باب:کھانوں کا بیان

کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا دستر خوان جب اٹھایاجاتا ۱؎تو آپ فرماتے الله کا شکر ہے بہت شکر پاکیزہ ۲؎جس میں برکت دی جائے نہ کفایت کیا ہوا اور نہ وداع کیا ہوا اور نہ اس سے بے پرواہی کی ہوئی اے ہمارے رب ۳؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رُفِعَ مَائِدَتُهٗ قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4199 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضر ت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی بندے سے خوش ہوتا ہے کہ وہ لقمہ کھائے تو اس پر الله کا شکر کرے ۱؎یا گھونٹ پیئے تو اس پر الله کا شکر کرے ۲؎(مسلم)اور ہم حضرت عائشہ اور ابو ہریرہ کی دونوں حدیثیں ایکماشبعالخ دوسری،خرج النبیالخ صلی الله علیہ وسلم ان شاء اللهباب فضل فقراءمیں بیان کریں گے۳؎

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى لَيَرْضٰى عَنِ العَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الأَكْلَةَ فَيَحْمَدُهٗ عَلَيْهَا أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدُهٗ عَلَيْهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَيْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا فِي «بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ» إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4200 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس تھے کہ کوئی کھانا پیش کیاگیا ۱؎تو میں نے ایسا کھانا نہ دیکھا جو ہمارے اول کھاتے وقت بہت برکت والا ہو اور آخر میں کم برکت والا ہو ۲؎ہم نے عرض کیایارسول الله صلی الله علیہ وسلم یہ کیسے ہوگیافرمایا ہم نے کھانے کے وقت اس پر الله کے نام کا ذکر کیا تھا۳؎پھر وہ بیٹھ گیا جس نے کھایا اور الله کا نام نہ لیا تو اسکے ساتھ شیطان نے کھایا ۴؎(شرح سنہ)

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُرِّبَ طَعَامٌ فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا وَلَا أَقَلَّ بَرَكَةً فِي آخِرِهٖ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ هٰذَا؟ قَالَ: « ذَكَرْنَا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ حِينَ أَكَلْنَا ثُمَّ قَعَدَ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ اللّٰهَ فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ فِي “شَرْحِ السُّنَّةِ”.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4201 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی کھائے تو اپنے کھانے پر الله کا ذکر بھول گیا ۱؎تو کہہ لے بسم الله اس کے اول میں اور اس کے آخر میں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَنَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اللّٰهَ عَلٰى طَعَامِهٖ فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللّٰهِ أَوَّلَهٗ وَآخِرَهٗ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4202 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت امیہ ابن محشِی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص کھاتا تھا تو اس نے بسم الله نہ پڑھی حتی کہ نہ باقی رہا اس کے کھانے سے مگر ایک لقمہ پھر جب اسے اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو اس کے اول و آخر بسم الله ۲؎کہا حضور ہنس پڑے پھر فرمایا کہ شیطان اس کے ساتھ کھاتا رہا پھر جب اس نے الله کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا سب قے کردیا ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أُمَيَّةَ بْنِ مَحْشِيٍّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَأْكُلُ فَلَمْ يُسَمِّ حَتّٰى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهٖ إِلَّا لُقْمَةٌ فَلَمَّا رَفَعَهَا إِلٰى فِيهِ قَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ أَوَّلَهٗ وَآخِرَهٗ فَضَحِكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهٗ فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللّٰهِ اسْتَقَاءَ مَا فِي بَطْنِهٖ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4203 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تھے ۱؎تو فرماتے تھے شکر ہے اس الله کا جس نے ہم کو کھلایاہم کو پلایا مسلمان بنایا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)۳؎

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهٖ قَالَ:الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4204 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ شکر گزار کھانے والا ۱؎صابر روزہ دار کی طرح ہے ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4205 ، باب:کھانوں کا بیان

ابن ماجہ،دارمی بروایت سنان ابن سنہ وہ اپنے والد سے ۱؎

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ عَنْ سِنَانِ بْنِ سَنَّةَ عَنْ أَبِيْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4206 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب کھاتے یا پیتے تو کہتے شکر ہے اس الله کا جس نے کھلایا پلایا اور اسے با آسانی اتارا ۱؎اور اس کے نکلنے کا راستہ بنایا ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقٰى وَسَوَّغَهٗ وَجَعَلَ لَهٗ مَخْرَجًا » رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4207 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت سلمان سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا کہ ۲؎کھانے کی برکت وضو کرنا ہے کھانے کے بعد۳؎تو میں نے یہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے ذکر کیا ۴؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانے کی برکت وضو کرنا ہے کھانے سے پہلے اور وضوکرنا ہے کھانے کے بعد ۵؎(ترمذی ،ابوداؤد)

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهٗ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهٗ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهٗ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4208 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پاخانہ سے تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم وضو کا پانی حاضر نہ کریں ۱؎فرمایا کہ وضو کا حکم دیا گیا صرف جب کہ نما ز کی طرف کھڑا ہوں ۲؎(ترمذی،ابواؤد)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُدِّمَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ قَالَ: «إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4209 ، باب:کھانوں کا بیان

اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4210 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ آپ کے پاس ثرید کا پیالہ لایا گیا ۱؎تو فرمایا کہ اس کے کناروں سے کھاؤ اور اس کے بیچ سے نہ کھاؤ ۲؎کیونکہ برکت برتن کے بیچ میں اترتی ہے۔(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے اور ابوداؤد کی روایت ہے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پیالے کے اوپر سے نہ کھائے لیکن اس کے نیچے سے کھائے ۳؎کیونکہ برکت اس کے اوپر سے اترتی ہے ۴؎

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهٗ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ: كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسْطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسْطِهَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: "إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَأْكُلْ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ، وَلَكِنْ يَأْكُلُ مِنْ أَسْفَلِهَا؛ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4211 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو تکیہ لگاکر کھاتے کبھی نہ دیکھا گیا ۱؎اور نہ دو شخص آپ کی ایڑیوں کو روندتے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَا رُئِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عَقِبَهٗ رَجُلَانِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4212 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن حارث ابن جز سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں روٹی اور گوشت لایا گیا حالانکہ آپ مسجد میں تھے ۲؎تو حضور نے کھایا اور آپ کے ساتھ ہم نے کھایا پھر آپ اٹھے نماز پڑھی اور ہم نے آپ کے ساتھ پڑھی اور اس پر زیادتی نہ کی ہم نے اپنے ہاتھ بجری سے پوچھ لیے۳؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزٍ وَلَحْمٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا مَعَهٗ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰى وَصَلَّيْنَا مَعَهٗ وَلَمْ نَزِدْ عَلٰى أَنْ مَسَحْنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4213 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا تو آپ کی خدمت میں دستی پیش کی گئی آپ اسے پسند کرتے تھے ۱؎تو آپ نے اسے دانت سے نوچ کر کھایا ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتٰى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهٗ فَنَهَسَ مِنْهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4214 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ گوشت چھری سے نہ کاٹو کیونکہ یہ عجمیوں کے معمولات سے ہے ۱؎اور اسے نوچ کر کھاؤ کہ مزیدار اور جلد اترنے والا ہے ۲؎ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان اور ان دونوں نے کہا یہ قوی نہیں ۳؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهٗ مِنْ صُنْعِ الْأَعَاجِمِ وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهٗ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ».رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَ الْبَيْهَقِيُّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”وَقَالَا: لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4215 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ام منذر سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میرے پاس نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے آپ کے ساتھ جناب علی تھے اور ہمارے ہاں خوشے لٹکے ہوئے تھے ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کھانے لگے اور علی بھی آپ کے ساتھ کھانے لگے۳؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جناب علی سے فرمایا اے علی ٹھہرو۴؎کیونکہ تم کمزور ہو ۵؎فرماتی ہیں پھر میں نے ان حضرات کے لیے چقندر اور جو تیار کیے ۶؎تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے علی اس سے لو کیونکہ یہ تمہارے لیے بہت موافق ہے ۷؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِقَالَتْ: دَخَلَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهٗ عَلِيٌّ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَعَلِيٌّ مَعَهٗ يَأْكُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلِيٍّ: «مَهْ يَا عَلِيُّ فَإِنَّكَ نَاقِهٌ» قَالَتْ: فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«يَا عَلِيُّ مِنْ هٰذَا فَأَصِبْ فَإِنَّهٗ أَوْفَقُ لَكَ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4216 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کھرچنی پسندتھی ۱؎(ترمذی، بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الثُّفْلُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4217 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت نبیشہ سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جو کسی پیالہ میں کھائے پھر اسے چاٹ لے ۱؎تو اس کے لیے پیالہ دعاء مغفرت کرتا ہے ۲؎احمد،ترمذی، ابن ماجہ،دارمی اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ نُبَيْشَة عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحَسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ القَصْعَةُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4218 ، باب:کھانوں کا بیان