- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
- باب : معجزات کابیان
باب : معجزات کابیان
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت عباس سے فرماتے ہیں کہ میں حنین کے دن رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حاضر ہوا ۱؎تو جب مسلمان و کفار بھڑ پڑے تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے ۲؎تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کفار کی طرف اپنے خچر کو ایڑھ ماررہے تھے میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے خچر کی لگام پکڑے تھا ۳؎اسے روک رہا تھا کہ کہیں تیز نہ چل پڑے۴؎اور ابوسفیان ابن حارث ۵؎رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی رکاب پکڑے ہوئے تھے ۶؎تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے عباس بیعت الرضوان والوں کو پکارو ۷؎تو جناب عباس نے کہا اور وہ تھے بہت بلند آواز ۸؎آپ نے اپنی بلند آواز سے پکارا کہ بیعت رضوان والے کہاں ہیں فرمایا اﷲکی قسم گویا جب انہوں نے میری آواز سنی تو میں نے انہیں ایسے پھیرلیا جیسے گائے اپنے بچوں پر موڑتی ہے ۹؎وہ بولے ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں حضور نے فرمایا کفار سے جنگ کرو انصار کے متعلق پکار یہ تھی کہ کہتے تھے اے گروہ انصار اے گروہ انصار راوی نے فرمایا کہ پھر بنی حارث ابن خزرج پر بلاوا محدود ہوگیا۱۰؎تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے نظر دوڑائی حالانکہ آپ اپنے خچر پر تھے گویا آپ اس پر جہاد کفار کے منتظر تھے ۱۱؎تو فرمایا کہ یہ لڑائی گرم ہونے کا وقت ہے۱۲؎پھر چند کنکریاں لیں وہ کفار کے منہ کی طرف پھینکیں پھر فرمایا قسم رب محمد کی یہ بھاگ نکلے۱۳؎تو خدا کی قسم کچھ نہ ہوا سوا اس کے کہ حضور نے ان پر کنکریاں پھینکیں میں دیکھتا رہا ان کی دھار کنداور ان کا معاملہ ذلت والا ۱۴؎(مسلم)
وَعَنْ عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَى المُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى المُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهٗ قِبَلَ الْكُفَّارِ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لَا تُسْرِعَ وَأَبُو سُفْيَانَ بنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ فَقَالَ عَبَّاسٌ وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلٰى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ فَقَالَ وَاللّٰهِ لَكَأَنَّ عَطَفْتُهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةَ الْبَقَرِ عَلٰى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ قَالَ فَاقْتَتِلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلٰى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلٰى بَغْلَتِهٖ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلٰى قِتَالِهِمْ فَقَالَ حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ ثُمَّ أَخَذَ حَصَيَاتٍ فَرَمٰى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ فَوَاللّٰهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهٖ فَمَا زِلْتُ أَرٰى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5888 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت ابو اسحاق سے ۱؎کہ کسی نے حضرت براء سے کہا کہ اے ابو عمارہ تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے ۲؎تو فرمایا نہیں خدا کی قسم رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے پیٹھ نہیں پھیری ۳؎لیکن حضور کے نوجوان صحابہ اس طرح گئے تھے کہ ان کے پاس بہت سے ہتھیار نہ تھے ۴؎تو وہ تیر انداز قوم سے ملے جس کا کوئی تیر زمین پر گرتا نہ تھا۵؎تو انہوں نے مسلمانوں کو زخمی کردیا ان کے تیر خطا نہیں کرتے تھے تب وہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف بڑھے اور رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سفید خچر پر تھے ۶؎اور ابوسفیان ابن حارث آپ کے خچر کو کھینچ رہے تھے ۷؎تب حضور اترے فتح کی دعا کی اور فرمایا میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں ۸؎پھرمسلمانوں کی صفیں بنائیں ۹؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي إِسحَاقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَا وَاللّٰهِ مَا وَلِيُّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنْ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهٖ لَيْسَ عَلَيْهِمْ كَثِيرُ سِلَاحٍ فَلَقَوْا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُهٗ فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبَ أَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبْ ثُمَّ صَفَّهُمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.وَلِلْبُخَارِيِّ مَعْنَاهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5889 ، باب : معجزات کابیان
اور بخاری کی روایت میں ہے کہ اس کے معنی ہیں ان دونوں کی روایت میں ہے کہ براء کہتے ہیں خدا کی قسم جب جنگ سخت ہوتی تھی تو ہم حضور کی پناہ لیتے تھے ۱؎اور ہم میں بہادر وہ تھا جو ان کے یعنی صلی اﷲعلیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوتا ۲؎
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ الْبَرَاءُ كُنَّا وَاللّٰهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهٖ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِي بِهٖ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5890 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرمایا ہم نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ حنین کیا تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی پیٹھیں پھر گئیں پھر جب کفار نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو گھیر لیا ۲؎تو آپ خچر سے اترے پھر زمین سے مٹی کی مٹھی لی پھر اسے کفار کے چہروں کے سامنے کیا پھر فرمایا بگڑ گئے یہ چہرے ۳؎تو ان میں سے اﷲنے کوئی انسان نہ پیدا فرمایا مگر اﷲنے اس کی آنکھیں اس مٹھی کی مٹی سے بھردیں پھر وہ پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے ۴؎اﷲنے انہیں شکست دے دی اور رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی غنیمتیں مسلمانوں میں تقسیم فرمائیں ۵؎(مسلم)
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَوَلّٰى صَحَابَةُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهٖ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ شَاهَتِ الْوُجُوهُ فَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمُ اللهُ وَقَسَمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنائِمَهُمْ بَينَ الْمُسْلِمِينَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5891 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حنین میں حاضر ہوئے تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھ والوں میں سے ایک شخص کے متعلق فرمایا ۱؎جو دعویٰ اسلام کرتا تھا ۲؎کہ یہ دوزخ والوں میں سے ہے ۳؎تو جب جنگ کا وقت آیا تو اس شخص نے سخت جہاد کیا اور اس کو زخم بہت آئے تو وہ آیا عرض کیا یارسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم غور تو فرمایئے کہ جس کے متعلق حضور نے خبر دی تھی کہ دوزخی ہے اس نے تو اﷲکی راہ میں سخت جہاد کیا حتی کہ اس کو بہت زخم پہنچے ۴؎تو فرمایا آگاہ رہو وہ ہے دوزخی ۵؎قریب تھا کہ بعض لوگ تردد کرجائیں ۶؎تو جب وہ اسی حال میں تھا کہ اس نے زخم کی تکلیف بہت محسوس کی تو اپنا ہاتھ اپنے ترکش کی طرف بڑھایا ایک تیر نکالا اس سے اپنے کو ذبح کرلیا۷؎تو کچھ مسلمان رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف دوڑے بولے یارسول اﷲرب تعالٰی نے آپ کی بات سچی کردی ۸؎فلاں شخص نے اپنے کو ذبح کرلیا اور خودکشی کر لی تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲاکبر ۹؎میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اﷲکا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۱۰؎اے بلال اٹھو اعلان کرو کہ جنت میں نہ جائے گا مگر مؤمن ۱۱؎اور اﷲتعالٰی اس دین کو فاسق آدمی سے بھی قوت دے گا۱۲؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهٗ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ هٰذَامِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ مِنْ أَشَدِّ الْقِتَالِ وَكَثُرَتْ بِهِ الْجَرَاحُ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ الله أَرأيتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّهٗ مِنْ أَهْلِ النَّارِ قَدْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ مِنْ أَشَدِّ الْقِتَالِ فَكَثُرَتْ بِهِ الْجَرَاحُ فَقَالَ أَمَّا إِنَّهٗ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ فَبَيْنَمَا هُوَ عَلٰى ذٰلِكَ إِذْ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجَرَاحِ فَأَهْوٰى بِيَدِهٖ إِلٰى كِنَانَتِهٖ فَانْتَزَعَ سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهَا فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللّٰهِ صَدَّقَ اللّٰهُ حَدِيثَكَ قَدِ انْتَحَرَ فُلَانٌ وَقَتَلَ نَفْسِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللّٰهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهٗ يَا بِلَالُ قُمْ فَأَذِّنْ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَإِنَّ اللّٰهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِر. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5892 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم پر جادو کیا گیا ۱؎حتی کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ آپ نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ کیا نہ ہوتا تھا۲؎حتی کہ جب ایک دن حضور سرکار میرے پاس تھے تو اﷲسے دعا کی پھر دعا کی ۳؎پھر فرمایا کہ اے عائشہ کیا تمہیں خبر ہے کہ اﷲنے مجھے وہ بات بتادی جو میں نے اس سے پوچھی تھی ۴؎میرے پاس دو شخص آئے ان میں سے ایک تو میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا میرے پاؤ ں کے پاس ۵؎پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ان صاحب کو کیا بیماری ہے اس نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے ۶؎وہ بولا کس نے جادو کیا ہے کہا لبیدابن اعصم یہودی ۷؎نے بولا وہ جادو کس چیز میں کیا گیا کہا کنگھی اور بالوں میں اور نر کھجور کے غلاف شگوفہ میں ۸؎میں بولا تو وہ سامان کہاں ہے کہا ذروان کنویں میں ۹؎پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کے ساتھ اس کنویں تک گئے فرمایا یہ ہی وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ہے ۱۰؎اس کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح ہے اور گویا اس کے درخت سانپوں کے سر ہیں۱۱؎پھر حضور نے اسے نکلوایا ۱۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى إِنَّهٗ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهٗ فَعَلَ الشَّيْءَ وَمَا فَعَلَهٗ حَتّٰى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدِي دَعَا اللّٰهَ وَدَعَاهُ ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ اللّٰهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهٗ جَاءَنِي رجلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهٖ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ وَمَنْ طَبَّهٗ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ الْيَهُودِيُّ قَالَ فِي مَاذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهٖ إِلَى البِئْرِ فَقَالَ هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤُوسُ الشَّيَاطِينَ" فَاسْتَخْرَجَهٗ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5893 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھے آپ کچھ تقسیم فرمارہے تھے ۱؎کہ آپ کے پاس چھوٹی کوکھ والا ایک شخص آیا جو بنی تمیم سے تھا ۲؎بولا یارسول اﷲانصاف کیجئے ۳؎حضور نے فرمایا تیری خرابی ہو اگر میں انصاف نہ کروں تو کون کرے گا اگر میں انصاف نہ کروں تو تو خائب و خاسر ہوجاوے ۴؎تو جناب عمر نے کہا مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن ماردوں فرمایا اسے چھوڑ دو ۵؎کیونکہ اس کے کچھ ساتھی ہوں گے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ میں اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانے گا ۶؎وہ لوگ قرآن پڑھیں گے قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا۷؎دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۸؎کہ اس کی نوک اس کے پر اس کی قدح یعنی لکڑی اس کے نوک کے نیچے کو دیکھو تو اس میں کچھ نہیں پا جاتا ہے حالانکہ وہ گوبر اور خون میں سے گزرا ہے ۹؎ان کی نشانی ایک کالا آدمی ہے جس کے بازوں میں سے ایک بازو عورت کے پستان کی طرح ہوگا یا گوشت کی بوٹی کی طرح جو ہلتا ہو ۱۰؎یہ لوگ مسلمانوں کے بہترین فرقے کے خلاف خروج کریں گے ۱۱؎حضرت ابو سعید نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جناب علی ابن ابی طالب نے ان لوگوں پر جہاد کیا ۱۲؎میں آپ کے ساتھ تھا ۱۳؎تو آپ نے اس شخص کے متعلق حکم دیا وہ ڈھونڈا گیا اسے لایا گیا حتی کہ میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بتائی ہوئی علامت پر دیکھا ۱۴؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ایک شخص آیا دھنسی ہوئی آنکھیں ابھری پیشانی گھنی داڑھی اونچی کنپٹی والا سر منڈا ہوا ۱۵؎وہ بولا اے محمد اﷲسے ڈرو ۱۶؎تو فرمایا کہ اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اﷲکی اطاعت کون کرے گا مجھے اﷲتعالٰی زمین والوں پر امین بنائے اور تم مجھے امین نہ جانو ۱۷؎ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت مانگی ۱۸؎حضور نے منع فرمادیا جب وہ چلا گیا تو حضور نے فرمایاکہ اس کی پشت سے ایک قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی ۱۹؎قرآن ان کے گلے سے نہ اترے گا۲۰؎وہ اسلام سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ۲۱؎اگر میں انہیں پاؤ ں تو قوم عاد کی طرح قتل کروں ۲۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَة، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اعْدِلْ فَقَالَ وَيلك وَمن يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ قَدْ خِبْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ" فَقَالَ عُمَرُ: ائْذَنْ لِي أَضْرِبْ عُنُقَهٗ فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ لَهٗ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهٗ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهٗ مَعَ صِيَامِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ إِلٰى نَصْلِهٖ إِلٰى رُصَافِهٖ إِلٰى نَضِيِّهٖ وَهُوَ قِدْحُهُ الٰى قُذَذِهٖ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدٰى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى خَيْرِ فِرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هٰذَاالْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهٗ فَأَمَرَ بِذٰلِكَ الرَّجُلِ فالْتُمِسَ فَأُتِيَ بِهٖ حَتّٰى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلٰى نَعْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَهٗ وَفِي رِوَايَةٍ: أَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّد اتَّقِ اللهَ فَقَالَ: «فَمَنْ يُطِعِ اللّٰهَ إِذَا عَصَيْتُهٗ فَيَأْمَنُنِي اللّٰهُ عَلٰى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِّي» فَسَأَلَ رَجُلٌ قَتْلَهٗ فَمَنَعَهٗ فَلَمَّا وَلّٰى قَالَ:«إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هٰذَاقَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَيَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5894 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں اپنی ماں کو اسلام کی طرف بلاتا تھا وہ مشرکہ تھی ایک دن میں نے اسے دعوت دی ۱؎تو اس نے مجھے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق و ہ باتیں سنائیں جو میں ناپسند کرتا ہوں ۲؎تو میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں روتا ہوا گیا میں نے عرض کیا یا رسول اﷲرب سے دعا فرمائیں کہ وہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے حضور نے کہا اے اﷲابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے تومیں خوشی خوشی نکلا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا سے ۳؎تو جب میں دروازے تک پہنچا تو وہ بند تھا ۴؎میری ماں نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو بولیں اے ابوہریرہ وہاں ہی رہو اور میں نے پانی کی چھلک سنی انہوں نے غسل کیا پھر اپنی قمیص پہنی اور اپنے دوپٹہ سے جلدی کی ۵؎دروازہ کھولا پھر بولیں اے ابوہریرہ میں گواہی دیتی ہوں کہ اﷲکے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد اﷲکے بندے اور اس کے رسول ہیں تو میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف لوٹا میں خوشی سے رورہا تھاحضور نے اﷲکا شکر کیا اور دعا خیر کی ۶؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الإِسْلَامِ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي قُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ: ادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: «اللّٰهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ» . فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صِرْتُ إِلَى البَابِ فَإِذَا هُوَ مُجَافٍ فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَيَّ فَقَالَتْ مَكَانَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَة وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ قَالَ فَاغْتَسَلَتْ فَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا فَفَتَحَتِ الْبَابَ ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ فَرَجَعْتُ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي مِنَ الْفَرْحِ، فَحَمِدَ اللهَ وَقَالَ خَيْرًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5895 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے انہیں سے فرمایا تم کہتے ہو ۱؎کہ ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایات زیادہ کرتے ہیں ۲؎اور اﷲوعدہ والا ہے۳؎میرے مہاجر بھائیوں کو بازار میں چیخ پکار مشغول رکھتی تھی اور میرے انصاری بھائیوں کو ان کے مالوں میں کام کاج مشغول رکھتا تھا ۴؎میں ایک مسکین آدمی تھا۔رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کا دامن دل بھر کے پکڑے رہتا تھا۵؎ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ تم میں سے کوئی اپنا کپڑا پھیلا دے حتی کہ میں اپنا یہ کلام پورا کرلوں پھر وہ اپنے سینے سے لگائے پھر کبھی میرا کوئی کلام بھول جاوے ۶؎چنانچہ میں نے کمبل پھیلادیا مجھ پر اس کے سواء اورکوئی کپڑا نہ تھا ۷؎حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا کلام پورا کرلیا پھر میں نے وہ کمبل اپنے سینے سے لگالیا تو اس کی قسم جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں اپنے اس دن سے حضور کا کوئی فرمان نہ بھولا ۸؎(مسلم،بخاری)
وَعنهُ إِنَّكُمْ تَقُولُونَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللّٰهُ المَوْعِدُ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ وَكُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى مَلْءِ بَطْنِي وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: «لَنْ يَبْسُطَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ثَوْبَهٗ حَتّٰى أَقْضِيَ مَقَالَتِي هَذِهٖ ثُمَّ يَجْمَعَهٗ الٰى صَدْرِهٖ فَيَنْسٰى مِنْ مَقَالَتِي شَيْئًا أَبَدًا» فَبَسَطْتُ نَمِرَةً لَيْسَ عَلَيَّ ثَوْبٌ غَيْرَهَا حَتّٰى قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهٗ ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلٰى صَدْرِي فَوَالَّذِي بَعَثَهٗ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ مِنْ مقَالَتِهٖ تِلْكَ إِلٰى يَومِي هٰذَا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5896 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت جریر ابن عبداﷲسے ۱؎فرماتے ہیں مجھ سے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تم مجھ کو ذی الخلصہ سے راحت نہ دو گے ۲؎میں نے عرض کیا ہاں اور میں گھوڑے پر ٹھہر نہ سکتاتھا میں نے یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا تو حضور نے اپنا ہاتھ شریف میرے سینہ پر لگادیا حتی کہ میں نے آپ کے ہاتھ کا اثر اپنے سینے میں پایا ۳؎اور فرمایا الٰہی اسے ثابت رکھ اسے ہدایت دینے والا ہدایت یافتہ بنادے ۴؎فرمایا اس کے بعد اپنے گھوڑے سے نہ گرا ۵؎پھر وہ ڈیڑھ سو سواروں میں گئے جو قبیلہ احمس سے تھے۶؎ذی الخلصہ کو آگ سے جلا دیا اور اسے ڈھا دیا ۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ؟» فَقُلْتُ: بَلٰى وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الخَيْلِ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ يَدَهٗ عَلٰى صَدْرِي حَتّٰى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهٖ فِي صَدْرِي وَقَالَ: «اللّٰهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا». قَالَ فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسِي بَعْدُ فَانْطَلَقَ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ فَارِسًا مِنْ أَحْمَسَ فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَكَسَرَهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5897 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کاتب وحی تھا وہ اسلام سے پھر گیا ۱؎اور مشرکین سے جا ملا۲؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے زمین قبول نہ کرے گی ۳؎مجھے ابوطلحہ نے خبر دی کہ وہ اس زمین میں گئے جہاں وہ مرا تھا اسے باہر پھینکا ہوا پایا پوچھا اس میت کا کیا حال ہے لوگوں نے کہا کہ ہم نے اس کو بارہا دفن کیا اسے زمین نے قبول نہ کیا ۴؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَقْبَلُهٗ . فَأَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهٗ أَتَى الأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا فَوَجَدَهٗ مَنْبُوذًا فَقَالَ: مَا شَأْنُ هٰذَا ؟ فَقَالُوا: دَفَنَّاهُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْهُ الأَرْضُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5898 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے سورج ڈوب چکا تھا ۱؎حضور نے آواز سنی تو فرمایا کہ یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جارہے ہیں۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: «يَهُودُ تُعَذَّبَ فِي قُبُورِهَا» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5899 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک سفر سے واپس ہوئے تو جب مدینہ سے قریب ہوئے تو ایک ہوا چلی جو سوار کو دفن کیے دیتی تھی ۱؎رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ ہوا ایک منافق کی موت پر بھیجی گئی ہے ۲؎پھر مدینہ منورہ پہنچے تو منافقوں کا ایک سردار تھا مرچکا تھا ۳؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَلَمَّا كَانَ قُرْبَ الْمَدِينَةِ هَاجَتْ رِيحٌ تَكَادُ أَنْ تَدْفِنَ الرَّاكِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ» . فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا عَظِيمٌ مِنَ الْمُنَافِقِيْنَ قَدْمَاتَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5900 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نکلے حتی کہ عسفان پہنچے وہاں چند شب قیام فرمایا ۱؎لوگ کہتے ہیں کہ ہم یہاں کسی کام میں تو ہیں نہیں اور ہمارے بال بچے اکیلے ہم سے غائب ہیں ۲؎ہم ان پر مطمئن نہیں یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مدینہ میں نہ کوئی گھاٹی ہے نہ کوئی راستہ مگر اس پر دو فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کررہے ہیں ۳؎حتی کہ ہم لوگ وہاں پہنچے پھر فرمایا کوچ کرو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ پہنچ گئے اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے کہ جب ہم مدینہ پہنچے تو ابھی ہم نے اپنے سامان نہ اتارے تھے کہ ہم پر بنی عبداﷲابن غطفان نے حملہ کردیا ۵؎حالانکہ اس سے پہلےانہیں کوئی چیز نہیں بھڑکاتی تھی۔(مسلم)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى قَدِمْنَا عُسْفَانَ فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ فَقَالَ النَّاس: مَا نَحن هٰهُنَا فِي شَيْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذٰلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا فِي الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتّٰى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: ارْتَحِلُوا فَارْتَحَلْنَا وَأَقْبَلْنَا إِلَى المَدِينَةِ فَوَالَّذِي يُحْلَفُ بِهٖ مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتّٰى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا يُهَيِّجُهُمْ قَبْلَ ذٰلِكَ شَيْءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5901 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں لوگوں کو سخت قحط سالی پہنچی تو جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ پڑھ رہے تھے جمعہ کے دن ایک دیہاتی اٹھا بولا یا رسول اﷲمال برباد ہوگیا اور بچے بھوکے ہوگئے ۱؎آپ ہمارے لیے اﷲسے دعا فرمائیں تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے ۲؎ہم آسمان میں بادل نہیں دیکھتے تھے ۳؎تو اس کی قسم کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ حضور نے ہاتھ نیچے نہ کیے حتی کہ بادل پہاڑوں کی طرح اٹھا پھر حضور اپنے منبر سے نہ اترے حتی کہ میں نے آپ کی داڑھی پر بارش ٹپکتے دیکھی ۴؎پھر ہم پر آج اور کل اور پرسوں ہوتی رہی دوسرے جمعہ تک اور یہ ہی بدوی یا کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہوا عرض کیا یارسول اﷲعمارتیں گر گئیں مال ڈوب گئے آپ اﷲسے دعا کریں ۵؎تو حضور نے عرض کیا یاالٰہی ہمارے آس پاس برسا ہم پر نہ برسا ۶؎پھر آپ بادل کے کسی گوشہ کی طرف اشارہ نہ فرماتے مگر وہ چر جاتا۷؎اور مدینہ تالاب کی طرح ہوگیا ۸؎اور وادی قنات ایک مہینہ تک بہتی رہی ۹؎کسی طرف سے کوئی نہ آیا مگر اس نے بارش کی خبر دی ۱۰؎اور ایک روایت میں ہے کہ الٰہی ہم پر نہ برسا ہمارے آس پاس برسا الٰہی ٹیلوں پر اور پہاڑیوں پر اور جنگلوں کے اندرون پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا ۱۱؎فرمایا تو بارش رک گئی اور ہم دھوپ میں چلنے لگے ۱۲؎(بخاری،مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلٰى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي يَوْم الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللّٰهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرٰى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا وَضَعَهَا حَتّٰى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهٖ حَتّٰى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلٰى لِحْيتِهٖ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُطِرنَا يَوْمنَا ذٰلِك، وَمِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعدِ الْغَدِ حَتَّى الجُمُعَةِ الْأُخْرٰى وَقَامَ ذٰلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهٗ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرَقَ الْمَالُ فَادْعُ اللّٰهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَمَا يُشِيرُ إِلٰى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ وَصَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةٌ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللّٰهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ»قَالَ: فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5902 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو کھجور کے ایک ڈنڈے سے ٹیک لگا لیتے تھے جو مسجد کے ستونوں میں سے تھا ۱؎پھر جب حضور کے لیے منبر بنادیا گیا تو آ پ اس پر جلوہ گر ہوئے تو جس ڈنڈا کے پاس آپ خطبہ پڑھتے تھے وہ چیخ پڑا حتی کہ قریب تھا کہ چرجاوے ۲؎نبی صلی اللہ علیہ و سلم منبر سے اترے حتی کہ اسے پکڑا اپنے سے چمٹایاتو وہ سسکیاں بھرنے لگا اس بچے کی سسکیوں کی طرح جسے چپایا جاوے ۳؎حتی کہ قرار پکڑگیا،راوی نے کہا کہ وہ اس ذکر الٰہی پر رویا جو وہ سنا کرتا تھا ۴؎(بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ اسْتَنَدَ إِلٰى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ المِنْبَرُ فَاسْتَوٰى عَلَيْهِ صَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِنْدَهَا حَتّٰى كَادَت تَنْشَقَّ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى أَخَذَهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّتُ حَتّٰى اسْتَقَرَّتْ قَالَ بَكَتْ عَلٰى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5903 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے کہ ایک شخص نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اپنے بائیں ہاتھ سے کھایا تو فر مایا اپنے داہنے ہاتھ سے کھا وہ بولا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا فرمایا اب طاقت نہ رکھے گا ۲؎اسے صرف تکبر نے اس سے منع کیا راوی نے فرمایا کہ پھر وہ یہ ہاتھ اپنے منہ تک نہ اٹھا سکا ۳؎(مسلم)
وَعَنْ سَلَمَةَ بنِ الأَكْوَعِ أَنَّ رَجُلًا أَكَلَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَمَالِهٖ فَقَالَ: «كُلْ بِيَمِينِكَ» قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ. قَالَ «لَا اسْتَطَعْتَ» . مَا مَنَعَهُ الا الْكِبْرُ قا ل: فَمَا رَفعهَا إِلٰى فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5904 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک بار اہلِ مدینہ گھبرا گئے ۱؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم ابو طلحہ کے سُست گھوڑے پر سوار ہوئے اور وہ اڑتا بھی تھا۲؎جب حضور لوٹے تو فرمایا کہ ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو دریا پایا۳؎پھر اس کے بعد وہ گھوڑا نہیں مقابلہ کیا جاتا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ اس دن کے بعد کبھی پیچھے نہ رہا ۴؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَزِعُوا مَرَّةً فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ بَطِيئًا وَكَانَ يَقْطِفُ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ:وَجَدْنَا فَرَسَكُمْ هٰذَابَحْرًا. فَكَانَ بَعْدَ ذٰلِكَ لَا يُجَارٰى وَفِي رِوَايَةٍ: فَمَا سُبِقَ بَعْدَ ذٰلِكَ الْيَوْمِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5905 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میرے والد کی وفات ہوئی ۱؎ان پر قرض تھا میں نے انکے قرض خواہوں سے درخواست کی وہ اپنے قرض کی عوض موجودہ چھوارے لے لیں ۲؎انہوں نے انکار کیا ۳؎تو میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا میں نے عرض کیا کہ حضور جانتے ہیں کہ میرے والد احد کے دن شہید ہوگئے اور بہت سا قرض چھوڑ گئے ہیں،میں چاہتا ہوں کہ آپ کو قرض خواہ دیکھیں۴؎فرمایا جاؤ ہر قسم کے چھواروں کا ایک ایک طرف ڈھیر لگادو ۵؎میں نے یہ کام کردیا پھر میں نے حضور کو بلایا جب قرض خواہوں نے حضور کو دیکھا تو شاید وہ اس گھڑی مجھ پر بھڑک گئے ۶؎پھر جب حضور نے ان لوگوں کا یہ عمل دیکھا تو ان میں سے بڑے ڈھیر کے آس پاس تین چکر گھومے ۷؎پھر اس پر بیٹھ گئے ۸؎پھر فرمایا اپنے قرض خواہوں کو ہمارے سامنے بلاؤ پھر آپ ناپ کراتے رہے ان سب کے لیے حتی کہ اﷲنے میرے باپ کا سارا قرضہ ادا کردیا ۹؎میں اس پر راضی تھا کہ اﷲمیرے والد کا قرض ادا کردے میں اپنی بہنوں کو ایک چھوارا بھی نہ پہنچاؤ ں ۱۰؎مگر اﷲنے سارے ڈھیر سلامت رکھے اور حتی کہ میں اس ڈھیر کو دیکھتا تھا جس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم تھے گویااس میں سے ایک چھوارا بھی کم نہیں ہوا ۱۱؎(بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَرَضْتُ عَلٰى غُرَمَائِهٖ أَنْ يَأْخُذُوا التَّمَرَ بِمَا عَلَيْهِ فَأَبَوْا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ وَالِدِي اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا كَثِيرًا وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ فَقَالَ لِيَ: " اذْهَبْ فَبَيْدِرْ كُلَّ تَمْرٍ عَلٰى نَاحِيَةٍ فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهٗ فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ كَأَنَّهُمْ أُغْرُوا بِي تِلْكَ السَّاعَةَ فَلَمَّا رَأٰى مَا يَصْنَعُونَ طَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا بَيْدَرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «ادْعُ لِي أَصْحَابَكَ» . فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتّٰى أَدَّى اللّٰهُ عَنْ وَالِدِي أَمَانَتَهٗ وَأَنَا أَرْضٰى أَن يُؤدِّي اللهُ أَمَانَة وَالِدِي وَلَا أَرْجِعُ إِلٰى أَخَوَاتِي بِتَمْرَةٍ فَسَلَّمَ اللّٰهُ الْبَيَادِرَ كُلَّهَا وَحَتّٰى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهَا لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةٌ رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5906 ، باب : معجزات کابیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ام مالک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اپنے ڈبہ میں گھی کا ہدیہ بھیجا کرتی تھیں ۱؎ان کے پاس ان کے بچے آتے ان سے سالن مانگتے حالانکہ ان کے پاس کچھ نہ ہوتا تو وہ اس ڈبے کی طرف جاتیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدیہ بھیجتی تھیں تو اس میں گھی پاتیں تھیں ۲؎ان کے لیے ان کے گھر کا سالن رہا۳؎حتی کہ انہوں نے اسے نچوڑ لیا ۴؎پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حاضر ہوئیں فرمایا کیا تم نے اسے نچوڑ لیا عرض کیا ہاں فرمایا اگر تم اسے چھوڑ دیتیں تو وہ باقی رہتا۵؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ مَالِكٍ كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأُدُمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدُمَ بَيْتِهَا حَتّٰى عَصَرَتْهُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «عَصَرْتِيهَا» قَالَتْ نَعَمْ قَالَ: «لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5907 ، باب : معجزات کابیان