باب : معجزات کابیان

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت ابوالعلاء سے ۱؎وہ سمرہ ابن جندب سے راوی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک پیالے سے صبح سے رات تک کھاتے رہتے تھے دس اٹھتے اور دس بیٹھتے تھے ۲؎ہم نے کہا کہ کہاں سے بڑھتا تھا ۳؎فرمایا تم کس چیز سے تعجب کرتے ہو وہ نہ بڑھتا تھا مگر وہاں سے اور اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۴؎(ترمذی،دارمی)

وَعَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَدَاوَلُ مِنْ قَصْعَةٍ مِنْ غُدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ قُلْنَا: فَبِمَّا كَانَتْ تُمَدُّ؟ قَالَ: مِنْ أَيْ شَيْءٍ تَعْجَبُ؟ مَا كَانَتْ تَمَدُّ إِلَّا مِنْ هٰهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهٖ إِلَى السَّمَاءِ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5928 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن تین سو پندرہ حضرات کی جماعت میں تشریف لے گئے ۱؎عرض کیا الٰہی یہ ننگے پاؤں ہیں انہیں سواریاں دے الٰہی یہ ننگے بدن ہیں انہیں لباس دے ۲؎الٰہی یہ بھوکے ہیں انہیں سیر فرمادے اللہ نے حضور کو فتح دی ان غازیوں میں کوئی شخص نہ تھا مگر وہ ایک یا دو اونٹ لے کر لوٹا انہیں کپڑا بھی ملا اور وہ سیر ہوئے ۳؎(ابوادؤد)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلَاثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ اللّٰهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ اللّٰهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ» فَفَتَحَ اللّٰهُ لَهٗ فَانْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5929 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ تمہاری مدد کی جاوے گی اور تم غنیمتیں پانے والے ہو تم کو فتح دی جاوے گی۱؎تو جو تم میں سے یہ پائے وہ اللہ سے ڈرے بھلائیوں کا حکم دے برائیوں سے منع کرے ۲؎(ابو دا ؤد)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: «إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ فَمَنْ أَدْرَكَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللّٰهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5930 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ خیبر والوں میں سے ایک یہودی عورت نے بھنی بکری میں زہر ملایا ۱؎پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کردی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستی لی اس میں کھایا ۲؎آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت نے کھایا۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ہاتھ اٹھالو اور یہودی عورت کے پاس کسی کو بھیجا اسے بلایا فرمایا کیا تو نے اس بکری میں زہر ملایا ہے وہ بولی آپ کو کس نے بتایا فرمایا مجھے اس دستی نے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے ۴؎وہ بولی ہاں میں نے کہا کہ اگر وہ سچے نبی ہیں تو انہیں نقصان نہ دے گا اور اگر نبی نہیں ہیں تو ہم ان سے راحت پا جائیں گے ۵؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف فرمادیا اسے سزا نہ دی ۶؎آپ کے جن صحابہ نےاس بکر ی سے کچھ کھایا تھا وہ وفات پا گئے ۷؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھوں پر پچھنے لگوائے اس وجہ سے کہ آپ نے بکر ی سے کچھ کھایا تھا ابو ہند نے پچھنے لگائےسنگی اور چھری سے وہ بیاضہ انصاری کے غلام تھے ۸؎(ابوداؤد،دارمی)

وَعَنْ جَابِرٍبِأَن يَهُودِيَّةً مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعَ فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهٖ مَعَهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَأَرْسَلَ إِلَى اليَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا فَقَالَ سَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟ فَقَالَتْ مَنْ أَخْبَرَكَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي هَذِهٖ فِي يَدِي" لِلذِّرَاعِ، قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ تَضُرَّهٗ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُعَاقِبهَا وَتُوُفِّيَ أَصْحَابُهُ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى كَاهِلِهٖ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ حَجَمَهٗ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5931 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت سہل ابن حنظلیہ سے۱؎کہ لوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو انہوں نے بہت دراز سفر کیا حتی کہ شام ہوگئی ۲؎تو ایک سوار آیا عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو میں نے ہوازن کو دیکھا جو سارے کا سارا قبیلہ اپنی عورتوں جانوروں کے ساتھ حنین میں جمع ہوگیا ہے ۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور ارشاد کیا کہ انشاء اللہ یہ سب کچھ کل مسلمانوں کی غنیمت ہوگی ۴؎پھر فرمایا کہ آج رات ہماری حفاظت کون کرے گا ۵؎انس ابن مرثد غنویٰ بولے یارسول اللہ میں کروں گا ۶؎فرمایا سوار ہوجاؤ۔چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے فرمایااس گھاٹی کے سامنے جاؤ حتی کہ اس کی بلندی پر پہنچ جاؤ ۷؎پھر جب ہم نے سویرا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر تشریف لائے دو رکعتیں پڑھیں ۸؎پھر فرمایا کہ کیا تم نے اپنے سوار کو محسوس کیا ایک صاحب نے کہا یارسول اللہ ہم نے تو محسوس نہ کیا ۹؎پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھنے لگے ۱۰؎حتی کہ جب نماز پوری فرمائی تو فرمایا خوش ہوجاؤ تمہارا سوار آپہنچا ۱۱؎توہم گھاٹی میں درختوں کی طرف دیکھنے لگے تو ناگاہ وہ آرہا تھا حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکھڑا ہوا ۱۲؎تو عرض کیا کہ میں چلا حتی کہ میں اس گھاٹ کی چوٹی پر پہنچ گیا جہاں کا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا پھر جب میں نے سویرا کیا تو میں ان دونوں گھاٹیوں(پہاڑیوں)پر چڑھ گیا ۱۳؎تو میں نے کسی ایک کو نہ دیکھا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس رات نیچے اترے عرض کیا نہیں سواء نماز کے یا ادا حاجت کے ۱۴؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد کوئی عمل نہ کرنا تم کو مضر نہیں ۱۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتّٰى كَانَ عَشِيَّةً فَجَاءَ فَارِسٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي طَلَعْتُ عَلٰى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلٰى بَكْرَةِ أَبِيهِمْ بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمُ اجْتَمَعُوا إِلٰى حُنَيْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ تِلْكَ غَنِيمَةُ المُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ قَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ أَنَا يَارَسُولَ اللّٰهِ قَالَ ارْكَبْ فَرَكِبَ فَرَسًا لَهٗ فَقَالَ: «اسْتَقْبِلْ هٰذَاالشِّعْبَ حَتّٰى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَلْ حَسِسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟ قَالُوا يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا حَسِسْنَا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتّٰى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَ فَارِسُكُمْ فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلٰى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتّٰى وَقَفَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتّٰى كُنْتُ فِي أَعْلٰى هٰذَاالشِّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ طَلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا فَلَمْ أَرَ أَحَدًا فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ قَالَ لَا إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيَ حَاجَةٍ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بَعْدَهَا » . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5932 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ چھوارے لایا تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ان میں برکت کی دعا فرمادیں ۱؎تو انہیں حضور نے ملادیا پھر ان میں میرے لیے برکت کی دعا کی ۲؎فرمایا انہیں لے لو اسے اپنے توشہ دان میں ڈال لو جب اس میں سے کچھ لینا چاہو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال دو اس میں سے لے لو اور کبھی جھاڑنا مت ۳؎میں نے ان چھوہاروں میں سے اتنے وسق اللہ کی راہ میں خیرات کیے ہم ان میں سے کھاتے کھلاتے رہے۴؎وہ یہ میری کمر سے کبھی جدا نہ ہوئے تھے حتی کہ جناب عثمان کے قتل کا دن ہوا تو وہ مجھ سے گر گیا ۵؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ ادْعُ اللّٰهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ فَضَمَّهُنَّ ثُمَّ دَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبركَةِ فَقَالَ خُذْهُنَّ فَاجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدِكَ كُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَكَ فَخُذْهُ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذٰلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي حَتّٰى كَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهٗ انْقَطَعَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5933 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ ایک رات مکہ میں قریش نے مشورہ کیا ۱؎بعض نے کہا کہ جب سویرا ہو تو انہیں رسیوں سے باندھ دو یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض دوسرے بولے کہ بلکہ انہیں قتل کردو بعض بولے بلکہ انہیں نکال دو ۲؎اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع کردیا تو جناب علی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر یہ رات گزاری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ غار پر پہنچ گئے ۳؎اور مشرکین رات بھر جناب علی کی نگرانی کرتے رہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر ۴؎جب صبح پائی تو ان پر دوڑے ۵؎پھر جب جناب علی کو دیکھا تو اللہ نے ان کے فریب رد کردیئے ۶؎بولے تمہارے وہ ساتھی کہاں ہیں ۷؎آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا۸؎چنانچہ وہ سب حضور کے نشان قدم پر کھوج لگاتے چلے۹؎جب پہاڑ پر پہنچے تو ان پر غار مشتبہ ہوگیا ۱۰؎وہ پہاڑ پر چڑھ گئے اس غار پر پہنچے اس کے دروازہ پر مکڑی کا جالا دیکھا تو بولے کہ اگر حضور یہاں گھسے ہوتے تو اس کے دروازے پر جالانہ ہوتا ۱۱؎حضور نے اس میں تین شب قیام فرما یا ۱۲؎(احمد)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلِ اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ أَخْرِجُوهُ فَأَطْلَعَ اللهُ نَبِيَّهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى ذٰلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلٰى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى لَحِقَ بِالْغَارِ وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللّٰهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكَ هٰذَاقَالَ لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهٗ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ اخْتَلَطَ عَلَيْهِمْ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلَ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلٰى بَابِهٖ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلٰى بَابِهٖ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5934 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کی گئی جس میں زہر تھا ۱؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنے یہودی یہاں ہیں انہیں ہمارے پاس جمع کرو وہ سب حضور کے آگے جمع ہوئے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک چیز کے متعلق پوچھتا ہوں کیا تم مجھ سے سچ بولو گے انہوں نے کہا ہاں اے ابو القاسم تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا باپ کون ہے ۲؎وہ بولے فلاں فرمایا تم نے جھوٹ بولا بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے وہ بولے آپ نے سچ کہا اور درست کہا ۳؎فرمایا تو کیا اب تم مجھ سے سچ کہو گے جس چیز کے متلعق اگر میں تم سے پوچھو وہ بولے ہاں اے ابوالقاسم ۴؎اور اگر ہم آپ سے جھوٹ بولیں تو آپ پہچان لیں گے جیسے ہمارے باپ کے متعلق پہچان لیا ۵؎تو ان سے فرمایا کہ آگ والے کون ہیں وہ بولے کچھ دن ہم اس میں رہیں گے ۶؎پھر اس میں ہمارے نائب آپ لوگ ہوں گے ۷؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ورے ہو اس میں رہو اللہ کی قسم ہم اس میں تمہارے نائب کبھی نہیں بنیں گے ۷؎پھر فرمایا کہ کیا اب مجھ سے سچ بولو گے اس چیز کے متعلق جو میں تم سے پوچھوں وہ بولے ہاں اے ابوالقاسم فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ڈالا ہے وہ بولے ہاں ۸؎فرمایا تم کو اس پر کس چیز نے جرأت دی وہ بولے ہم نے چاہا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو ہم آپ سے راحت پاجائیں اور اگر سچے ہیں تو آپ کو نقصان نہ دے گا ۹؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا من الْيَهُود فَجَمَعُوا لَهٗ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنهُ قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَبُوكُمْ قَالُوا فُلَانٌ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذبْتُمْ بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ" قَالُوا: صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ قَالَ: «هَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ» قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَمَا عَرَفْتَهٗ فِي أَبِينَا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْلُ النَّارِ قَالُوا نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَّا فِيهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَئُوا فِيهَا وَاللّٰهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا"، ثُمَّ قَالَ فَهَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنهُ قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ: «هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هٰذِهِ الشَّاةِ سُمًّا؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: "فَمَا حَمَلَكُمْ عَلٰى ذَلِكَ؟ "، قَالُوا: أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ نَسْتَرِيحَ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَمْ يَضُرَّكَ.. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5935 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن اخطب انصاری سے فرماتے ہیں ۱؎کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز فجر پڑھائی اور منبر پر چڑھے ہم کو خطبہ دیا حتی کہ ظہر کا وقت آگیا پھر اترے پھر نماز پڑھی پھر منبر پر چڑھے تو ہم کو خطبہ دیا حتی کہ عصر کا وقت آگیا پھر اترے پھر نماز پڑھی پھر منبر پر چڑھے حتی کہ سورج ڈوب گیا ۲؎تو ہم کو تمام ان چیزوں کی خبر دی جو قیامت کے دن تک ہونے والا ہے۳؎فرمایا کہ ہم میں زیادہ جاننے والا وہ تھا جو ہم میں زیادہ حافظ تھا۴؎(مسلم)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أَخطَبَ الأَنْصَارِيِّ قَالَ صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الْفجْر وَصَعِدَ عَلَىالْمِنْبَرِ فَخَطَبَنَا حَتّٰى حَضَرَتِ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلّٰى ثمَّ صعِد الْمِنْبَر فَخَطَبَنَا حَتّٰى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلّٰى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتّٰى غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَأَعْلَمُنَا أَحَفْظُنَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5936 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت معن ابن عبدالرحمن سے فرمایا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ فرمایا میں نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات جنات نے قرآن سنا ہے تو جنات کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے دی ۱؎انہوں نے کہا کہ مجھے تمہارے والد یعنی عبداللہ ابن مسعود نے بتایا کہ ان کی خبر ایک درخت نے دی ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا: مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ؟ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُوكَ يَعْنِي عَبْدَ اللّٰهِ ابْن مَسْعُودٍ أَنَّهٗ قَالَ: آذَنَتْ بِهِمْ شَجَرَةٌ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5937 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم مکہ مدینہ کے درمیان جناب عمر کے ساتھ تھے تو ہم چاند ایک دوسرے کو دکھانے لگے میں تیز نظر تھا تو میں نے دیکھ لیا میرے سوا کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس نے چاند دیکھا ہے۱؎میں جناب عمر سے کہنے لگا کہ کیا آپ دیکھتے نہیں آپ اسے نہ دیکھ سکے کہتے ہیں کہ میں اسے عنقریب اپنے بستر پر لیٹے ہوئے دیکھوں گا۲؎پھر ہم کو بدر والوں کے متعلق خبریں دینے لگے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم کو ایک دن پہلے کفار کے قتل گاہ دکھاتے تھے فرماتے تھے کہان شاء اللهکل یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی اوران شاء اللهکل یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی ۳؎جناب عمر فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا کہ وہ لوگ ان حدود سے جو نبی صلی الله علیہ وسلم نے مقرر فرمائی تھیں بالکل نہ ہٹے ۴؎پھر وہ اوپر تلے ایک کنویں ڈال دیئے گئے ۵؎پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ ان تک پہنچ گئے ۶؎فرمایا اے فلاں ابن فلاں اے فلاں ابن فلاں کیا تم نے وہ سب باتیں درست پائیں جن کا تم سے الله و رسول نے وعدہ کیا تھا ۷؎کیونکہ میں نے وہ سب درست پایا جو مجھ سے الله نے وعدہ کیا تھا جناب عمر نے عرض کیا یا رسول الله آپ ان جسموں سے کیسے کلام کرتے ہیں جن میں جان نہیں تو فرمایا بات تم ان سے زیادہ نہیں سنتے بجز اس کے کہ وہ مجھے کچھ جواب نہیں دے سکتے ۸؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَتَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ فَرَأَيْتُهٗ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهٗ رَآهُ غَيْرِي قَالَ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ: أَمَا تَرَاهُ؟ فَجَعَلَ لَا يَرَاهُ قَالَ يَقُولُ عُمَرُ سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلٰى فِرَاشِي ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ يَقُولُ هٰذَامَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ قَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَؤُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ فَانْطَلَقَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى انْتَهٰى اِلَيْهِمْ فَقَالَ يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللّٰهُ وَرَسُولُهٗ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَني اللهُ حَقًا قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ شَيْئًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5938 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت انیسہ بنت زید ابن ارقم سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جناب زید کے پاس ایک مرض میں مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے،فرمایا اس بیماری سے تم پر کوئی خطرہ نہیں ۲؎مگر تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم کو میرے بعد دراز عمر ملے گی۳؎تو تم نابینا ہوجاؤ گے۴؎عرض کیا کہ میں صبر اور طلب اجر کروں گا۵؎فرمایا تو جنت میں بے حساب جاؤ گے ۶؎فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ نابینا ہوگئے پھر الله نے ان کی نظر لوٹا دی پھر وہ فوت ہوئے ۷؎

وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَبِيهَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلٰى زَيْدٍ يَعُودُهٗ مِنْ مَرَضٍ كَانَ بِهٖ قَالَ: «لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ بَأْسٌ وَلٰكِنْ كَيْفَ لَكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيَتَ؟»قَالَ:أَحْتَسِبُ وَأَصْبِرُ. قَالَ:«إِذًا تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ».قَالَ: فَعَمِيَ بَعْدَ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثمَّ ردَّ اللّٰهُ بَصَرَهٗ ثُمَّ مَاتَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5939 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو مجھ پر وہ بات تھوپے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالے۱؎یہ اس طرح ہوا کہ آپ نے ایک شخص کو بھیجا اس نے آپ پر جھوٹ باندھ دیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس پر بددعا کردی تو وہ مردہ پایا گیا کہ اس کا پیٹ چر گیا تھا اسے زمین نے قبول نہ کیا ۲؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیں۔

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:« مَنْ تَقَوَّلَ عَليَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهٗ مِنَ النَّارِ».وَذٰلِكَ أَنَّهٗ بَعَثَ رَجُلًا فَكَذَبَ عَلَيْهِ فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مَيِّتًا وَقَدِ انْشَقَّ بَطْنُهٗ، وَلَمْ تَقْبَلْهُ الأَرْضُ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5940 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کھانا مانگنے آیا حضور نے اسے جو کا آدھا وسق عطا فرمایا ۱؎وہ شخص اس کی بیوی اس کے مہمان اس سے کھاتے رہے حتی کہ اس نے ناپ لیا تو ختم ہوگیا ۲؎پھر وہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا فرمایا اگر وہ اسے نہ ناپتی تو تم سب اس سے کھاتے رہتے تو وہ تمہارے پاس رہتا ۳؎(مسلم)

وَعَنْ جَابرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ جَاءَهٗ رَجُلٌ يَسْتَطْعِمُهٗ فَأَطْعَمَهٗ شَطْرَ وَسَقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهٗ وَضَيْفُهُمَا حَتّٰى كَالَهٗ فَفَنِيَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5941 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضر ت عاصم ابن کلیب سے وہ اپنے والد سے وہ ایک انصاری سے راوی ۱؎ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قبر پر تشریف فرما تھے کھودنے والے کو سمجھاتے تھے فرماتے تھے کہ اس کے پاؤں کی طرف فراخ کرو اس کے سر کی طرف فراخ کرو پھر جب واپس ہوئے تو آپ کے سامنے اس کی بیوی کی طرف سے بلانے والا آیا ۲؎آپ نے منظور فرمایا ہم آپ کے ساتھ تھے کھانا لایا گیا۳؎حضور نے اپنا ہاتھ رکھا پھر قوم نے کہ سب کھانے لگے۴؎تو ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے منہ میں لقمہ پھرا رہے ہیں ۵؎پھر فرمایا کہ میں ایسی بکری کا گوشت محسوس کرتا ہوں جو اس کے مالک کی بغیر اجازت لی گئی ہے ۶؎اس عورت نے کہلاکر بھیجا کہ یارسول الله میں نے نقیع کی طرف بھیجا تھا یہ وہ جگہ تھی یہاں بکریاں فروخت کی جاتی تھیں تاکہ میرے لیے بکری خریدے ۷؎بکری ملی نہیں میں نے اپنے پڑوسی کے پاس آدمی بھیجا جس نے بکری خریدی تھی یہ کہ مجھے وہ بکری قیمتًا بھیج دے وہ ملا نہیں ۸؎تو میں نے اس کی بیوی کے پاس بھیجا اس نے وہ میرے پاس بھیج دی تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو ۹؎(ابوداؤد،بیہقی دلائل النبوۃ)

وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى القَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ يَقُولُ: «أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهٖ» فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهٗ دَاعِيُ امْرَأَتِهٖ فَأَجَابَ وَنَحْنُ مَعَهٗ فَجِيء بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهٗ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ فَأَكَلُوا فَنَظَرْنَا إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فِيهِ ثُمَّ قَالَ أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى النَّقِيعِ وَهُوَ مَوْضِعٌ يُبَاعُ فِيهِ الْغَنَمُ لِيَشْتَرِى لِي شَاةً فَلَمْ تُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلٰى جَارٍ لِي قَدِ اشْتَرٰى شَاةً أَنْ يُرْسِلَ إِلَيّ بهَا بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلٰى امْرَأَتِهٖ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمِي هٰذَاالطَّعَامَ الْأُسْرٰى» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5942 ، باب : معجزات کابیان

روایت ہے حضرت حرام ابن ہشام سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا حبیش ابن خالد سے راوی وہ ام معبد کے بھائی ہیں ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب مکہ معظمہ سے باہر کیے گئے آپ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرکے روانہ ہوئے آپ اور ابوبکر صدیق اور ابوبکر کے غلام عامر ابن فہیرہ اور ان کے رہبر عبدالله لیثی ام معبد کے خیمے پر گزرے ۲؎انہوں نے آپ سے گوشت چھوہارے مانگے تاکہ ان سے خریدیں انہوں نے یہ کوئی چیز ام معبد کے پاس نہ پائی یہ حضرات بے توشہ تھے۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک بکری دیکھی جو خیمے کے کنارہ میں تھی فرمایا اے ام معبد یہ بکری کیسی ہے انہوں نے عرض کیا کہ یہ ایسی بکری ہے جسے دبلے پن نے بکریوں سے پیچھے کردیا ہے۴؎فرمایا گیا اس میں دودھ ہے وہ بولیں کہ وہ اس سے بہت دور ہے ۵؎فرمایا کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ اسے دوھ لوں بولیں آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر آپ اس میں دودھ دیکھیں تو دوھ لیں۶؎اسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بلایا اس کے تھن پر اپنا ہاتھ پھیرا الله تعالٰی کا نام لیا اور ان کے لیے ان کی بکری میں دعا کی تو اس نے ٹانگیں چیر دیں ۷؎اور دودھ اتار لائی جگالی کرنے لگی تو حضور نے ایسا برتن منگایا جو ایک جماعت کو سیراب کردے اس میں دوہا چھلکتا ہوا حتی کہ جھاگ اوپر آگئے ۸؎پھر حضور نے ام معبد کو پلایا حتی کہ وہ سیر ہوگئیں اور اپنے ساتھیوں کو پلایا حتی کہ وہ بھی سیر ہوگئے پھر انکے آخر میں خود پیا ۹؎پھر اس میں پہلی بار کے بعد دوہا حتی کہ برتن بھردیا یہ ام معبد کے پاس چھوڑ دیا اور ان سے بیعت لی اور وہاں سے ان سب نے کوچ کردیا ۱۰؎(شرح سنہ)ابن عبدالبر نے استیعاب میں، ابن جوزی نے کتاب الوفاء اور اس حدیث میں ایک بڑا قصہ ہے۔

وَعَنْ حِرَامِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ حُبَيْشِ بْنِ خَالِدٍ وَهُوَ أَخُو أمِّ مَعْبَدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُخْرِجَ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ مُهَاجِرًا إِلَى المَدِينَةِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَمَوْلٰى أَبِي بَكْرٍ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَدَلِيلُهُمَا عَبْدُ اللّٰهِ اللَّيْثِي مَرُّوا عَلٰى خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدٍ فَسَأَلُوهَا لَحْمًا وَتَمْرًا لِيَشْتَرُوا مِنْهَا فَلَمْ يُصِيبُوا عِنْدَهَا شَيْئًا من ذٰلِكَ وَكَانَ الْقَوْمُ مُرْمِلِينَ مُسْنِتِينَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى شَاةٍ فِي كِسْرِ الْخَيْمَةِ فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الشَّاةُ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ؟» قَالَتْ:شَاةٌ خَلَّفَهَا الْجَهْدُ عَنِ الْغَنَمِ.قَالَ:«هَلْ بِهَا مِنْ لَبَنٍ؟» قَالَتْ: هِيَ أَجْهَدُ مِنْ ذٰلِكَ.قَالَ:«أَتَأْذَنِينَ لِي أَنْ أَحْلِبَهَا؟» قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنْ رَأَيْتَ بِهَا حَلَبًا فَاحْلُبْهَا. فَدَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ بِيَدِهٖ ضَرْعَهَا وَسَمَّى اللّٰهَ تَعَالٰى وَدَعَا لَهَا فِي شَاتِهَا فتفَاجَّتْ عَلَيْهِ وَدَرَّتْ وَاجْتَرَّتْ فَدَعَا بِإِنَاءٍ يُرْبِضُ الرَّهْطَ فَحَلَبَ فِيهِ ثجَّاً حَتّٰى عَلَاهُ الْبَهَاءُ ثُمَّ سَقَاهَا حَتّٰى رَوِيَتْ وَسَقٰى أَصْحَابَهٗ حَتّٰى رَوُوا ثُمَّ شَرِبَ آخِرَهُمْ ثُمَّ حَلَبَ فِيهِ ثَانِيًا بَعْدَ بَدْءٍ حَتّٰى مَلَأَ الْإِنَاءَ ثُمَّ غَادَرَهٗ عِنْدَهَا وَبَايَعَهَا وَارْتَحَلُوا عَنْهَا. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِي «الِاسْتِيعَابِ» وَابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي كِتَابِ «الْوَفَاءِ» وَفِي الحَدِيث قصَّةٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5943 ، باب : معجزات کابیان