باب:کھانوں کا بیان

کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے جناب عائشہ رضی الله عنھا سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ لُپٹا بیمار کے دل کو تسلی بخش ہے ۱؎یہ بعض رنج کو دورکرتا ہے ۲؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4179 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے کہ ایک درزی نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا جسے اس نے تیار کیا تھا تو میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ گیا ۱؎تو اس نے جو کی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو اور خشک گوشت تھا ۲؎تو میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم پیالے کے آس پاس سے کدو تلاش کرتے تھے۳؎اس دن کے بعد سے میں کدو سے محبت کرتا رہا ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللهُ عَنْہُ أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهٗ فَذَهَبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبَ خُبْزَ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءُ وَقَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمِئِذٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4180 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن امیہ سے ۱؎انہوں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ بکری کی دستی سے کاٹ کر کھاتے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی۲؎پھر آپ کو نماز کی طرف بلایا گیا تو اسے اورچھری کو جس سے کاٹ رہے تھے ڈال دیا پھر کھڑے ہوئے پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُميَّةَ أَنَّهٗ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهٖ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي يَحْتَزُّ بِهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰى وَلَمْ يتَوَضَّأ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4181 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد پسند فرماتے تھے ۱؎(بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاء وَالْعَسَل. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4182 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس سرکہ کے سوا کچھ نہیں تو حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے وہ ہی منگایا اسے کھانے لگے اور فرماتے تھے سرکہ اچھا سالن ہے سرکہ اچھا سالن ہے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الأُدْمَ. فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ فَدَعَا بِهٖ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهٖ وَيَقُولُ:«نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ».رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4183 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کھمبی من سے ہے ۱؎اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفا ہے ۲؎(مسلم، بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کہ اس من سے ہے جو الله تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام پر اتارا ۳؎

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰی مُوسٰى عَلَيْهِ السَّلَام

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4184 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن جعفر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ککڑی کے ساتھ کھجور کھاتے دیکھا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4185 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم مقام مر الظہران میں ۱؎حضور کے ساتھ تھے بیلو کے پھل چن رہے تھے ۲؎تو فرمایا کہ ان میں سے کالے کالے اٹھاؤ کہ وہ اچھے ہوتے ہیں ۳؎تو عرض کیا گیا کہ کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں ۴؎فرمایا ہاں اور نہیں ہے کوئی نبی مگر انہوں نے بکریاں چرائیں ۵؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الْكِبَاثَ فَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فإِنَّهٗ أَطْيَبُ» فَقِيلَ: أَكُنْتَ تَرْعَى الغَنَمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا رَعَاهَا؟»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4186 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو اکڑوں بیٹھے دیکھا ۱؎کہ چھوہارے کھاتے تھے اور ایک روایت ہے کہ تیزی سے چھوہارے کھاتے تھے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا وَفِي رِوَايَةٍ: يَأْكُلُ مِنْهُ أَكْلًا ذَرِيعًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4187 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص دو چھوہارے ملا کر کھائے حتی کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتّٰى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهٗ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4188 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ (رضی الله عنہا) سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ گھر والے بھوکے نہیں رہے جن کے پاس چھوہارے ہوں اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا اے عائشہ وہ گھر جس میں چھوہارے نہیں اس کے باشندے بھوکے ہیں دو یا تین بار فرمایا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمُ التَّمْرُ . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4189 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی صبح سویرے سات عجوہ چھوہارے کھائے ۱؎تو اسے اس دن زہر اور جادو نقصان نہ دے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ يَقُولُ: «مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهٗ ذٰلِكَ الْيَوْمَ سَمٌّ وَلَا سِحْرٌ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4190 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ رضی الله عنھا سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقام عالیہ کے عجوہ ۱؎میں شفا ہے اور وہ تریاق ہیں شروع صبح کے وقت ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً وَإِنَّهَا تِرْيَاقٌ أَوَّلَ البُكْرَةِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4191 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ ہم پربعض مہینہ ایسا آتا کہ ہم اس میں آگ نہ جلاتے وہ غذا کھجوریں اور پانی ہی ہوتی مگر یہ کہ تھوڑا گوشت لایا جاتا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يَأْتِي عَلَيْنَا الشَّهْرُ مَا نُوقِدُ فِيهِ نَارًا إِنَّمَا هُوَ التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنْ يُؤْتٰى بِاللُّحَيْمِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4192 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ محمد صلی الله علیہ وسلم کے گھر والے دو دن گندم کی روٹی سے سیر نہ ہوتے مگر ان میں سے ایک دن چھوہارے ہوتے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ يَوْمَيْنِ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ إِلَّا وَأَحَدُهُمَا تَمَرٌ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4193 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی حالانکہ ہم دو کالی چیزوں سے سیر نہ ہوئے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعْنَا مِنَ الأَسْوَدَيْنِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4194 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ کیا تم جس قدر چاہو کھانے پینے میں مشغول نہیں ۱؎میں نے تمہارے نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ردی خرمے بھی اس قدر نہ پاتے تھے کہ اپنا پیٹ بھرلیں ۲؎(مسلم)

وَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بَطْنَهٗ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4195 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس جب کھانا لایا جاتا تو آپ اس کھانے سے بچا ہوا مجھے بھیج دیتے تھے ۱؎آپ نے ایک دن ایک پیالہ بھیجا جس میں سے کچھ نہ کھایا تھا کیونکہ اس میں لہسن تھا۲؎میں نے حضور سے پوچھا کہ کیا وہ حرام ہے ۳؎فرمایا نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں اس کی بُو کی وجہ سے۴؎عرض کیا جسے آپ ناپسندکرتے ہیں اسے میں بھی ناپسند کرتا ہوں ۵؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهٖ إِلَيَّ وَإِنَّهٗ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِقَصْعَةٍ لَمْ يأكُلْ مِنْهَا لأنَّ فِيهَا ثُومًا فَسَأَلْتُهٗ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: «لَا وَلٰكِنْ أَكْرَهُهٗ مِنْ أَجْلِ رِيحِهٖ » . قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4196 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا فرمایا کہ وہ ہماری مسجد ۱؎سے الگ رہے یا اپنے گھر میں بیٹھے ۲؎اور بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی۳؎جس میں ساگ پات کی سبزیاں تھیں تو حضور نے اس میں بو محسوس کی تو فرمایا کہ اسے بعض صحابہ کی طرف بڑھا دو اور فرمایا تم کھاؤ ۴؎میں ان سے کلام کرتا ہوں جن سے تم کلام نہیں کرتے ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ قَالَ:فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا أَوْ لِيَقْعُدْ فِي بَيْتِهٖ . وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَقَالَ: قَرِّبُوهَا إِلٰى بَعْضِ أَصْحَابِهٖ وَقَالَ:كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِيْ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4197 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت مقدام ابن معدیکرب سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا اپنا کھانا ناپ لیا کرو ۱؎تم کو اس میں برکت دی جائے گی ۲؎(بخاری)

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيْ كَرِبَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:« كِيْلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكُ لَكُمْ فِيهِ».رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4198 ، باب:کھانوں کا بیان