- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- کھانوں کا بیان
- باب:کھانوں کا بیان
باب:کھانوں کا بیان
کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو رات اس حال میں گزارے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی ہے جسے دھویا نہیں ۱؎پھر اسے کچھ مصیبت پہنچے ۲؎تو اپنے ہی کو ملامت کرے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهٖ غَمَرٌ لَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهٗ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهٗ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4219 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو محبوب ترین کھانا روٹی کا ثرید تھا ۱؎اور کھجور و مکھن کا ثرید تھا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّرِيْدُ مِنَ الْخُبْزِ و الثَّرِيْدُ مِنَ الحَيْسِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4220 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابو اُسید انصاری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے روغن زیتون کھاؤ بھی لگاؤ بھی ۲؎کہ یہ برکت والے درخت سے ہے۳؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ أَبِي أُسَيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهٖ فَإِنَّهٗ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4221 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت ام ہانی سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میرے پاس نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے میں نے کہا نہیں سوا خشک روٹی اور سرکہ کے ۲؎تو فرمایا لاؤ ۳؎وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سرکہ ہو ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَعِنْدَكِ شَيْءٌ» قُلْتُ: لَا إِلَّا خُبْزٌ يَابِسٌ وَخَلٌّ فَقَالَ: «هَاتِي مَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدُمٍ فِيهِ خَلٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4222 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت یوسف ابن عبدالله ابن سلام سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا پھر اس پر چھوہارا رکھا فرمایا یہ اس کا سالن ہے اور کھالیا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً فَقَالَ: هٰذِهٖ إِدَامُ هٰذِهٖ وَأَكَلَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4223 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت سعد سے ۱؎فرماتے ہیں میں بیمار ہوا تو نبی صلی الله علیہ وسلم میری عیادت کو تشریف لائے ۲؎اپنا ہاتھ مرے پستانوں کے بیچ رکھا حتی کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل پر پائی ۳؎اور فرمایا کہ تم دل کے بیمار ہو حارث ابن کلدہ ثقفی کے پاس جاؤ وہ طبابت کرتے ہیں ۴؎وہ مدینہ کی عجوہ میں سے سات عجوہ کھجوریں لیں انہیں معہ گٹھلیوں کے کوٹ لیں اور پھر ان سے تم کو پلادیں ۵؎(ابوداؤد)
عَنْ سَعْدٍ قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهٗ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتّٰى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلٰى فُؤَادِي وَقَالَ: «إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْؤُودٌ ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهٗ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ، فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمْرَاتٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4224 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم تربوز کھجور کے ساتھ کھاتے تھے۔ (ترمذی) اور ابوداؤد نے یہ زیادہ فرمایا کہ فرماتے تھے اس کی گرمی اس کی ٹھنڈک سے ٹوٹ جائے گی اور اس کی ٹھنڈک اس کی گرمی سے،ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ أَبُوْدَاوُدَ: وَيَقُولُ: يَكْسِرُ حَرَّ هٰذَا بِبَرْدِ هٰذَا وَبَرْدَ هٰذَا بِحَرِّ هٰذَا . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4225 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس پرانے چھوہارے لائے گئے تو آپ انہیں کریدتے تھے اور اس سے کیڑے نکالتے تھے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ فَجَعَلَ يُفَتِّشُهٗ وَيُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4226 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم کے پاس تبوک میں ۱؎پنیر لایا گیا تو آپ نے چھری منگائی پھر بسم الله پڑھی اور کاٹا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبُنَّةٍ فِي تَبُوكَ فَدَعَا بِالسِّكِّينِ فَسَمّٰى وقطَعَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4227 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے گھی اور پنیر اور حمار وحشی کے متعلق پوچھا گیا ۱؎تو فرمایا کہ حلال وہ ہے جسے الله نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے الله نے اپنی کتاب میں حرام کیا ۲؎اور جس سے خاموشی فرمائی تو وہ اس میں سے ہے جس سے معافی دی ۳؎(ابن ماجہ،ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور صحیح تر قول پر یہ حدیث موقوف ہے ۴؎
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّمْنِ وَالْجُبْنِ وَالْفِرَاءِ فَقَالَ: «الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ فِي كِتَابِهٖ وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فِي كِتَابِهٖ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفٰی عَنْهُ».رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَمَوْقُوفٌ عَلَى الأَصَحِّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4228 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس شربتی گندم کی سفید روٹی ہوتی جو گھی اور دودھ سے چوپڑی ہوتی ۱؎تو قوم میں سے ایک صاحب اٹھے انہوں نے یہ تیار کی پھر لائے تو فرمایا یہ گھی کس چیز میں تھا عرض کیا گوہ کے ڈبہ میں ۲؎فرمایا اسے اٹھالو۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)ابوداؤد نے کہا یہ حدیث منکر ہے۴؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِيْ خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهٗ فَجَاءَ بِهٖ فَقَالَ: «فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هٰذَا؟» قَالَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ قَالَ: «ارْفَعْهُ» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ أَبُوْ دَاوُدَ: هٰذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4229 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بغیر پکائے ہوئے لہسن کھانے سے منع فرمایا ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4230 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے ابو زیاد سے فرماتے ہیں کہ جناب عائشہ سے پیاز کے متعلق پوچھا گیا آپ نے فرمایا کہ آخری کھانا جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کھایا وہ تھا جس میں پیازتھی ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ عَنِ الْبَصَلِ فَقَالَتْ: إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ فِيهِ بَصْلٌ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4231 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے بسر کے دوسلمی بیٹوں سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے مکھن اور چھوہارے پیش کیے حضور مکھن اور چھوہارے پسند فرماتے تھے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ قَالَا: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبَدَ وَالتَّمَرَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4232 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت عکراش ابن ذویب سے ۱؎فرماتے ہیں ہمارے پاس بہت ثرید اور گوشت والا پیالہ لایا گیا ۲؎تو میں نے اس کے کناروں میں ہاتھ مارا ۳؎اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سامنے سے کھایا ۴؎پھر حضور نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ پکڑ لیا ۵؎فرمایا اے عکراش ایک جگہ سے کھاؤ کیونکہ یہ ایک ہی کھانا ہے ۶؎پھر ہمارے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں قسم قسم کے چھوہارے تھے تو میں اپنے سامنے سے کھانے لگا ۷؎اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ہاتھ طباق میں گھومنے لگا ۸؎پھر فرمایا اے عکراش جہاں سے چاہو کھاؤ کہ یہ ایک قسم سے زیادہ ہے ۹؎پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور ہاتھوں کی تری اپنے چہرے اور کہنیوں اور سر پر مل لی ۱۰؎اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس سے جسے آگ پکاوے ۱۱؎(ترمذی)
وَعَنْ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: أُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيْرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ فَخَبَطْتُّ بِيَدِي فِي نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرٰى عَلٰى يَدِيَ الْيُمْنٰى ثُمَّ قَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهٗ طَعَامٌ وَاحِدٌ» . ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ التَّمْرِ فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ فَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهٗ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ» ثُمَّ أُتِينَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بَلَلَ كَفَّيْهِ وَجْهَهٗ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهٗ وَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ هٰذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4233 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے گھر والوں کوجب بخار آتا تو آپ سیرے(لپٹا)کا حکم دیتے وہ تیار کیاجاتا پھر انہیں حکم دیتے تو وہ اس سے پیتے ۱؎اور فرماتے کہ یہ غمگین کے دل کو قوت دیتا ہے اور بیمار کے دل سے تنگی دور کرتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے چہرے سے پانی کے ذریعہ میل دور کرتی ہے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فصُنعَ ثمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ وَكَانَ يَقُولُ: «إِنَّهٗ لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ، وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ، كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4234 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ عجوہ جنت سے ہے اور اس میں شفاء ہے زہر سے ۱؎اورکھمبی من سے ہے اور اس کا پانی شفا ہے آنکھ کی لیے ہے ۲؎(ترمذی)۳؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4235 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں ایک رات رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مہمان ہوا ۲؎تو آپ نے دستی کا حکم دیا وہ بھونی گئی پھر چھری لی پھر اس میں سے میرے لیے چھری سے کاٹنے لگے ۳؎پھر بلال حضور کو نماز کی اطلاع دینے آئے ۴؎تو آپ نے چھری ڈال دی فرمایا اسے کیا ہوا اس کے ہاتھ گرد آلود ہوں ۵؎فرمایا ان کی مونچھیں بڑی تھیں ۶؎تو مجھ سے فرمایا میں انہیں مسواک پر کتردوں یا تم مسواک پر کترلو ۷؎(ترمذی)
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: ضِفْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِّيَ ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهٗ بِالصَّلَاةِ فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ فَقَالَ: «مَا لَهٗ تَرِبَتْ يَدَاهُ؟» قَالَ: وَكَانَ شَارِبُهُ وَفَاءً، فَقَالَ لِي:: «أُقْصُّهٗ لَكَ عَلٰى سِوَاكٍ؟ أَوْ قُصَّهٗ عَلٰى سِوَاكٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4236 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جب حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں حاضر ہوتے تو اپنا ہاتھ نہ لگاتے حتی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پس رکھتے اپنا ہاتھ ۱؎ایک بار حضور کے ساتھ کسی کھانے پر حاضر ہوئے تو ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیلی جارہی ہے۲؎وہ اپنا ہاتھ کھانے میں لگانے لگی۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک بدوی آیا گویا دھکیلا جارہا ہے ۴؎حضور نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان اپنے لیے کھانا حلال کرتا ہے اس سے کہ کھانے پر الله کا نام نہ لیا جائے ۵؎وہ اسے لایا تاکہ اس کے ذریعہ کھانا حلال کرے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر اس بدوی کو لایا کہ کھانا حلال کرے میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا ۶؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۷؎ایک روایت میں ہے کہ پھربسم الله پڑھی اور کھایا ۸؎(مسلم)
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتّٰى يَبْدَأَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ يَدَهٗ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهٗ مَرَّةً طَعَامًا فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَأَخَذَهٗ بِيَدِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيهِ وإِنَّهٗ جَاءَ بِ هٰذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهٰذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهٖ فَأَخَذْتُ بِيَدِهٖ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ إِنَّ يَدَهٗ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا» . زَادَ فِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللّٰهِ وأكَلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4237 ، باب:کھانوں کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک غلام کو خریدنے کا ارادہ کیا اس کے سامنے چھوہارے ڈالے اس نے کھائے تو بہت کھائے تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہت کھانا نحوست ہے اور اس کی واپسی کا حکم دیا ۱؎(بیہقی شعب الایمان)
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ غُلَامًا فَأَلْقٰى بَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرًا فَأَكَلَ الْغُلَامُ فَأَكْثَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ كَثْرَةَ الْأَكْلِ شُؤْمٌ . وَأَمَرَ بِرَدِّهٖ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4238 ، باب:کھانوں کا بیان