- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں جانتا ہوں دوزخ والوں میں سے آخری نکلنے والے کو اور جنت میں آخری داخل ہونے والے کو ۱∞؎ایک شخص آگ سے گھسٹتا ہوا نکلے گا تو رب فرمائے گا جا جنت میں داخل ہو جا وہ وہاں جاوے گا اسے خیال بندھے کہ جنت بھری ہوئی ہے ۲؎وہ کہے گا یارب میں نے جنت بھری ہوئی پائی ۳؎تو رب فرمائے گا جا جنت میں داخل ہوجا کیونکہ تیری ملکیت دنیا کی برابر اور اس کا دس گنا ہے۴؎وہ کہے گا کیا تو مجھ سے تمسخر کرتا ہے یا مجھ سے ہنسی فرماتا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حضور ہنسے حتی کہ آپ کی ڈاڑھیں مبارک چمک گئیں ۵؎اور کہا جاتا تھا کہ یہ جنت والوں میں ادنیٰ درجہ کا ہوگا ۶؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دخُولًا، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا. فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! وَجَدْتُهَا مَلأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّة، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ مِنِّي -أَوْ تَضْحَكُ مِنِّي- وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ "، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَكَانَ يُقَالُ: ذَلِكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5586 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں جانتا ہوں جنتیوں میں سے آخری داخل ہونے والے کو جنت میں اور دوزخیوں میں سے وہاں سے آخری نکلنے والے کو ۱∞؎کہ یہ شخص ہوگا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا کہا جائے گا کہ اس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس سے اس کے بڑے گناہ اٹھا رکھو ۲؎چنانچہ اس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے کہا جاوے گا تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیے اور فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیے وہ کہے گا ہاں۳؎انکار کرنے کی طاقت نہ رکھے گا۴؎اور وہ اپنے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا کہ اس پر وہ پیش کردیئے جاؤیں۵؎کہا جاوے گا کہ تیرے لیے ہر گناہ کے عوض ایک نیکی ہے ۶؎تب وہ کہے گا کہ میں نے تو اور بڑے کام کیے تھے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں۷؎میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حضور سرکار ہنس پڑے حتی کہ آپ کی داڑھیں چمک گئیں ۸؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ، وَارْفَعُوا عَنْهُ كبَارَهَا، فُتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذنُوُبِهِ فَيُقَالَ: عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، كَذَا وَكَذَا، وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ. لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ. فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً فَيَقُولُ: رَبِّ، قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَاهُنَا" وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نوَاجِذُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5587 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ آگ سے چار آدمی نکالے جائیں گے ۱∞؎پھر بارگاہِ الٰہی میں پیش کیے جائیں گے پھر انہیں آگ کیطرف جانے کا حکم دیا جاوے گا ۲؎تو ان میں سے ایک مڑمڑ کر دیکھے گا عرض کرے گا یارب میں امیدوار تھا جب تو نے مجھے وہاں سے نکال لیا تو اب دوبارہ نہ لوٹائے گا فرمایا تو رب اسے آگ سے نجات دے دے گا ۳؎(مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ، فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِمْ إِلَى النَّارِ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ؟ لَقَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِذ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا"، قَالَ: "فَيُنْجيهِ اللَّهَ مِنْهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5588 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ مسلمان آگ سے نجات پائیں گے تو وہ جنت دوزخ کے درمیان ایک پل پر روکے جائیں گے ۱∞؎تو بعض کا ان ظلموں کا بدلہ لیا جاوے گا جو ان کے درمیان دنیا میں تھے ۲؎حتی کہ جب پاک و صاف کردیئے جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جاوے گی۳؎تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد مصطفی کی جان ہے ان میں سے ہر ایک اپنے جنتی گھر کا اس سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوگا جو اپنے دنیاوی گھر کا ہدایت یافتہ تھا ۴؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لأَحَدُهُمْ أَهْدَى بِمَنْزِلهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلهِ كَانَ لَهُ فِي الدُّنْيَا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5589 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا مگر پہلے اسے اس کا دوزخی ٹھکانہ دکھایا جاوے گا اگر وہ جرم کرتا ۱∞؎تاکہ وہ زیادہ شکر کرے اور کوئی آگ میں نہ جاوے گا مگر اسے اس کاجنتی ٹھکانہ دکھایا جاوے گا اگر وہ نیکیاں کرتا تاکہ اس پر حسرۃ ہو جاوے ۲؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ لِيَزْدَادَ شُكْرًا، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ لِيَكُونُ عَلَيْهِ حَسْرَةً". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5590 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جاویں گے تو موت لائی جاوے گی حتی کہ جنت و دوزخ کے درمیان رکھی جاوے گی ۱∞؎پھر ذبح کردی جاوے ۲؎پھر پکارنے والا پکارے گا اے جنتیو اب موت نہیں اور اے دوزخیو اب موت نہیں۳؎تو جنتی لوگوں کو خوشی پر خوشی بڑھ جاوے اور دوزخی لوگوں کو غم پرغم زیادہ ہوجاوے گا۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ، جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحَ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ! لَا مَوْتَ. فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5591 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت ثوبان سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ میرا حوض عدن سے لے کر ۱∞؎عمان بلقاء تک ہے۲؎اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا۳؎اور اس کے کوزے آسمان کے تاروں کے برابر۴؎ہیں جو ایک گھونٹ پئے گا اس کے بعد پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا ۵؎لوگوں میں سب سے پہلے وہاں پہنچنے والے وہ مہاجر فقیر ہیں جن کے بال پراگندہ ہیں کپڑے میلے جو امیرعورتوں سے نکاح نہ کرسکیں ان کے درازے نہ کھولے جاویں ۶؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
عَن ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "حَوْضِي مِنْ عَدَنٍ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَكْوَابُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، أَوَّلُ النَّاسِ وُرودًا فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، الشُّعْثُ رُؤُوسًا، الدُّنْسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لَا يُنْكَحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَلَا يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5592 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ تھے ایک منزل پر اترے تو فرمایا کہ تم ان کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو جو میرے پاس حوض پر پہنچیں گے ۱∞؎کہا گیا تم اس دن کتنے تھے فرمایا سات سو یا آٹھ سو ۲؎(ابوداؤد)
وَعَن زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَقَالَ: "مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِئَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضِ". قِيلَ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: سَبع مِئَةٍ أَوْ ثَمَانُ مِئَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5593 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کا حوض ہے اور وہ حضرت اس پر فخر کریں گے کہ ان میں سے کس کے پاس زیادہ آنے والے ہیں ۱∞؎اور میں امید کرتا ہوں کہ میں ان سب میں زیادہ ہوں گا آنے والوں میں ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا،وَإِنَّهُمْ لَيَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5594 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا قیامت کے دن میری شفاعت فرما دیں ۱∞؎فرمایا میں شفاعت کروں گا میں نے عرض کیا یارسول الله میں حضور کو کہاں تلاش کروں۲؎فرمایا تم مجھے پہلے تو تلاش کرنا پل صراط پر میں نے عرض کیا اگر آپ کو پل صراط پر نہ پاؤں فرمایا پھر مجھے میزان کے پاس ڈھونڈھنا۳؎میں نے عرض کیا اگر میں حضور کو میزان کے پاس نہ پاؤں۴؎فرمایا پھر مجھے حوض کے پاس تلاش کرنا ۵؎کیونکہ میں ان تین جگہوں سے علاوہ میں نہ ہوں گا ۶؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَن أَنَسٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ: "أَنَا فَاعِلٌ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ؟ قَالَ: "اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ". قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ؟ قَالَ: "فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ" قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ؟ قَالَ: "فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5595 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں حضور سے عرض کیا گیا کہ مقام محمود کیا چیز ہے فرمایا قیامت وہ دن ہے جس میں الله تعالٰی اپنی کرسی پر نزول فرمائے گا تو وہ ایسی چرائے گی جیسے نیا کجاوا چرچراتا ہے اپنی تنگی کی وجہ سے ۱∞؎حالانکہ وہ آسمانوں و زمینوں کی فراخی کی طرح ہے۲؎اورتم کو ننگے پاؤں ننگے بدن بے ختنہ لایا جاوے گا۳؎تو جنہیں پہلے پہنایا جاوے گا وہ حضرت ابراہیم ہوں گے۴؎الله تعالٰی فرمائے گا میرے خلیل کو پہناؤ تو دو سفید حلے لائے جائیں گے پھر ان کے بعد مجھے پہنایا جاوے گا ۵؎پھر میں الله تعالٰی کے داہنے طرف اس جگہ کھڑا ہوں گا کہ مجھ پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے ۶؎(دارمی)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قال: قِيْلَ لَهُ: مَا الْمقَامُ الْمَحْمُود؟ قَالَ: "ذَلِكَ يَوْمَ يَنْزِلُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى كُرْسِيِّهِ فَيَئِطُّ كَمَا يَئِطُّ الْرَّحْلُ الجَدِيدُ مِن تَضايُقِهِ، وَهُوَ كَسَعَةِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَيُجَاءُ بِكُمْ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيْمُ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: اكْسُوا خَلِيلِي بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ مِنْ رِيَاطِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ أُكْسَى عَلَى أَثَرِهِ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ مَقَامًا يَغْبِطُنِيَ الأَوَّلُونَ وَالآخَرُونَ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5596 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمنوں کی علامت ۱∞؎قیامت کے دن صراط پر یہ ہوگی الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ ۲؎(ترمذی )اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم "شِعَارُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الصِّرَاطِ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5597 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری شفاعت میری امت کے گناہ کبیرہ والوں کے لیے ہے ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد،)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5598 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
ابن ماجہ بروایت جابر
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ جَابِرٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5599 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس رب تعالٰی کے پاس سے آنے والا آیا تو مجھے اختیار دیا ۱∞؎اس کا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل فرمائے اور درمیان شفاعت کے۲؎تو میں نے شفاعت اختیار فرمائی یہ شفاعت اس شخص کے لیے ہے جوکسی چیز کو الله کا شریک نہ ٹھہرائے۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَتَانِي آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ، وَهِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5600 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت عبدالله ابن ابی الجدعاء سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میرے ایک امتی کی شفاعت سے ۲؎قبیلہ بنی تمیم سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے۳؎(ترمذی،دارمی،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الجَدْعَاءِ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5601 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت ابی سعید سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے بعض وہ ہیں جو ایک جماعت کی شفاعت کریں گے،بعض وہ جو ایک خاندان کی شفاعت کریں گے، بعض وہ ہیں جو ایک کنبہ کی شفاعت کریں گے ۱∞؎بعض وہ ہیں جو صرف ایک آدمی کی شفاعت کریں گے حتی کہ یہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَشْفَعُ لِلْفِئَامِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْعُصْبَةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفعُ لِلرَّجُلِ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5602 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ میری امت میں سے چار لاکھ کو بغیر حساب جنت میں داخل کرے گا ۱∞؎تو جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول الله ہم کو اور زیادہ دیجئے فرمایا اور اس طرح پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ملائے ان کا لپ بھرا ۲؎اور حضرت ابوبکر نے عرض کیا یارسول الله ہمیں زیادہ دیجئے ۳؎فرمایا اور ایسے تو حضرت عمر نے فرمایا اے ابوبکر ہمیں چھوڑو بھی۴؎تو ابوبکر نے فرمایا تمہارا کیا حرج ہے کہ ہم سب کو الله جنت میں داخل فرمائے ۵؎تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر الله چاہے تو ایک مٹھی میں ساری خلقت کو جنت میں داخل کردے وہ کرسکتا ہے ۶؎تب نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ عمر نے سچ کہا ۷؎(شرح سنہ)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ وعَدَنِي أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَ مِئَةِ أَلْفٍ بِلَا حِسَابٍ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: وَهَكَذَا، فَحَثَا بِكَفَّيْهِ وَجَمَعَهُمَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: وَهَكَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ كُلَّنَا الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ إِنْ شَاءَ أَنْ يُدْخِلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ فَعَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "صَدَقَ عُمَرُ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5603 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ دوزخی لوگ صف بستہ ہوں گے ۱∞؎تو جنتیوں میں سے ایک شخص ان پرگزرے گا تو ان میں سے ایک دوزخی کہے گا اے فلاں کیا تو مجھے پہچانتا نہیں میں وہ ہی ہوں جس نے تجھے ایک گھونٹ پانی پلایا تھا اور بعض دوزخی کہے گا کہ میں وہ ہوں جس نے وضو کا پانی دیا تھا۲؎یہ جنتی ان کی شفاعت کرے گا پھر اسے جنت میں داخل کرے گا۳؎(ابن ماجہ)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُصَفُّ أَهْلُ النَّارِ، فَيَمُرُّ بِهِمُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ! أَمَا تَعْرِفُنِي؟ أَنَا الَّذِي سَقَيْتُكَ شَرْبَةً. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنَا الَّذِي وَهَبْتُ لَكَ وَضُوءًا، فَيَشْفَعُ لَهُ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5604 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو دوزخ میں جاچکے ہوں گے ان میں سے دو کا شوروپکار بہت زیادہ ہوگا تو رب تعالٰی فرمائے گا کہ ان دونوں کو نکالو پھر ان سے فرمائے گا کہ کس مقصد کے لیے تمہارا شور زیادہ ہے ۱∞؎وہ عرض کریں گے کہ ہم نے یہ اس لیے کیا کہ تو ہم پر رحم کرے۲؎فرمائے گا کہ تم پر میری رحمت یہ ہی ہے کہ چلو اپنے کو وہاں ہی ڈال دو جہاں تم دونوں تھے۳؎چنانچہ ان میں سے ایک تو اپنے کو ڈال دے گا تو الله اس پر آگ کو ٹھنڈی سلامتی والی کردے گا ۴؎اور دوسرا کھڑا رہے گا وہ اپنے کو نہ ڈالے گا اس سے رب فرمائے گا کہ تجھے اپنے کو گرانے سے کس چیز نے روکا جیساکہ تیرے ساتھی نے اپنے کو گرادیا ۵؎وہ کہے گا الٰہی میں امید کرتا ہوں کہ تو مجھے وہاں سے نکالنے کے بعد نہ لوٹائے گا ۶؎تو اس سے رب تعالٰی فرمائے گا کہ تیرے لیے تیری امید ہے پھر دونوں الله کی رحمت سے جنت میں داخل کیے جاویں گے ۷؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ رَجُلَيْنِ مِمَّنْ دَخَلَ النَّارَ اشْتَدَّ صِيَاحُهُمَا، فَقَالَ الرَّبُّ تَعَالَى: أَخْرِجُوهُمَا. فَقَالَ لَهُمَا: لِأَيِّ شَيْءٍ اشْتَدَّ صِيَاحُكُمَا؟ قَالَا: فَعَلْنَا ذَلِكَ لِتَرْحَمَنَا. قَالَ: فَإِنَّ رَحْمَتِي لَكُمَا أَنْ تَنْطَلِقَا فَتُلْقِيَا أَنْفُسَكُمَا حَيْثُ كُنْتُمَا مِنَ النَّارِ، فَيُلْقِي أَحَدُهُمَا نَفْسَهُ، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، وَيَقُومُ الآخَرُ فَلَا يُلْقِي نَفْسَهُ، فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ تَعَالَى: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُلْقِيَ نفسَكَ كَمَا أَلْقَى صَاحِبُكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ! إِنِّي لأَرْجُو أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا بَعْدَمَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا. فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ تَعَالَى: لَكَ رَجَاؤُكَ. فَيُدْخَلَانِ جَمِيعًا الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5605 ، باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎