفاظ

صحیح الفاظ

اِبْتَدا

اِبْتِدا

آخْرَت

آخِرَت

اِتْفَاق

اِتِّفَاق

اَجارہ

اِجارہ

آمدْنی

آمدَنی

(اردو لغت(تاریخی اصول )جلد1اور2 )

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…راشد عطاری مدنی

٭…ناظم ماہنامہ فیضان مدینہ ،کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code