باب : معجزات کابیان

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ نے ام سلیم سے فرمایا کہ میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی آواز کمزور سی سنی ہے جس میں بھوک محسوس کرتا ہوں ۱؎کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے وہ بولیں ہاں چنانچہ انہوں نے جو کی چند ٹکیاں نکالیں پھر اپنا دوپٹہ نکالا تو اس کے بعض سے روٹیاں لپیٹیں پھر اسے میرے ہاتھ سے چھپادیا اور بعض حصہ لپیٹ دیا ۲؎پھر مجھے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا تو میں وہ لے گیا تو میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو مسجد میں پایا ۳؎آپ کے ساتھ لوگ تھے تو میں نے انہیں سلام کیا تو مجھ سے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے میں نے کہا ہاں فرمایا کھانا دے کر میں نے کہا ہاں ۴؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاس والوں سے فرمایا اٹھو حضور چلے اور میں انکے سامنے چلا۵؎حتی کہ میں ابوطلحہ کے پاس آیا تو میں نے انہیں یہ خبر دی ابوطلحہ نے کہا اے ام سلیم رسول اصلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو لے کر تشریف لے آئے ۶؎ہمارے پاس کھانا نہیں جو انہیں کھلائیں وہ بولی ارسول ہی جانیں ۷؎ابوطلحہ چلے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے ملے پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے اور ابوطلحہ حضور کے ساتھ تھے۔۸؎رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لاؤ ۹؎چنانچہ یہ ہی روٹیاں لائیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا حکم دیا وہ توڑ دی گئیں ام سلیم نے ڈبہ نچوڑا اسے سالن بنادیا۱۰؎پھر اس میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے وہ پڑھا جس کا پڑھنا انے چاہا ۱۱؎پھر فرمایا دس آدمیوں کو اجازت دو انہیں بلایا گیا انہوں نے کھایا حتی کہ سیر ہوگئے پھر چلے گئے پھر فرمایا اور دس کو بلاؤ پھر اور دس کو ۱۲؎تو ساری قوم نے کھالیا اور سیر ہوگئے قوم کل ستر ۷۰ یا اسی ۸۰ آدمی تھے ۱۳؎(بخاری، مسلم)اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ دس کو بلاؤ وہ آئے فرمایا کھاؤ بسم ﷲ پڑھ کر انہوں نے کھایا ۱۴؎حتی کہ یہ ہی معاملہ اسی۸۰ آدمیوں سے کیا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور گھر والوں نے کھایا ۱۵؎اور بقیہ چھوڑ بھی دیا اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا میرے پاس دس آدمی لاؤ حتی کہ چالیس آدمی گنائے ۱۶؎پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کھایا ۱۷؎تو میں دیکھنے لگا کہ کیا اس میں سے کچھ کم ہوا اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ پھر بقیہ لیا اسے جمع فرمایا پھراس میں برکت کی دعا کی تو وہ جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا تو فرمایا اسے لو ۱۸؎

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهٖ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَلَاثَتْنِي بِبَعْضِهٖ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهٖ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟» قُلْتُ نَعَمْ قَالَ: "بِطَعَامٍ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهٗ قُومُوا فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتّٰى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتْ اَللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتّٰى لَقِيَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهٖ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ففُتَّ، وَعَصَرتْ أُمُ سُلَيْمِ عُكَّةً فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ لِعَشَرَةٍ فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ أَنَّهُ قَالَ: "ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ" فَدَخَلُوا فَقَالَ: «كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ» . فَأَكَلُوا حَتّٰى فَعَلَ ذٰلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلًا ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَكَ سُؤْرًا وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: «أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً» . حَتّٰى عَدَّ أَرْبَعِينَ ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْءٌ؟ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ فَجَمَعَهٗ ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ فَعَادَ كَمَا كَانَ فَقَالَ: "دُونَكُمْ هَذَا".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5908 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے انہیں سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک برتن لایا گیا آپ زوراء میں تھے ۱؎تو حضور نے برتن میں اپنا ہاتھ رکھا تو پانی آپ کی انگلیوں سے پھوٹنے لگا۲؎قوم نے وضوکرلیا قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے کہا کہ تم کتنے تھے فرمایا تین سو یا تین سو کے قریب ۳؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ وَهُوَ بِالزَّوْرَاءِ فَوَضَعَ يَدَهٗ فِي الْإِنَاءِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهٖ فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: ثَلَاثَ مِئَةٍ أَوْ زُهَاءُ ثَلَاثِ مِئَةٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5909 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت عبداابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم معجزات کو برکت شمار کرتے تھے اور تم انہیں ڈر کی چیز سمجھتے ہو ۱؎ہم ایک سفر میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے تو پانی کم ہوگیافرمایا کچھ بچا ہوا پانی تلاش کرو ۲؎لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا حضور نے برتن میں اپنا ہاتھ ڈال دیا پھر فرمایا آؤ برکت والے پاک پانی اور اکی برکت پر ۳؎میں نے پانی کو دیکھا کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا ہے اور یقینًا ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے حالانکہ وہ کھایا جاتا تھا۴؎(بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْآيَاتِ بَرَكَةً وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَهَا تَخْوِيفًا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَلَّ الْمَاءُ فَقَالَ: «اطْلُبُوا فَضْلَةً مِنْ مَاءٍ» فَجَاءُوا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَلِيلٌ فَأَدْخَلَ يَدَهٗ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ قَالَ: «حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةُ مِنَ اللهِ» فَلَقَد رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَد كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5910 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ دیا تو فرمایا کہ تم اپنی رات بھر اور کل تک چلتے رہو گے اوران شاءاﷲکل پانی پر پہنچو گے ۱؎تو لوگ چلے اس طرح کہ کوئی کسی پر توجہ نہیں کرتا تھا۲؎ابو قتادہ فرماتے ہیں جب کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم چل رہے تھے حتی کہ رات آدھی ہوگئی ۳؎تو آپ راستہ سے ہٹ گئے تو آپ نے اپنا سر مبارک رکھا پھر فرمایا کہ ہم پر ہماری نماز کی حفاظت کرنا ۴؎تو پہلے جو صاحب جاگے وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم تھے جب کہ دھوپ آپ کی پشت شریف میں تھی ۵؎پھر فرمایا سوار ہو چنانچہ ہم سوار ہوئے پھر چلے حتی کہ جب سورج چڑھ گیا تو حضور اترے پھر وضو کا برتن منگایا جو میرے ساتھ تھا جس میں کچھ پانی تھا تو اس سے وضو کیا ۷؎ہلکا وضو کیا عام وضوؤ ں سے کم فرمایا کہ کچھ پانی باقی رہ گیا فرمایا اس برتن کو ہمارے لیے سنبھال کر رکھنا کہ اس سے ایک قابل حکایت معجزہ ہوگا۸؎پھر جناب بلال نے نماز کی اذان کہی ۹؎پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے دو رکعتیں پڑھیں پھر فجر کے فرض پڑھے۱۰؎اور سوار ہوگئے ہم حضور کے ساتھ سوار ہوئے تو ہم لوگوں تک اس وقت پہنچے جب دن چڑھ گیا ۱۱؎اور ہر چیز گرم ہوگئی لوگ کہہ رہے تھے یا رسول اہم ہلاک ہوگئے ہم پیاسے ہو گئے ۱۲؎تو فرمایا تم پر ہلاکت نہ آئے گی اور وضو کا برتن منگایا تو آپ انڈیلنے لگے اور ابوقتادہ لوگوں کو پلانے لگے دیر نہ ہوئی تھی کہ لوگوں نے برتن میں پانی دیکھ لیا لوگ اس پر ٹوٹ پڑے۱۳؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اخلاق اچھے رکھو تم سب سیر ہوجاؤ گے ۱۴؎راوی نے فرمایا کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا ۱۵؎پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم انڈیلنے لگے اور میں پلانے لگا حتی کہ میرے اور رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے سوا کوئی باقی نہ رہا ۱۶؎پھر انڈیلا مجھ سے فرمایا پیؤ میں نے عرض کیا میں نہیں پیوں گا حتی کہ یارسول اصلی اللہ علیہ و سلم آپ پی لیں تو فرمایا قوم کو پلانے والا آخر میں ہوتا ہے ۱۷؎فرمایا تو میں نے پیا اور حضور نے پیا،فرمایا راوی نے کہ لوگ پانی پر پہنچے خوب سیرکر راحت یافتہ ۱۸؎(مسلم)ان کی صحیح میں یوں ہی ہے اور ایسے ہی ہے کتاب حمیدی اور جامع الاصول میں اور مصابیح میںآخرھمکے بعد لفظشربازیادہ فرمایا ۱۹؎

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِّيَتَكُمْ وَلَيْلَتَكُمْ وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ غَدًا فَانْطَلَقَ النَّاسُ لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلٰى أَحَدٍ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حَتّٰى ابْهَارَّ اللَّيْلُ فَمَالَ عَنِ الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهٗ ثُمَّ قَالَ احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهٖ ثُمَّ قَالَ ارْكَبُوا فَرَكِبْنَا فَسِرْنَا حَتّٰى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَةٍ كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ قَالَ وَبَقِيَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ احْفَظْ عَلَيْنَا مِيضَأَتَكَ فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلّٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى الغَدَاةَ وَرَكِبَ وَرَكِبْنَا مَعَهٗ فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ وَحَمِيَ كُلُّ شَيْءٌ وَهُمْ يَقُولُونَ يَارَسُولَ اللّٰهِ هَلَكْنَا وَعَطِشْنَا فَقَالَ لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ فَجَعَلَ يَصُبُّ وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِي الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ كُلُّكُمْ سَيَرْوِى قَالَ فَفَعَلُوا فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ حَتّٰى مَا بَقِيَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ فَقَالَ لِيَ اشْرَبْ فَقُلْتُ لَا أَشْرَبُ حَتّٰى تَشْرَبَ يَا رَسُولَ الله قَالَ إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ قَالَ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ قَالَ فَأَتَى النَّاسُ الْمَاءَ جَامِّينَ رِوَاءً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ هَكَذَا فِي صَحِيحِهٖ وَكَذَا فِي "كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ" وَ"جَامعِ الأُصُولِ"، وَزَادَ فِي "الْمَصَابِيحِ" بَعْدَ قَوْلِهِ: "آخِرُهُمْ" لَفْظَةَ: "شُرْبًا"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5911 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا کہ جب غزوہ تبوک کا دن ہوا تو لوگوں کو بھوک نے گھیرلیا ۱؎جناب عمر نے عرض کیا یارسول اان لوگوں سے ان کے بچے ہوئے تو شے منگائیے پھر ان کے لیے اسے اس کھانے پر برکت کی دعا کیجئے فرمایا ہاں ۲؎چنانچہ دستر خوان منگایا اسے بچھایا پھر ان کے بچے ہوئے توشے منگائے تو کوئی شخص ایک مٹھی جوار لانے لگا اور کوئی ایک مٹھی چھوہارے اور کوئی دوسرا روٹی کا ٹکڑا ۳؎حتی کہ دستر خوان پر تھوڑی سی چیز جمع ہوگئی ۴؎پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے برکت کی دعا کی پھر فرمایا کہ اسے اپنے برتنوں میں لے لو ۵؎چنانچہ لوگوں نے اپنے برتنوں میں لے لیا حتی کہ لشکر میں کوئی برتن نہ چھوڑا مگر اسے بھر لیا پھر کھایا حتی کہ سیر ہوگئے اور باقی بچ رہا۶؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اکے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اکا رسول ہوں ۷؎کوئی بندہ اس گواہی کو لے کر اسے نہ ملے گا جب کہ شک نہ کرے پھر وہ جنت سے حجاب میں بھی رہے ۸؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ غَزْوَةِ تَبُوكَ، أَصَابَ النَّاسُ مَجَاعَةٌ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ اللّٰهَ لَهُمْ عَلَيْهًا بِالْبَرَكَةِ فَقَالَ: نَعَمْ قَالَ فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكِسْرَةٍ حَتّٰى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ شَيْءٌ يَسِيرٌ فَدَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ خُذُوا فِي أَوْعِيتِهِمْ فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتّٰى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وعَاءً إِلَّا مَلَؤُوهُ قَالَ فَأَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوا وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللّٰهِ لَا يَلْقَى اللّٰهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرُ شاكٍّ فَيُحْجَبُ عَنِ الْجنَّةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5912 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جناب زینب کے نکاح میں نوشاہ تھے ۱؎میری ماں ام سلیم نے کچھ چھوارے گھی اور چیز کا ارادہ کیا اس سے حلوہ بنایا اسے ایک پیالہ میں ڈالا ۲؎بولیں اے انس یہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لے جاؤ عرض کرو کہ میری ماں نے یہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے وہ آپ کو سلام کہتی ہیں اور عرض کرتی ہیں کہ یہ آپ کے لیے ہماری طرف سے تھوڑا سا ہدیہ ہے ۳؎اے اکے رسول چنانچہ میں گیا اور میں نے یہ کہا فرمایا اسے رکھ دو ۴؎پھر فرمایا جاؤ ہمارے پاس فلاں فلاں کو اور فلاں کو بلا لاؤ جن کا حضور نے نام لیا اور جس سے تم ملو ہمارے پاس بلا لاؤ ۵؎میں انہیں بھی بلا لایا جس کا نام لیا تھا اور اسے بھی جس سے میں ملا پھر میں لوٹا تو گھر حاضرین سے بھرا ہوا تھا ۶؎جناب انس سے کہا گیا کہ کتنے شمار کے لوگ تھے فرمایا قریبًا تین سو ۷؎پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ اس حلوہ پر ہاتھ رکھا اور جو انے چاہا وہ پڑھا ۸؎پھر حضور دس دس کو بلانے لگے وہ اس سے کھانے لگے حضور ان سے فرماتے تھے کہ اکا نام لو اور ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے ۹؎فرمایا کہ لوگوں نے کھایا حتی کہ سیر ہوگئے ایک ٹولہ نکلتا تھا دوسرا ٹولہ آتا تھا حتی کہ سب نے کھالیا پھر مجھ سے حضور نے فرمایا اے انس اٹھالو میں نے اٹھالیا جب اٹھایا تو مجھے پتہ نہیں کہ جب رکھا گیا تھا جب زیادہ تھا یا جب اٹھایا گیا ۱۰؎(مسلم،بخاری)

وَعَن أَنَسٍ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَعَمَدَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلٰى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ فَصَنَعَتْ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ فَقَالَتْ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهٰذَاإِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ بَعَثَتْ بِهٰذَاإِلَيْكَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَتَقُولُ إِنَّ هٰذَالَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ الله قَالَ فَذَهَبْتُ فَقُلْتُ فَقَالَ ضَعْهُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا رِجَالًا سَمَّاهُمْ وَادْعُ مَنْ لَقِيتَ فَدَعَوْتُ مَنْ سَمّٰى وَمَنْ لَقِيتُ فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهٖ قِيلَ لِأَنَسِ: عَدَدُكُمْ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: زُهَاءُ ثَلَاثُ مِئَةٍ. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهٗ عَلٰى تِلْكَ الْحَيْسَةِ وَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً يَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَقُولُ لَهُم: "اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ» قَالَ: فَأَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوا. فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتّٰى أَكَلُوا كُلُّهُمْ قَالَ لِي يَا أَنَسُ ارْفَعْ. فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5913 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد کیا میں اونٹ پر تھا ۱؎جو تھک گیا تھا تو وہ چل سکتا نہ تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ملے فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوا میں نے کہا کہ تھک گیا ہے تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم پیچھے چلے اونٹ کو ڈانٹا پھر اس کے لیے دعا کی ۲؎تو وہ دوسرے اونٹ کے آگے چلنے لگا ۳؎پھر مجھ سے فرمایا اپنے اونٹ کو کیسا دیکھتے ہو میں نے کہا خیریت سے ہے اسے آپ کی برکت پہنچ گئی فرمایا ۴؎تو کیا تم اسے ایک اوقیہ میں میرے ہاتھ فروخت کرو گے ۵؎تو میں نے اونٹ حضور کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کردیا کہ مجھے مدینہ تک اس کی پشت پر سواری کا حق ہو ۶؎جب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے میں صبح کو آپ کے پاس لے گیا مجھے حضور نے اس کی قیمت بھی دی اور اونٹ بھی لوٹا دیا ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ قَدْ أَعْيَا، فَلَا يَكَادُ يَسِيرُ، فَتَلَاحَقَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِبَعِيرِكَ؟ " قُلْتُ: قَدْ عَيِيَ، فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَجَرَهُ فَدَعَا لَهٗ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ فَقَالَ لِي: "كَيْفَ تَرَى بِعِيرَكَ؟ قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ قَالَ أَفَتَبِيعُنِيهِ بِوُقِيَّةٍ. فَبِعْتُهٗ عَلٰى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهٖ حَتَّى المَدِينَةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ عَلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ ٗ وَرَدَّهُ ٗ عَليّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5914 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابو حمید ساعدی سے فرماتے ہیں ہم رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں گئے تو وادی قری میں ایک عورت کے باغ پر پہنچے ۱؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس باغ میں پھلوں کا اندازہ لگاؤ ۲؎ہم نے لگایا اور رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے دس وسق اندازہ لگایا ۳؎اور اس عورت سے کہا کہ اس کا وزن خیال رکھنا حتی کہ ہم تجھ تکان شاءاللهواپس ہوں ۴؎ہم چلے گئے حتی کہ تبوک پہنچ گئے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آج رات تم پر سخت ہوا چلے گی تو اس میں کوئی کھڑا نہ ہو جس کے پاس اونٹ ہو وہ اس کی رسی مضبوط باندھ دے ۵؎چنانچہ بہت سخت ہوا چلی ایک شخص کھڑا ہوگیا اسے ہوا نے اٹھالیا حتی کہ اسے طی کے پہاڑوں پر پھینک دیا ۶؎پھر ہم آئے حتی کہ وادی قریٰ پہنچے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اس عورت سے اس کے باغ کے متعلق پوچھا کہ اس کے پھل کس حد تک پہنچے وہ بولی دس وسق ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي حُمَيدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرٰى عَلٰى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْرُصُوهَا» فَخَرَصْنَاهَا وَخَرَصَهَا رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ وَقَالَ: «أَحْصِيهَا حَتّٰى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» وَانْطَلَقْنَا حَتّٰى قَدِمْنَا تَبُوكَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ فَمَنْ كَانَ لَهٗ بَعِيرٌ فَلْيَشُدَّ عِقَالَهٗ» فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتّٰى اَلقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتّٰى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرٰى فَسَأَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا؟ " فَقَالَتْ: عَشْرَةُ أَوْسُقٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5915 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم مصر فتح کرو گے ۱؎وہ وہ جگہ ہے جس میں قیراط کا بہت نام لیا جاتا ہے ۲؎تو جب تم اسے فتح کرو تو اس کے باشندوں سے بھلائی کرنا ۳؎کیونکہ اس کا احترام ہے اور قرابت داری ہے یا فرمایا کہ سسرالی رشتہ ہے ۴؎پھر جب تم دو شخصوں کو اینٹ بھر جگہ میں جھگڑتے دیکھو تو وہاں سے نکل جانا ۵؎راوی نے فرمایا کہ میں نے عبدالرحمن ابن شرحبیل ابن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو دیکھا گیا کہ وہ ایک ایک اینٹ بھر جگہ میں جھگڑ رہے تھے تو میں وہاں سے نکل گیا۶؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمّٰى فِيهَا الْقِيرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلٰى أَهْلِهَا فَإِنَّ لَهَا ذِمَّةً وَرَحِمًا أَوْ قَالَ: ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا ". قَالَ: فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ شُرَحْبِيلِ بْنِ حَسَنَةَ وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5916 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت حذیفہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میرے ساتھیوں میں اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا کہ میری امت میں بارہ منافق ہیں۔۱؎جو جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے حتی کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجاوے ۲؎ان میں سے آٹھ وہ ہیں جنہیں ایک پھوڑا ہی کافی ہوگا آگ کا شعلہ جو ان کے کندھوں میں ظاہر ہوگا حتی کہ ان کے سینوں میں پار ہوجاوے گا ۳؎(مسلم)ہم سہل ابن سعد کی حدیث کہ میں یہ جھنڈا کل دوں گا جناب علی رضی اعنہ کے فضائل میں ذکر کریں گے اور حضرت جابر کی حدیث کہ جو اس گھاٹی پر چڑھ جاوےان شاءاﷲ جامع المناقبباب میں ہم ذکر کریں گے۔

وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي أَصْحَابِي وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَايَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُم تَكْفِيهِمُ الدُّبَيْلَةُ: سِرَاجٌ مِنْ نَارٍ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتّٰى تَنْجُمَ فِي صُدُورِهِمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: «لَأُعْطِيَنَّ هٰذِهِ الرَّايَةَ غَدًا» فِي«بَابِ مَنَاقِبِ عَلِيٍّ» رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ وَحَدِيثَ جَابِرٍ «مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ» فِي «بَابِ جَامِعِ الْمَنَاقِبِ» إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5917 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں کہ ابو طالب شام کی طرف گئے ان کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے سرداروں کی جماعت میں تشریف لے گئے ۱؎جب وہ اس راہب پر پہنچے تو اترے اپنی سواریاں کھولیں ۲؎ان کے پاس وہ راہب آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس پر گزرتے تھے وہ ان کے پاس نہ آتا تھا ۳؎فرمایا کہ لوگ اپنے سامان کھول رہے تھے راہب ان لوگوں کے درمیان گھسنے لگا ۴؎حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا بولا یہ تمام نبیوں کے سردار ہیں یہ رب العالمین کے رسول ہیں اللہ انہیں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا۵؎تو سرداران قریش نے اس سے کہا کہ تجھے کیسے علم ہوا ۶؎وہ بولا کہ تم جب اس گھاٹی سے سامنے آئے تو کوئی درخت پتھر نہ رہا مگر وہ سجدے میں گر گیا۷؎یہ مخلوق نبی کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتی ۸؎اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو ان کے کندھے کی ہڈی کے نیچے سیب کی طرح ہے ۹؎پھر وہ لوٹ گیا ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کیا جب ان لوگوں کے پاس کھانا لایا اور حضور اونٹ چرانے میں مشغول تھے تو بولا انہیں بلا بھیجو ۱۰؎چنانچہ آپ آئے آپ پر بادل تھا جو سایہ کررہا تھا ۱۱؎جب آپ قوم سے قریب ہوئے تو ان کو درخت کے سایہ میں پہلے پہنچا ہوا پایا جب حضور بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ۱۲؎وہ بولا دیکھو درخت کا سایہ کہ آپ پر جھک گیا پھر بولا میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ان کا ولی کون ہے لوگوں نے کہا ابو طالب ہیں وہ انہیں قسمیں دیتا رہا حتی کہ حضور کو ابوطالب نے لوٹا دیا ۱۳؎اور حضور کے ساتھ ابوبکر نے بلال کو بھیجا ۱۴؎اس راہب نے آپ کو بسکٹ اور تیل کا توشہ دیا ۱۵؎(ترمذی)

عَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: خَرَجَ أَبُو طَالِبٍ إِلَى الشَّامِ وَخَرَجَ مَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَاخٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَشْرَفُوا عَلَى الرَّاهِبِ هَبَطُوا فَحَلُّوا رِحَالَهُمْ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الرَّاهِبُ وَكَانُوا قَبْلَ ذٰلِكَ يَمُرُّونَ بِهٖ فَلَا يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ قَالَ فَهُمْ يَحُلُّونَ رِحَالَهُمْ فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُهُمُ الرَّاهِبُ حَتّٰى جَاءَ فَأَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هٰذَاسَيِّدُ الْعَالَمِينَ هٰذَارسولُ ربِّ الْعَالِمِينَ يَبْعَثُهُ اللّٰهُ رَحْمَةً لِلْعَالِمِينَ فَقَالَ لَهٗ أَشْيَاخٌ مِنْ قُرَيْشٍ مَا عِلْمُكَ فَقَالَ إِنَّكُمْ حِينَ أَشْرَفْتُمْ مِنَ الْعَقَبَةِ لَمْ يَبْقَ شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا وَلَا يَسْجُدَانِ إِلَّا لِنَبِيٍّ وَإِنِّي أَعْرِفُهٗ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوفِ كَتِفِهٖ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا أَتَاهُمْ بِهٖ وَكَانَ هُوَ فِي رِعْيَةِ الْإِبِلِ فَقَالَ أَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهٗ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْقَوْم وَجَدَهُمْ قَدْ سَبقُوهُ إِلَى فَيْءِ شَجَرَةٍ فَلَمَّا جَلَسَ مَالَ فَيْءُ الشَّجَرَةِ عَلَيْهِ فَقَالَ انْظُرُوا إِلٰى فَيْءِ الشَّجَرَةِ مَالَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللّٰهِ أَيُّكُمْ وَلِيُّهٗ قَالُوا أَبُو طَالِبٍ فَلَمْ يَزَلْ يُنَاشِدُهٗ حَتّٰى رَدَّهٗ أَبُو طَالِبٍ وَبَعَثَ مَعَهٗ أَبُو بَكْرٍ بِلَالًا وَزَوَّدَهُ الرَّاهِبُ مِنَ الْكَعْكِ وَالزَّيْتِ.
(علق الشَّيْخ أَن ذكر بِلَال فِي الحَدِيث خطأ إِذْ لم يكن خلق بعد)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5918 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت علی ابن ابی طالب سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا ہم اس کے بعض اطراف میں گئے ۱؎تو کوئی درخت پتھر آپ کے سامنے نہ آیا مگر وہ کہتا تھا یارسول اللہ آپ پر سلام ہوا ۲؎(ترمذی،ودارمی)

وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا فَمَا اسْتَقْبَلَهٗ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5919 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس رات جس رات میں معراج کرائی گئی براق لایا گیا لگام و زین دیا ہوا تو آپ پر اس نے سرکش کی۱؎تو اس سے جبریل نے کہا کہ کیا محمد کے ساتھ تو یہ کرتا ہے ۲؎ان سے زیادہ اللہ کے نزدیک عزت والا تجھ پر کوئی نہیں سوار ہوا ۳؎فرمایا وہ پسینہ سے نچوڑ گیا(۴)(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهٖ مُلْجَمًا مُسْرَجًا، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهٗ جِبْرَئِيلُ: أَبِمُحَمَّدٍ تَفْعَلُ هٰذَا ؟قَالَ: فَمَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللّٰهِ مِنْهُ قَالَ: فَارْفَضَّ عَرَقًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5920 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب ہم بیت المقدس تک پہنچتے تو جبریل نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا جس سے پتھر چرگیا اس سے براق باندھا ۱؎(ترمذی)

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلٰى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ جِبْرَئِيلُ بِأُصْبُعِهٖ فَخَرَقَ بِهَا الْحَجَرَ فَشَدَّ بِهِ الْبُرَاقَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5921 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن مرہ ثقفی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزیں دیکھیں جب کہ ہم حضور کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ایک اونٹ پر گزرے جس پر پانی دیا جارہا تھا۲؎تو جب حضور کو اونٹ نے دیکھا تو چیخا اپنی گردن رکھ دی۳؎اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے،فرمایا اس اونٹ کا مالک کہاں ہے وہ حضور کے پاس آیا فرمایا اسے میرے ہاتھ بیچ دے۴؎اس نے کہا یارسول اللہ ہم یہ حضور کو ہبہ کرتے ہیں یہ ایسے گھر والوں کا ہے جن کے پاس اس کے سوا کوئی ذریعہ معاش نہیں ۵؎فرمایا جب تم نے اس کا یہ حال بیان کیا تو اس نے زیادتی کام اور چارہ کی کمی کی شکایت کی تم اس سے اچھا سلوک کرو ۶؎پھر ہم چلے حتی کہ ایک منزل میں اترے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے ایک درخت زمین چیرتا ہوا آیا حتی کہ آپ پر سایہ کرلیا پھر اپنی جگہ لوٹ گیا۷؎پھر جب بیدار ہوئے تو میں نے حضور سے یہ ذکر کیا فرمایا یہ وہ درخت ہے جس نے اپنے رب سے یہ اجازت چاہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے تو اسے اجازت دے دی ۸؎راوی نے کہا کہ پھر ہم ایک گھاٹ پر گزرے تو آپ کے پاس ایک عورت اپنا بچہ لائی جسے دیوانگی تھی ۹؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بانسہ پکڑا پھر فرمایا کہ نکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۱۰؎پھر ہم چلے تو جب لوٹے تو اس گھاٹ پر گزرے اس سے بچہ کے متعلق پوچھا وہ بولی اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا آپ کے بعد ہم نے اس سے کوئی شبہ کی چیز نہ دیکھی ۱۱؎(شرح سنہ)

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ رَأَيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَهٗ إِذ مَرَرْنَا بِبَعِيرٍ يُسْنٰى عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيرُ جَرْجَرَ فَوَضَعَ جِرَانَهٗ فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُ هٰذَاالْبَعِيرِ فَجَاءَهٗ فَقَالَ بِعْنِيهِ فَقَالَ بَلْ نَهَبُهٗ لَكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَإِنَّهٗ لِأَهْلِ بَيْتٍ مَا لَهُمْ مَعِيشَةٌ غَيْرُهٗ قَالَ أَمَّا إِذْ ذَكَرْتَ هٰذَامِنْ أَمْرِهٖ فَإِنَّهٗ شَكَا كَثْرَةَ الْعَمَلِ وَقِلَّةَ العَلَفِ فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ قَالَ ثُمَّ سِرنَا حَتَّى نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتّٰى غَشِيَتْهُ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلٰى مَكَانِهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ لَهٗ فَقَالَ هِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا أَنْ تُسَلِّمَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا بِهٖ جِنَّةٌ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْخِرِهٖ فَقَالَ اخْرُجْ فَإِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا، فَلَمَّا رَجعْنَا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَاءَ فَسَأَلَهَا عَنِ الصَّبِيِّ فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْنَا مِنْهُ ريبًا بَعْدَكَ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5922 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ایک عورت اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی بولی یا رسول اللہ میرے اس بچہ کو دیوانگی ہے اور اسے جنون شام سویرے پکڑتا ہے۱؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی اسے قے ہوئی اور اس کے پیٹ سے کالا سا پلا سا نکلا جو چلتا تھا ۲؎(دارمی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِابْنٍ لَهَا إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ ابْنِي بِهٖ جُنُونٌ وَأَنَّهٗ لَيَأْخُذُهٗ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا (فَيَخْبُثُ عَلَيْنَا)فَمَسَحَ رَسُولُ اللّٰهِ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهٗ وَدَعَا فَثَعَّ ثَعَّةً وَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهٖ مِثْلُ الْجِروِ الأَسْوَدِ يسْعٰى. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5923 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے جب کہ آپ غمگین بیٹھے تھے مکہ والوں کی ایذا رسانی کی وجہ سے کہ خون سے رنگین تھے۱؎عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو ایک نشان دکھاؤں ۲؎فرمایا ہاں انہوں نے آپ کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا عرض کیا اسے بلائیے۔حضور نے اسے بلایا وہ آگیا آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا ۳؎پھر عرض کیا اسے حکم دیجئے کہ لوٹ جائے حضور نے اسے حکم دیا وہ لوٹ گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کافی ہے ۴؎(دارمی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ، قَدْ تَخَضَّبَ بِالدَّمِ مِنْ فِعْلِ أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ تُحِبُّ أَنْ نُرِيَكَ آيَةً؟ قَالَ نَعَمْ فَنَظَرَ إِلٰى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَائِهٖ فَقَالَ ادْعُ بِهَا فَدَعَا بِهَا فَجَاءَتْ وَقَامَت بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْبِي حَسْبِي. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5924 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک بدوی آیا جب قریب ہوا تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں ۱؎اور یہ کہ حضور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں وہ بولا جو آپ کہتے ہیں اس پر گواہی کون دیتا ہے ۲؎فرمایا یہ درخت خار دار ۳؎اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا وہ جنگل کے کنارہ پر تھا وہ زمین چیرتا ہوا آیا حتی کہ آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا پھر حضور نے اس سے تین بار گواہی لی اس نے تین بار گواہی دی ۴؎کہ حضور ویسے ہی ہیں جیسے انہوں نے فرمایا پھر اپنے جھاڑی کی طرف لوٹ گیا ۵؎(دارمی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ فَلَمَّا دَنَا قَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولَهٗ قَالَ وَمَنْ يَشْهَدُ عَلٰى مَا تَقُولُ؟ قَالَ: «هَذِهٖ السَّلَمَةُ» فَدَعَاهَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ حَتّٰى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلَاثًا فَشَهِدَتْ ثَلَاثًا أَنَّهٗ كَمَا قَالَ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَنْبتَهَا. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5925 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا میں کیسے پہچانوں کہ آپ نبی ہیں ۱؎فرمایا اگر میں اس خوشہ کو اس درخت سے بلاؤں تو وہ گواہی دے گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۲؎چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا وہ کھجور کے درخت سے اترنے لگا حتٰی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گرگیا پھر فرمایا لوٹ جاؤ وہ لوٹ گیا ۳؎یہ دیہاتی مسلمان ہوگیا ۴؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بِمَا أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ قَالَ: «إِنْ دَعَوْتَ هٰذَاالْعِذْقَ مِنْ هَذِهٖ النَّخْلَةِ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللّٰهِ» فَدَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتّٰى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعْ» فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5926 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک بھیڑیا کسی بکریوں کے چرواہے کی طرف گیا ان میں سے ایک بکری پکڑی اسے چرواہے نے تلاش کیا حتیٰ کہ بکری کو اس سے چھڑالیا ۱؎فرمایا کہ بھیڑیا ٹیلہ پر چڑھ گیا ہےوہاں بیٹھ گیا اور دم دبالی اور بولا کہ میں نے اس روزی کا ارادہ کیا جو مجھے اللہ نے دی میں نے اسے لیا پھر تو نے وہ مجھ سے چھین لی ۲؎تو یہ شخص بولا اللہ کی قسم میں نے آج جیسا واقعہ کبھی نہ دیکھا بھیڑیا باتیں کررہا ہے ۳؎تو بھیڑیا بولا کہ اس سے عجیب تو یہ ہے کہ ایک صاحب دو پہاڑوں کے بیچ کھجوروں کے جھنڈوں میں ۴؎تم کو ساری گزشتہ اور آنے والی باتوں کی خبر دے رہے ہیں ۵؎وہ شخص یہودی تھا ۶؎وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو آپ کو یہ خبر دی اور مسلمان ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ یہ قیامت کے آگے نشانیاں ہیں ۷؎قریب ہے کہ ایک شخص نکلے گا تو نہ بولے گا حتیٰ کہ اس کے جوتے اور اس کا کوڑا اسے ان باتوں کی خبریں دیں گے جو اس کے پیچھے اس کے گھر والوں نے کیں ۸؎(شرح سنہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ ذِئْبٌ إِلٰى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتّٰى انْتَزَعَهَا مِنْهُ قَالَ فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ فَأَقْعَى وَاسْتَثْفَرَ، وَقَالَ: قَدْ عَمَدْتُ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللّٰهُ أَخَذْتُهُ، ثُمَّ انْتَزَعْتَهٗ مِنِّي فَقَالَ الرَّجُلُ تَاللّٰهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ الذِّئْبُ أَعْجَبُ مِنْ هٰذَارَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضٰى وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهٗ، وَأَسْلَمَ، فَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِنَّهَا أَمَارَاتٌ بَيْنَ يَدَي السَّاعَةِ، ، قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى يُحَدِّثَهٗ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهٗ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهٗ بَعْدَهٗ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5927 ، باب : معجزات کابیان