باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب ہم جنت میں سیر فرما رہے تھے تو ایک نہر پر پہنچے جس کے کناروں پر کھکل موتی کے خیمے تھے ۱∞؎ہم نے کہا اے جبریل یہ کیا ہے انہوں نے عرض کیا یہ وہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا فرمایا اس کی مٹی خالص مشک تھی ۲؎(بخاری)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الجنَّةِ إِذا أَنَا بِنَهْرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ،قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5566 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میرا حوض ایک مہینہ کی مسافت کا ہے ۱∞؎اور اس کے گوشے برابر ہیں۲؎اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے۳؎اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہے۴؎اس کے کوزے آسمان کے تاروں کی طرح ہیں۵؎جو اس سے پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-:"حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانَهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ يَشْرَبُ مِنْهَا فَلَا يَظْمَأُ أَبَدًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5567 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میرا حوض زیادہ بڑا ہے ایلہ سے عدن تک کے فاصلہ سے ۱∞؎وہ برف سے زیادہ سفید ہے شہد سے زیادہ میٹھا جو دودھ سے مخلوط ہو۲؎اس کے برتن تاروں کے شمار کے ہیں اور میں دوسرے لوگوں کو اس سے روکوں گا جیسے کوئی شخص دوسرے لوگوں کے اونٹ کو اپنے حوض سے روکتا ہے۳؎صحابہ نے عرض کیا یارسول الله کیا اس دن آپ ہم کو پہچان لیں گے فرمایا ہاں تمہاری وہ نشانی ہوگی جو کسی دوسری امت کی نہ ہوگی۴؎تم میرے پاس آثار وضو کی وجہ سے روشن منہ پنج کلیان آؤ گے۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ، وَلآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ،وَإِنِّي لأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "نَعَمْ لَكُمْ سِيمَاءُ لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الأُمَم، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5568 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

اور مسلم کی روایت حضرت انس سے یوں ہے کہ فرمایا اس میں سونے چاندی کے لوٹے آسمان کے ستاروں کی شمار میں دیکھے جائیں گے ۱؎

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: "تُرَى فِيهِ أَبَارِيقَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5569 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

اور اس کی دوسری روایت میں حضرت ثوبان سے مروی ہے فرمایا حضور سے پانی کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ دودھ سے زیادہ سفید ہے شہد سے زیادہ میٹھا اس میں جنت سے دو پرنالے گرتے ہیں جو اسے بڑھاتے ہیں۱؎ایک سونے کا ہے دوسرا چاندی کا۔

وَفِي أُخْرَى لَهُ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: سُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ. فَقَالَ: "أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ؛ أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ، وَالآخَرُ مِنْ وَرِقٍ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5570 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں ۱∞؎جو مجھ پرگزرے گا وہ پئے گا اور جو پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۲؎میرے پاس کچھ قومیں آئیں گی جنہیں میں پہچانتا ہوں اور وہ مجھے پہچانتے ہیں۳؎پھر میرے اور ان کے درمیان آڑ کردی جاوے گی۴؎تو میں کہوں گا یہ تو میرے ہیں ۵؎تو فرمایا جاوے آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا باتیں پیدا کیں ۶؎میں کہوں گا اسے دوری ہو جو میرے بعد تبدیلی کرلے ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونَنِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَأَقُولُ: إِنَّهُمْ مِنِّي. فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ؟ فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِيْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5571 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مؤمنین قیامت کے دن روکے جائیں گے ۱∞؎حتی کہ اس کی وجہ سے سخت غمگین ہوں گے تو کہیں گے کہ ہم اپنے رب کی بارگاہ کو شفیع لاتے کہ وہ کہیں اس جگہ سے راحت دے چنانچہ وہ حضرت آدم کے پاس حاضر ہوجائیں گے ۲؎عرض کریں گے آپ انسانوں کےباپ ہیں الله نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا آپ کو اپنی جنت میں رکھا آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا آپ کو ہر چیز کے نام بتائے اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کریں۳؎کہ وہ ہم کو اس جگہ سے نجات دے،وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے اس مقام میں نہیں ہوں۴؎اور اپنی وہ خطا یاد کریں گے جوا نہوں نے کی تھی یعنی درخت سے کھانا حالانکہ اس سے منع کیا گیا تھا ۵؎لیکن تم حضرت نوح کے پاس جاؤ کہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں الله نے زمین والے کفار کی طرف بھیجا ۶؎تو وہ حضرت نوح کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے اس مقام میں نہیں ہوں اور اپنی وہ خطا یادکریں گے جو کی تھی یعنی اپنے رب سے بغیر جانے سوال کرنا۷؎لیکن تم الله کے خلیل حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ فرمایا تو لوگ جناب ابراہیم کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے کہ میں تمہارے اس مقام کا نہیں اور اپنی تین خلاف واقعہ باتیں یادکریں گے ۸؎لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ بندے جنہیں الله نے توریت بخشی اور ان سے کلام کیا اور انہیں مشورہ کے لیے قرب بخشا فرمایا تو لوگ جناب موسیٰ کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے میں تمہارے اس مقام کا نہیں اور اپنی وہ خطا یاد کریں گے جو انہوں نے کی یعنی ایک کاقتل ۹؎لیکن تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ الله کے بندے اس کے رسول الله کی طرف سے روح اسکا کلمہ فرمایا پھر لوگ جناب عیسیٰ کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے میں تمہارے اس مقام کا نہیں۱۰؎لیکن تم حضور محمد مصطفی کے پاس جاؤ وہ بندے جن کی طفیل الله نے ان کے گنہگاروں کے سارے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ۱۱∞؎فرمایا تو سب میرے پاس آئیں گے تو میں اپنے رب کے پاس اس کے مقرر گھر میں حاضری کی اجازت مانگوں گا ۱۲؎مجھے اجازت دی جاوے گی میں جب رب کو دیکھو ں گا تو سجدہ میں گرجاؤں گا پھر جتنا الله چاہے گا مجھے چھوڑے رکھے گا۱۳؎پھر فرمائے گا اے محمد سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جائے گی،شفاعت کرو قبول کی جاؤے گی،مانگو تم کو دیا جاوے گا۱۴؎فرمایا تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو الله کی وہ حمدوثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے ۱۵؎گا پھر شفاعت کروں گا تومیرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی میں وہاں سے چلوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا اورجنت میں داخل کروں گا ۱۶؎پھر دوسری بار لوٹوں گا اپنے رب سے اس کے گھر میں اجازت مانگوں گا۱۷؎مجھے وہاں کی اجازت دی جاوے گی جب میں رب کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا جتنا سجدے میں رہنا رب چاہے گا اتنا مجھے سجدے میں چھوڑے گا پھر فرمائے گا محمد سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی شفاعت کرو قبول کی جاوے گی مانگو دیئے جاؤ گے فرمایا تب میں سر اٹھاؤں گا اپنے رب کی ایسی حمدوثنا کروں گا جو مجھے سکھائے گا پھر شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی میں روانہ ہوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا جب جنت میں داخل کروں گا ۱۸؎پھر میں تیسری بار لوٹوں گا اپنے رب سے اس کی جگہ میں اجازت مانگوں گا مجھے اس پر اجازت دی جاوے گی تو جب میں رب کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گرجاؤں گا جب تک الله مجھے چھوڑے رکھنا چاہیے گا چھوڑے رکھے گا۱۹؎پھر فرمائے گا محمد سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جاوے گی شفاعت کرو قبول کی جاوے گی مانگو تمہیں دیا جاوے گا فرمایا تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو اپنے رب کی وہ حمدوثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گاپھر شفاعت کروں گا۲۰؎تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی پھر میں وہاں سے روانہ ہوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا جنت میں داخل کروں گا حتی کہ آگ میں صرف وہ ہی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روکا یعنی جن پر ہمیشگی ضروری ہوگئی ۲۱∞؎پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر اٹھائے فرمایا یہ مقام محمود وہ ہے جس کا تمہارے نبی سے وعدہ فرمایا ہے ۲۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُهَمُّوا بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ، اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ،وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ؛ أَكْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ، فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ؛سُؤَالَهُ رَبَّهُ بِغَيْرِ عِلْمِ، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ". قَالَ: "فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ كَذَبَهُنَّ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ وَقَرَّبَهُ نَجِيًّا". قَالَ: "فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ؛ قَتْلَهُ النَّفْسَ، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَرُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ"، قَالَ: "فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًاعَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ" قَالَ: "فَيَأْتُونِّي،فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي فَيَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ". قَالَ: "فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا،فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ". قَالَ: "فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ،ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ". قَالَ: "فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، حَتَّى مَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ قَدْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ" أَيْ: وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ، ثُمَّ تَلَا هَذِه الآيَةَ: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا}قَالَ: "وَهَذَا الْمقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وَعَدَهَ نبَيَّكُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5572 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ بعض بعض میں مخلوط ہوجائیں گے ۱∞؎پھر حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے عرض کریں گے اپنے رب کی بارگاہ میں شفاعت کیجئے وہ فرمائیں گے میں اس کے لیے نہیں لیکن تم حضرت ابراہیم کا دامن پکڑو وہ الله کے خلیل ہیں ۲؎تو وہ حضرت ابراہیم کے پاس جائیں گے وہ بھی کہیں گے میں اس کے لیے نہیں لیکن تم جناب موسیٰ کو پکڑو وہ الله کے کلیم ہیں تو وہ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے وہ بھی کہیں گے اس کے لیے میں نہیں۳؎لیکن تم حضرت عیسیٰ کو پکڑو کہ وہ روح الله اور کلمۃ اہیں تو لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس جائیں گے وہ کہیں گے اس کے لیے میں نہیں ہوں لیکن تم حضرت مصطفی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کرو۴؎تو وہ میرے پاس آئیں گے میں فرماؤں گا ہاں میں اس کے لیے ہوں پھر میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا ۵؎مجھے اجازت ملے گی اور ایسی حمدیں مجھے الہام کرے گا جو ابھی میرے علم میں حاضر نہیں ۶؎میں ان حمدوں سے حمد کروں گا اور رب کے لیے سجدہ میں گرجاؤں گا پھر کہا جائے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جاوے گی،مانگو دیئے جاؤ گے،شفاعت کرو قبول کیجاوے گی،میں عرض کروں گا یا رب میری امت میری امت ۷؎تو فرمایا جاوے گا جاؤ اس کو نکالو جس کے دل میں جَو برابر ایمان ہو تو میں چلوں گا اور یہ عمل کروں گا ۸؎پھر واپس لوٹوں گا انہی حمدوں سے رب کی حمد کروں گا پھر اس کے لیے سجدہ میں گروں گا تو کہا جاوے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ،کہو سنی جاوے گی،مانگو تمہیں وہ دیا جاوے گا، شفاعت کرو قبول کی جاوے گی تو میں عرض کروں گا یا رب میری امت میری امت تو کہا جاوے گا چلو اسے نکال لو جس کے دل میں ذرہ یا رائی کے دانہ برابر ایمان ہو ۹؎چنانچہ میں چلوں گا یہ عمل کروں گا پھر لوٹ کر آؤں گا تو رب کی انہیں حمدوں سے ثنا کروں گا،پھر اس کے لیے سجدہ میں گرجاؤں گا تو کہا جاوے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ کہو سنی جاوے گی،مانگو تمہیں دیا جاوے گا،شفاعت کرو قبول کی جاوے گی تو میں کہوں گا یارب میری امت میری امت فرمایا جاوے گا ۱۰؎جاؤ اسے نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانہ سے کمتر ایمان ہوچنانچہ میں جاؤں گا اسے آگ سے نکال لاؤں گا چنانچہ ہم جائیں گے اوریہ کام کریں گے ۱۱∞؎پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا اور رب تعالٰی کی حمد و ثنا انہیں محامد سے کروں گا،پھر میں اس کے حضور سجدہ کناں عرض کروں گا تو کہا جاوے گا اے محمد سر اٹھاؤ،کہو سنی جاوے گی،مانگو دیئے جاؤ گے،شفاعت کرو قبول کی جاوے گی۱۲؎تو میں عرض کروں گایارب مجھے اس کے متعلق اجازت دے جس نےلا الہ الا اللهکہاہو۱۳؎رب فرمائے گا یہ تمہارا نہیں لیکن میری عزت و جلالت اورکبریائی کی اور میری عظمت کی قسم میں وہاں سے اسے نکال دوں گا جس نے کہالا الہ الا الله۱۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: اشْفَع إِلَى رَبِّكَ فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ فَإِنَّهُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ، فَيَأْتونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّه، فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ، فَيَأْتُونِّي فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي، وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا، لَا تَحْضُرُنِي الآنَ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ،فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأقولُ: يَارَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ أَوْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ، فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأفْعَلُ، ثم أَعُودُ الرَّابِعَةَ فأحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِد ثُمَّ أَخِرُّ لهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ: وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، وَلَكِنْ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا إِلَه إِلَّا اللَّه". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5573 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے جناب ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا لوگوں میں زیادہ کامیاب میری شفاعت سے قیامت کے دن ۱∞؎وہ ہوگا جس نے اپنے خالص دل یا خالص نفس سے کہالا الہ الا الله۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِهِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5574 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ کی خدمت میں دستی پیش کی گئی حضور کو دستی پسندتھی ۱∞؎تو آپ نے اس میں سے نوچ کر کھایا ۲؎پھر فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں۳؎جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۴؎اور سورج قریب ہوگا لوگوں کو اس قدر غم و تکلیف پہنچے گی جس کی وہ طاقت نہ رکھیں گے ۵؎پھر لوگ کہیں گے تم کسی ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کرے ۶؎چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کےپاس آئیں گے اور شفاعت کی حدیث ذکر فرمائی اور فرمایا کہ پھر میں چلوں گا تو عرش کے نیچے پہنچوں گا پھر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گروں گا ۷؎پھر الله مجھ پر اپنی وہ حمد وہ اچھی ثنائیں کھولے گا جو مجھ سے پہلےکسی پر نہ کھولی تھیں ۸؎پھر فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ مانگو دیئے جاؤ گے،شفاعت کرو قبول کی جاوے گی ۹؎تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا عرض کروں گا یارب میری امت میری امت تو کہا جاوے گا ۱۰؎اے محمد اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن پر حساب نہیں ۱۱∞؎جنت کے دروازوں میں سے داہنے دروازے سے داخل کرو یہ لوگ دروازوں میں لوگوں کے ساتھ برابر کے حق دار ہیں۱۲؎پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جنت کے دروازوں میں سے ایک کی دو چوکھٹوں کے درمیان۱۳؎اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ معظمہ اور ہجر کے درمیان ہے۱۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِلَحْمٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ثُمَّ قَالَ: "أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ وَتَدْنُوْ الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسُ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ، فَيَقُولُ النَّاسُ: أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَّشْفعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُم؟ فَيَأْتُونَ آدَمَ". وَذَكرَ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ وَقَالَ: "فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ: أُمَّتِي يَا رَبِّ! أُمَّتِي يَا رَبِّ! أُمَّتِي يَا رَبِّ! فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ!أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَابِ الأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ" ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5575 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت حذیفہ سے شفاعت کی حدیث کے بارے میں وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی ۱∞؎فرمایا کہ امانت اور رحمی رشتے بھیجے جائیں گے۲؎وہ پلصراط کے دونوں طرف داہنے بائیں کھڑے ہوں گے۳؎(مسلم)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "وَتُرْسَلُ الأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5576 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے رب تعالٰی کا یہ کلام تلاوت کیا جو حضرت ابراہیم کے متعلق ہے ۱∞؎یارب ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا تو جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہوگیا۲؎اور جناب عیسیٰ کہیں گے اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں۳؎تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے عرض کیا الٰہی میری امت اور روئے۴؎تو الله تعالٰی نے فرمایا اے جبریل جناب محمد کے پاس جاؤ تمہارا رب خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھو انہیں کیا چیز رُلا رہی ہے ۵؎تو حضور کے پاس حضرت جبریل آئے حضور سے پوچھا انہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنی عرض و معروض کی خبر دی ۶؎تو الله تعالٰی نے حضرت جبریل سے فرمایا تم جناب محمد کے پاس جاؤ کہو کہ ہم تم کو تمہاری امت کے معاملہ میں راضی کرلیں گے تمہیں غمگین نہ کریں گے ۷؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- تَلَا قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى فِي إِبْرَاهِيمَ: {رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي}، وَقالَ عِيسَى: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ} فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: "اللهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي" وَبَكَى، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَا جِبْرِيلُ! اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ -وَرَبُّكَ أَعْلَمُ- فَسَلْهُ مَا يُبْكِيهِ؟ . فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِمَا قَالَ، فَقَالَ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ:إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلَا نَسُوؤُكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5577 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا ہاں ۱∞؎کیا تم صاف دوپہری میں جب سورج کے ساتھ بادل نہ ہو سورج کے دیکھنے میں شک کرتے ہو۲؎اور کیا تم چودھویں صاف رات میں جب کہ چاند کے ساتھ بادل نہ ہو چاند دیکھنے میں شک کرتے ہو عرض کیا یارسول الله نہیں۳؎فرمایا تم قیامت کے دن الله کے دیدار میں شک نہیں کرو گے مگر ایسا جیسے ان دونوں میں سے ایک کے دیکھنے میں شک کرتے ہو۴؎جب قیامت کے دن ہوگا تو اعلانچی اعلان کرے گا کہ ہر گروہ اس کے پیچھے جائے جس کی وہ پرستش کرتا تھا ۵؎تو جو بھی الله کےسوا بتوں اور پتھروں کی عبادت کرتے تھے اسمیں کوئی نہ بچے گا مگر دوزخ میں گرجائیں گے ۶؎حتی کہ جب ان نیک بندوں کے سواء جو الله کی عبادت کرتے تھے کوئی نہ بچے گا تو انکے پاس رب العالمین آئے گا ۷؎فرمائے گا تم کیا انتظارکررہے ہو ہر امت اپنے معبود کے ساتھ جارہی ہے ۸؎پھر عرض کریں گے یارب ہم نے دنیا میں ان لوگوں کوچھوڑ ے رکھا جب کہ ہم ان کے بہت حاجت مند تھے اور ہم انکے ساتھ نہ رہے ۹؎

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُنَاسًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَعَمْ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟" قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " مَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لِيَتَّبِعْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يعبد غيرالله مِنَ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ: فَمَاذَا تَنْظُرُونَ؟ يَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَت تعبد. قَالُوا: ياربنا فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا أَفْقَرَ مَا كُنَّا إِلَيْهِم وَلم نصاحبهم "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5578 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

اور جناب ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ کہیں گے یہ ہی ہماری جگہ ہے حتی کہ ہمارے پاس ہمارا رب آوے پھر جب ہمارا رب جلوہ گر ہوگا ہم اسے پہچان لیں گے۱؎اور جناب ابو سعید کی روایت میں ہے کہ رب فرمائے گا کہ کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی کہ تم اسے پہچان لو گے وہ کہیں گے ۲∞؎ہاں تو رب پنڈلی کھولے گا ۳؎تو ان میں سے جو دل کے اخلاص سے رب کو سجدہ کرتے تھے کوئی نہ رہے گا مگر الله اسے سجدہ کی اجازت دے گا۴؎اور جو لوگ اپنے بچاؤ اور دکھلاوے کے لیے سجدہ کرتے تھے ان میں سے کوئی نہ بچے گا مگر الله اس کی پیٹھ ایک تختہ بنادے گا۵؎وہ جب بھی سجدہ کا ارادہ کرے گا اپنی پیٹھ پر گر جاوے گا ۶؎پھر دوزخ پر پل رکھا جاوے گا۷؎اور شفاعت واقع ہوگی۸؎اور کہیں گے الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ ۹؎تو مسلمان پلک جھپکنے کی طرح اور بجلی کی طرح اور ہوا کی طرح پرندے کی طرح اور تیز گھوڑے کی طرح اونٹ کی طرح ۱۰؎گزریں گے،بعض تو نجات پائیں گے سلامت رہیں گے،بعض زخمی ہو کر چھوڑ دیئے جائیں گے ۱۱؎بعض دوزخ کی آگ میں گرا دیئے جائیں گے۱۲∞؎حتی کہ جب مسلمان آگ سے خلاصی پالیں گے تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے نہیں ہے تم میں سے کوئی زیادہ جھگڑنے والا اپنے اس حق میں جو تمہیں ظاہر ہوجاوے بمقابلہ مسلمانوں کے جو وہ الله سے جھگڑیں گے قیامت کے دن اپنے دوزخی بھائیوں کے لیے۱۳؎عرض کریں گے یارب وہ لوگ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے نمازیں پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے۱۴؎تو ان سے کہا جاوے گاکہ جنہیں تم پہچانتے ہو نکال لو ان کی صورتیں آگ پر حرام کردی جائیں گی۱۵؎یہ لوگ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھرکہیں گی یارب جن کے متعلق تو نے ہم کو حکم دیا تھا ان میں سے تو کوئی باقی نہ رہا ۱۶؎رب فرمائے گا واپس جاؤ جس کے دل میں دینار برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو تو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گا لوٹ جاؤ جس کے دل میں زرہ برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گا واپس جاؤ جس کے دل میں آدچھی دینار برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو۱۷؎چنانچہ وہ بہت ہی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گالوٹ جاؤ جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے ۱۸؎پھر عرض کریں گے یارب ہم نے دوزخ میں کسی بھلائی والے کو نہ چھوڑا ۱۹؎تب الله تعالٰی فرمائے گا کہ فرشتوں نے شفاعت کرلی رسولوں نے شفاعت فرمالی مؤمنوں نے شفاعت کرلی ۲۰؎اب سواء ارحم الراحمین کے اور کوئی باقی نہ رہا۲۱؎تب آگ میں سے ایک مٹھی بھرے گا تو ان لوگوں کو وہاں سے نکال دے گا جنہوں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ۲۲∞؎جو کوئلے ہوچکے ہوں گے ۲۳؎انہیں اس نہر میں ڈالے گا جو جنت کے دہانوں میں ہے جسے زندگی کی نہر کہا جاتا ہے تو وہ یوں اگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپر کے کوڑا میں اگتا ہے۲۴؎پھر وہ نکلیں گے موتی کی طرح ان کی گردنوں میں مہریں ہوں گی۲۵؎انہیں لوگ کہیں کے کہ یہ الله کے آزاد کردہ ہیں جنہیں رب نے بغیر عمل کیے ہوئے بغیر بھلائی آگے بھیجے ہوئے جنت میں داخل فرمادیا۲۶؎تو ان سے کہا جاوے گا کہ تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے دیکھا اور اس کی مثل ۲۷؎(مسلم،بخاری)

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ " فَيَقُولُونَ: هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ "وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: " فَيَقُولُ هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهُ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ إِلَّا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ بِالسُّجُودِ وَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ اتِّقَاءً وَرِيَاءً إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ عَلَى قَفَاهُ ثُمَّ يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَى جَهَنَّمَ وَتَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ كَطَرَفِ الْعَيْنِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَالطَّيْرِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ حَتَّى إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ أحد مِنْكُم بأشدَّ مُناشدةً فِي الْحق - قد تبين لَكُمْ - مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ فِي النَّارِ يَقُولُونَ رَبَّنَا كَانُوا يَصُومُونَ مَعَنَا وَيُصَلُّونَ وَيَحُجُّونَ فَيُقَالُ لَهُمْ: أَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ فَتُحَرَّمُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا مَا بَقِيَ فِيهَا أَحَدٌ مِمَّنْ أَمَرْتَنَا بِهِ. فَيَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وجدْتُم فِي قلبه مِثْقَال دنيار مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيِّرًا فَيَقُولُ اللَّهُ شُفِّعَتِ الْمَلَائِكَةُ وَشُفِّعَ النَّبِيُّونَ وَشُفِّعَ الْمُؤْمِنُونَ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ قَدْ عَادُوا حُمَمًا فَيُلْقِيهِمْ فِي نَهْرٍ فِي أَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ: نَهْرُ الْحَيَاةِ فَيَخْرُجُونَ كَمَا تَخْرُجُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ كَاللُّؤْلُؤِ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِمُ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَن أدخلهم الْجنَّة بِغَيْر عمل وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ فَيُقَالُ لَهُمْ لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمثله مَعَه ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5579 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو اسے نکال لو چنانچہ وہ نکال لیں گے ۱∞؎حالانکہ جل چکے ہوں گے اور کوئلے ہوگئے ہوں گے پھر وہ نہر حیوٰۃ میں ڈالے جائیں گے۲؎تو ایسے اُگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپر کوڑے میں اُگتا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ دانہ اولًا پیلا ٹیڑھا نکلتا ہے۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرَجُونَ قَدِ امْتُحِشُوا وَعَادُوا حُمَمًا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَوْا أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوَيَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5580 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے پھر حضرت ابو سعید کی حدیث کے معنی بیان کیے ۱∞؎سوا پنڈلی کھلنے کے اور فرمایا کہ دوزخ کے دونوں کناروں کے درمیان پلصراط قائم کیاجاوے گا ۲؎تو جو پیغمبر اپنی امت کو لےکرگزریں گے ان میں پہلا میں ہوں گا ۳؎اور اس دن سواء رسولوں کے اور کوئی کلام نہ کرے گا اور رسولوں کا کلام اس دن ہوگا الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ اور دوزخ میں خم دار کانٹے ہوں گے۴؎سعد ان کے کانٹوں کی طرح ۵؎جن کی بڑائی الله کے سواء کوئی نہیں جانتا وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے ۶؎ان میں سے بعض وہ ہوں گے جو اپنی بدعملی کی وجہ سے ہلاک کیے جائیں گے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو زخمی ہو کر نجات پاجائیں گے ۷؎حتی کہ جب الله تعالٰی اپنے بندوں کے فیصلے سے فارغ ہوجاوے گا ۸؎اور جن کو آگ سے نکالنے کا ارادہ ہوچکا ہے انہیں نکالا جائے گا ان لوگوں میں سے جنہوں نےلا الہ الا اللهکی گواہی دی ہے تو فرشتوں کو حکم دے گا۹؎کہ انہیں نکال لو جو الله کی عبادت کرتے تھے وہ انہیں نکال لیں گے اور انہیں سجدہ کے نشانوں سے پہچانیں گے اور الله تعالٰی آگ پر یہ ناممکن کردے گا کہ سجدہ کے نشان کو جلائے۱۰؎چنانچہ انسان کے سارے جسم کو آگ کھاجائے گی سواءسجدہ کے اثر کے تو وہ آگ سے نکلیں گے کہ جل کر کوئلے ہوچکے ہوں گے ۱۱∞؎پھر ان پر زندگی کا پانی بہایا جاوے گا تو وہ ایسے اُگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپری کوڑے میں اُگتا ہے اور ایک شخص جنت و دوزخ کے درمیان باقی رہے گا۱۲؎اور وہ تمام دوزخیوں میں سب سے آخری جنت میں داخل ہونے والا ہوگا۱۳؎اپنا منہ آگ کی طرف کیے ہوگا۱۴؎عرض کرے گا یارب میرا منہ آگ سے پھیر دے مجھے اس کی لُو نے جھلس دیا اور اس کی تیزی نے مجھے جلادیا ۱۵؎تو رب فرمائے گا کیا ممکن ہے کہ اگر میں یہ کردوں تو اس کے علاوہ اور مانگے ۱۶؎وہ کہے گا نہیں قسم تیری عزت کی تو الله تعالٰی کو عہدوپیمان دے جو الله چاہے چنانچہ الله تعالٰی اس کا منہ آگ سے پھیر دے گا ۱۷؎پھر جب اس کو جنت کے سامنے کرے گا اور یہ اس کی ترو تازگی دیکھے گا ۱۸؎تو جب تک رب اس کی خاموشی چاہے یہ خاموش رہے گا ۱۹؎پھر کہے گا یارب مجھے جنت کے دروازے کے پاس پہنچادے۲۰؎رب تعالٰی فرمائے گا کہ کیا واقعہ یہ نہیں ہے کہ تو عہدوپیمان دے چکا ہے کہ پہلی مانگی چیز کے سوا اور کچھ نہ مانگے گا وہ عرض کرے گا یا رب میں تیری مخلوق میں بڑا بدنصیب نہ رہوں ۲۱∞؎تو رب فرمائے گا کہ کیا ممکن ہے کہ تجھے یہ دیدیا جاوے تو تو اس کے سوا کچھ اور مانگے،کہے گا تیری عزت کی اس کے سواء میں اور کچھ نہ مانگوں گا۲۲؎چنانچہ وہ اپنے رب کو عہدوپیمان دے گا جو رب چاہے اسے الله تعالٰی جنت کے دروازے تک بڑھائے گا پھر جب وہ اس کے دروازے تک بڑھادے گا پھر جب وہ اس کے دروازے پر پہنچے گا وہاں کی تروتازگی اور جو کچھ وہاں بہار اور خوشی دیکھے گا۲۳؎تو جب تک اس کا خاموش رہنا الله چاہے وہ خاموش رہے گا پھر عرض کرے گا یا رب مجھے جنت میں داخل فرمادے۲۴؎تو الله تعالٰی فرمادے گا افسوس تجھ پر اے ابن آدم تو کتنا عہد شکن ہے ۲۵؎کیا تو نے عہدوپیمان نہیں دیا تھا کہ تو اس کے سوا نہ مانگے گا جو تجھے دے دیا گیا ۲۶؎تو عرض کرے گا یارب مجھے اپنی خلقت میں بدنصیب نہ بنا ۲۷؎تو وہ دعا کرتا رہے گا حتی کہ اس سے الله تعالٰی خوش ہوجاؤے گا۲۸؎تو جب خوش ہو جاوے گا تو اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا پھر فرمائے گا تمنا کر وہ تمنا کرے گا حتی کہ جب اس کی تمنائیں ختم ہوجائیں گی تو رب فرمائے گا فلاں فلاں تمنا کر خود رب تعالٰی اسے یاد دلانے لگے گا ۲۹؎حتی کہ جب اس کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ تیرے لیے یہ ہے اور اس کی مثل۳۰؎اور حضرت ابو سعید کی روایت میں ہے کہ الله تعالٰی فرمائے گا تیرے لیے یہ ہے اور اس سے دس گناہ اور ۳۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَن أَبِي هُرَيْرَة أَنَّ النَّاسَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَذَكرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، غَيْرَ كَشْفِ السَّاقِ وَقَالَ: "يُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَّجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ، وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ، وَكَلَامُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ. وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيْبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ، تَخْطِفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُوبَقُ وَمِنْهُمْ مَنْ يُخَرْدَلُ، ثُمَّ يَنْجُو حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَهُ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ، فَيُخْرِجُونهمْ وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَكُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ النَّارُ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ، فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتُحِشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الجنَّةِ والنارِ وَهُوَ آخرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ قِبَلَ النَّارِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! اصْرِفْ وَجْهِي عَن النَّار قَد قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا فَيَقُولُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَفْعَلْ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَيَقُول: لَا وَعِزَّتِكَ، فيُعطِي اللَّهَ مَا شاءَ اللَّهُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ، فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فإِذا أَقْبَلَ بِهِ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَأى بَهْجَتَهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ! قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تبَارَكَ وَتَعَالَى: أَلَيْسَ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنْتَ سَأَلْتَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ. فَيَقُولُ: فَمَا عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا بَلَغَ بَابَهَا، فَرَأَى زَهْرَتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ النَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ، فَسَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ. فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ! مَا أَغْدَرَكَ، أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ مِنْهُ، فَإِذَا ضَحِكَ أَذِنَ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ. فَيَقُولُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى (1) : تَمَنَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا، أَقْبَلَ يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ" وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: "قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذَلِكَ وَعَشْرَةُ أَمْثَالِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5581 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ آخری وہ شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ شخص ہوگا جو کبھی چلے گا اور کبھی گرے گا ۱∞؎اور کبھی اسے آگ جھلسائے گی۲؎پھر جب اس سے نکل جاوے گا تو اس کی طرف دیکھے گا کہے گا مبارک ہے وہ جس نے مجھے تجھ سے نجات دی۳؎الله نے مجھے وہ شے دی ہے جو اگلے پچھلوں میں سے کسی کو نہیں دی۴؎پھر اس کے سامنے ایک درخت پیش کیا جاوے گا ۵؎وہ کہے گا اے میرے رب مجھے اس درخت سے قریب کردے میں اس کا سایہ لوں گا اور اس کا پانی پیوں ۶؎تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ اے ابن آدم ممکن ہے کہ اگر میں تجھے یہ دیدوں تو تو مجھ سے اس کے سواءبھی مانگے ۷؎وہ عرض کرے گا نہیں اے رب اور اس سے وعدہ کرے گا کہ اس کے سواء اور نہ مانگے ۸؎اس کا رب اسے معذور جانے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہوگا جس پر صبر نہیں ہوسکتا تو اسے اس درخت سے قریب کردے گا وہ اس کا سایہ لے گا اور اس کا پانی پئے گا ۹؎پھر دوسرا درخت اس کے سامنے کیا جاوے جو پہلے سے اچھا ہوگا تو کہے گا اے میرے رب مجھے اسی درخت سے قریب کر دے ۱۰؎تاکہ میں اس کا پانی پیوں اور اس کا سایہ لوں میں تجھ سے اس کے سواء نہ مانگوں گا ۱۱∞؎تو رب فرمائے گا اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے معاہدہ نہ کیا تھا کہ تو اس کے سواء اور مجھ سے نہ مانگے گا پھر فرمائے گا ممکن ہے کہ اگر میں تجھے اس سے قریب کردوں تو تو مجھ سے اس کے سواء مانگے۱۲؎وہ رب سے وعدہ کرے گا کہ اس کے سواء نہ مانگے گا اور اس کا رب اسے معذور جانے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھے گا جس پر صبر ناممکن ہے رب اسے اس درخت سے قریب کر دے گا ۱۳؎وہ اس کا سایہ لے گا اس کا پانی پئے گا پھر اس کے سامنے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت ظاہر ہوگا جو پہلے دو سے اچھا ہوگا۱۴؎تو کہے گا اے میرے رب اب مجھے اس سے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ لوں اور اس کا پانی پیوں۱۵؎اس کے سواء تجھ سے کچھ نہ مانگوں گا تو فرمائے گا اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے یہ عہد نہ کیا تھا کہ تو مجھ سے اس کا سواء کچھ نہ مانگے گا عرض کرے گا ہاں یارب یہ ہی آخری سوال ہے ۱۶؎اس کے سوا تجھ سے اور نہ مانگوں گا اور اس کا رب اسے معذور رکھے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھے گا جس پر اس سے صبر نہ ہوگا۱۷؎تو اس کو اس سے قریب کردے گا تو جب اس سے قریب کردے گا وہ جنت والوں کی آواز سنے گا ۱۸؎تو کہے گا اے رب مجھے اس میں داخل فرمارب فرمائے گا ابن آدم مجھے تجھ سے فراغت نہیں ہوتی ۱۹؎کیا تجھے یہ بات راضی کرے گی کہ میں تجھے دنیا اور دنیا کی مثل اس کے ساتھ دوں۲۰؎عرض کرے گا اے رب مجھ سے تو مذاق کرتا ہے تو رب العالمین ہے ۲۱∞؎حضرت ابن مسعود ہنس پڑے پھر فرمایا تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں کہ میں کس چیز سے ہنستا ہوں لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا ایسے ہی رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہنسے تھے صحابہ نے عرض کیا تھا کہ یارسول الله حضور سرکار کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا رب العالمین کے ہنسنے سے جب وہ بندہ کہے گا ۲۲؎کہ کیا تو مجھ سے مزاق فرماتا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے تو فرمائے گا میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا لیکن میں اپنے ہر چاہے پر قادر ہوں۲۳؎

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فَهُوَ يَمْشِي مَرَّةً، وَيَكْبُو مَرَّةً وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً، فَإِذَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ! لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ! وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيرَهَا، وَربُهُ يُعْذِرُهُ؛ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا. فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنيتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا؟ فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يُعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ، فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا. فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ! هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يُعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا سَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: أَي رَبِّ! أَدْخِلْنِيهَا فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! مَا يَصْرِيْنِي مِنْكَ؟ أَيُرْضِيكَ أَن أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا. قَالَ: أَيْ رَبِّ! أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ " فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أَلا تَسْأَلُونيّ مِمَّ أَضْحَكُ؟ فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟ فَقَالَ: هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-. فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ؟ حِيْنَ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَدِيْرٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5582 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

اور اسی مسلم کی ایک روایت میں ہے جو حضرت ابو سعید سے ہے اسی طرح ہے مگر انہوں نے یہ ذکر نہ کیا کہ اے ابن آدم مجھے تجھ سے فراغت نہیں ہوتی۱؎آخر حدیث تک اس میں یہ زیادتی کی ہے کہ الله اسے یاد دلائے گا کہ فلاں فلاں چیز مانگ ۲؎حتی کہ جب اس کی خواہشیں ختم ہوجائیں گی تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ وہ سب کچھ تیرا ہے اور اس سے دس گنا اور ۳؎فرمایا پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو اس پر اس کی دو بیویاں آنکھ والی حوریں داخل ہوں گی۴؎کہیں گی شکر ہے اس الله کا جس نے تجھے ہمارے لیے اور ہمیں تیرے لیے زندہ رکھا ۵؎فرماتے ہیں وہ کہے گا کہ جیسا مجھے عطیہ کیا گیا وہ کسی کو نہ دیا گیا ۶؎

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: "فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! مَا يَصْرِينِي مِنْكَ؟ " إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ:"وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ: سَلْ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ"، قَالَ: "ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَتَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ". قَالَ: "فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مثلَ مَا أُعْطِيْتُ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5583 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کچھ قوموں کو ان کے کیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے آگ کی لپٹ پہنچے گی ۱∞؎سزا کے طور پر پھر الله انہیں جنت میں داخل فرمادے گا اپنے فضل اپنی رحمت سے انہیں جہنمی کہا جاوے گا۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ بِذُنُوبٍ أَصَابُوهَا عُقُوبَةً، ثُمَّ يُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِهِ وَرَحْمَتِهِ فَيُقَالُ لَهُمُ: الْجَهَنَّمِيُّونَ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5584 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ محمد مصطفی کی شفاعت سے ایک قوم آگ سے نکالی جاوے جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کا نام جہنمیں رکھا جاوے گا ۱∞؎(بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ایک قوم میری شفاعت کی بنا پر آگ سے نکالی جاوے گی جو جہنمی نام دیئے جائیں گے۲؎

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَفِي رِوَايَةٍ: "يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5585 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎