باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله میرے اچھے برتاوے کا زیادہ حقدار کون ہے ۱∞؎فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہارا باپ ۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہار اباپ پھر تمہارا قریبی پھر قریبی ۳؎

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمَّكَ . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمَّكَ . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ أُمَّكَ . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أَبُوكَ . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أَبَاكَ ثمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4911 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اس کی ناک رگڑ جاوے ۱∞؎اس کی ناک رگڑ جاوے عرض کیا گیا یارسول الله کس کی فرمایا اس کی جو اپنے ماں باپ کو پائے ۲؎کہ ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے میں ہوں پھر جنت میں نہ چلا جاوے۳؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَغِمَ أَنْفُهٗ رَغِمَ أَنْفُهٗ . قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ . رَوَاهٗ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4912 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے فرماتی ہیں کہ میری ماں آئیں جب کہ وہ قریش میں مشرکہ تھیں ۱∞؎میں نے عرض کیا یارسول الله میری ماں میرے پاس آئی ہیں وہ دین سے دور ہیں۲؎کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں فرمایا ہاں کرو
۳
؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّيْ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ أُمِّيْ قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ صِلِيْهَا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4913 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله کو فرماتے سنا کہ فلاں قبیلہ میرے دوست نہیں ۱∞؎میرے دوست الله تعالٰی اور نیک کار مسلمان ہیں ۲؎لیکن ان کا رشتہ رحمی ہے جس کی تری سے میں تر کروں گا ۳؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ آلَ فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيَِّ اللّٰهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَلٰكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ أَبُلُّهَابِبَلَالِهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4914 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے مغیرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله نے حرام فرمایا ۱∞؎ماؤں کی نافرمانی اور بچیوں کا زندہ دفن اور روک رکھنا لاؤ لاؤ کرنا اور ناپسندیدہ کیا زیادہ قیل و قال بہت سوال ۲؎بربادی مال کو ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدَ الْبَنَاتِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ. وَكَرِهَ لَكُمْ وَ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4915 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ گناہ کبیرہ سے ہے کسی شخص کا اپنے ماں باپ کو گالی دینا ۱∞؎صحابہ نے عرض کیا یارسول الله کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے فرمایا ہاں ۲؎یہ کسی کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے باپ کو گالی دے اور یہ کسی کی ماں کی گالی دے تو وہ اس کی ماں کو گالی دے ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَهَلْ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهٗ فَيَسُبُّ أُمَّهٗ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4916 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بہترین بھلائیوں میں سے کسی شخص کا اپنے باپ کے غائب ہونے کے بعد اس کے محبت والوں سے سلوک کرنا ہے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيْهِ بَعْدَ أَنْ يُّوَلِيّ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4917 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو چاہے کہ اس کے رزق میں وسعت دی جاوے اور اس کی موت میں دیر کی جاوے ۱∞؎تو وہ صلہ رحمی کرے۔(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهٗ فِي رِزْقِهٖ وَيُنْسَأَ لَهٗ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4918 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله نے مخلوق پیدا فرمائی ۱∞؎جب اس سے فارغ ہوا تو رحم اٹھ کھڑا ہوا پھر اس نے رحمان کا دامن کرم پکڑلیا ۲؎رب نے فرمایا کیا ہے۳؎عرض کیا یہ جگہ ہے اس کی جو توڑے جانے سے تیری پناہ لے۴؎فرمایا کیا تو اس سے راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے اسے توڑ دوں۵؎بولا ہاں اے رب فرمایا تو ایسا ہی ہے۔(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَقَ اللّٰهُ الْخَلْقَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ فَأَخَذَتْ بِحَقْوَيِ الرَّحْمٰنِ فَقَالَ: مَهْ؟ قَالَتْ: هٰذَا مَقَامُ الْعَائِذُ بِكَ مِنَ الْقَطِيْعَةِ. قَالَ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلٰى يَا رَبِّ قَالَ: فَذَاكِ ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4919 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رحم بنا ہوا ہے رحمن سے ۱∞؎رب نے فرمایا ہے کہ جو تجھے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا ۲؎اور جو تجھے توڑے گا میں اسے توڑوں گا ۳؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ.فَقَالَ اللّٰهُ: مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهٗ وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهٗ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4920 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رشتے توڑنے والا جنت میں نہ جائے گا ۱∞؎(بخاری،مسلم)

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4921 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رحم عرش سے لٹکا ہوا ہے ۱∞؎کہہ رہا ہے کہ جو مجھے جوڑے الله اسے جوڑے اور جو مجھے توڑے الله اسے توڑ دے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ: مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللّٰهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللهُ ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4922 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رشتہ جوڑنے والا وہ نہیں جو یہ بدلہ چکائے لیکن جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑ دے ۱∞؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: لَيْسَ الْواصِلُ بِالْمُكَافِىءِ وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهٗ وَصَلَهَا . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4923 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے ابوہریرہ سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول الله میرے قرابت دار ہیں ۱∞؎میں ان سے جوڑتا ہوں اوروہ مجھ سے توڑتے ہیں،ان سے بھلائی کرتا ہوں وہ مجھ سے برائی کرتے ہیں،میں ان سے بردباری سے برتتا ہوں ۲؎وہ مجھ پر جہالت کرتے ہیں تو فرمایا کہ اگر ویسا ہی ہے جیسے کہہ رہا ہے تو تو ان کے منہ میں بھوبل ڈال رہا ہے۳

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ لِيْ قَرَابَةَ أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُوْنِيّ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيْؤُوْنَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَلَيْهِمْ وَيَجْهَلُوْنَ عَلَيَّ. فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللّٰهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلٰى ذٰلِكَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4924 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تقدیر کو نہیں رد کرتی مگر دعا ۲؎اور عمر میں نہیں زیادتی کرتا مگر اچھا سلوک ۳؎اور یقینًا انسان رزق سے محروم ہوجاتا ہے اس گناہ سے جو اسے پہنچے۴؎(ابن ماجہ)

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4925 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں جنت میں گیا تو میں نے اس میں تلاوت سنی ۱∞؎میں نے کہا یہ کون ہے بولے یہ حارثہ ابن نعمان ہیں ۲؎بھلائی ایسی ہوتی ہے بھلائی ایسی ہوتی ہے۳؎اور وہ اپنی ماں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکوکار تھے ۴؎شرح سنہ بیہقی شعب الایمان اور ان کی روایت میں ہے فرمایا میں سویا تو میں نے اپنے کو جنت میں دیکھا ۵؎بجائےدخلت الجنۃکے۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً فَقُلْتُ: مَنْ هٰذَا؟ قَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ كَذٰلِكُمُ الْبِرُّ كَذٰلِكُمُ الْبِرُّ . وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهٖ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ . وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: نِمْتُ فَرَأَيْتَنِيْ فِي الْجَنَّةِ بَدْلَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4926 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رب کی رضا باپ کی رضا مندی میں ہے اور رب کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رِضَا الربِّ فِي رِضَا الْوَالِدِ وَسُخْطُ الرَّبِّ فِي سُخْطِ الْوَالِدِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4927 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے کہ ایک شخص انکے پاس آیا بولا میری بیوی ہے اور میری ماں اسے طلاق دے دینے کا مجھے حکم دیتی ہے ۱∞؎تو ان سے ابوالدرداء نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ والدین جنت کے دروازوں میں بیچ کا درازہ ہیں تو اگر تم چاہو تو دروازہ سنبھال لو یا اسے ڈھا دو ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا؟ فَقَالَ لَهٗ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَحَافِظْ عَلَى البَابِ أَوْ ضَيِّعْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4928 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله میں کس سے سلوک کروں فرمایا اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا پھر اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا اپنے باپ سے ۲؎پھر درجہ بدرجہ قرابت داروں سے ۳؎(ترمذی، ابوداؤد)

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: أُمَّكَ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمَّكَ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمَّكَ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4929 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ الله تبارک و تعالٰی فرماتا ہے کہ میں الله ہوں ۱∞؎اور میں رحمان ہوں میں نے رحم کو پیدا فرمایا ۲؎اور اس کے لیے اپنے نام سے نام مشتق کیا ۳؎تو جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے توڑے گا میں اسے توڑوں گا ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُوْلُ: " قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی: أَنَا اللّٰهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنِ اسْمِي فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهٗ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4930 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان