باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت عبدالله ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس قوم پر رحمت نہیں اترتی جن میں قرابت توڑنے والا ہو ۱∞؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي أَوْفٰى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ عَلٰى قَوْمٍ فِيهِمْ قَاطِعُ الرَّحِمِ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4931 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابوبکر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اس کے مرتکب پر سزا الله دنیا میں بھی بھیجے مع آخرت میں ذخیرہ کرنے کے بمقابلہ بغاوت اور رشتہ توڑنے کے ۱∞؎(ترمذی، ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرٰى أَنْ يُعَجِّلَ اللّٰهُ ِلصَاحِبِهِ اَلْعَقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَايَدَّخِرُ لَهٗ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4932 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله بن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنت میں نہ جائے گا احسان جتانے والا اور نہ نافرمان اور ہمیشہ کا شراب خوار ۱∞؎(نسائی، دارمی)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمَرٍ . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارَمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4933 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم اپنے نسب یاد رکھو جس سے اپنے رشتے جوڑو ۱∞؎کیونکہ رشتے جوڑنا گھر والوں میں محبت ہے،مال میں برکت ہے ۲؎عمر میں درازی ہے ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهٖ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4934 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا یارسول الله میں نے بہت بڑا گناہ کرلیا ہے تو کیا میری توبہ ہوسکتی ہے ۱∞؎فرمایا کیا تیری ماں ہے عرض کیا نہیں فرمایا کیا تیری کوئی خالہ ہے عرض کیا کہ ہاں فرمایا اس سے اچھا سلوک کرو ۲؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِيمًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: وَهَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ؟ . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَبَرَّهَا . رَوَاهُ
التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4935 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابو اسید ساعدی سے فرماتے ہیں جب کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس تھے کہ بنی سلمہ کا ایک آدمی آیا عرض کیا یارسول الله کیا میرے والدین کی بھلائیوں میں سے کوئی بھلائی باقی ہےجو میں ان کی موت کے بعد ان سے کروں ۱∞؎فرمایا ہاں ان کے لیے دعا رحمت ان کی بخشش کی دعا ان کے بعد ان کے وعدے پورے کرنا اور ان رشتوں کو جوڑنا جو ان ہی کی وجہ سے ہی جوڑے جائیں ۲؎اور ان کے دوستوں کا احترام کرنا ۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَہٗ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلْ بَقِيَ مِنْ بَرِّ أَبَوَيِّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهٖ بَعْدَ مَوْتِهِمَا ؟ قَالَ: نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَاصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4936 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابو طفیل سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو مقام جعرانہ میں گوشت تقسیم فرماتے دیکھا ۲؎کہ ایک بی بی صاحبہ آئیں حتی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے قریب ہوگئیں تو حضور نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی وہ اس پر بیٹھ گئیں۳؎میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ حضور کی وہ ماں ہیں جنہوں نے حضور کو دودھ پلایاہے ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعْرَانَةِ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتّٰى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهٗ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: مَنْ هِيَ؟ فَقَالُوا: هِيَ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4937 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جب کہ تین آدمی چل رہے تھے کہ انہیں بارش نے آ لیا تو وہ پہاڑ میں ایک غار کی طرف چلے گئے تو ان کے غار کے منہ پر پہاڑ کی ایک چٹان آگری تو ان کو ڈھک لیا تب ان میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ان نیک اعمال کو سوچو جو تم نے الله کے لیے کیے ہوں اس کے وسیلہ سے الله سے دعا کرو ۱∞؎کہ الله اسے کھول دے تو ان میں سے ایک بولا الٰہی میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میرے بچے چھوٹے تھے ۲؎میں ان کے لیے جانور چراتا تھا جب میں شام کو ان کے پاس آتا دوہتا تو اپنے ماں باپ سے ابتداءکرتا کہ انہیں اپنے بچوں سے پہلے پلاتا۳؎مجھے ایک درخت دور لے گیا ۴؎تو میں نہ لوٹا حتی کہ شام ہوگئی پھر میں نے ان دونوں کو پایا کہ سو گئے تھے ۵؎میں نے دودھ دوہا جیسے دوہا کرتا تھا پھر میں دودھ لایا تو ان کے سر کے پاس کھڑا ہوگیا میں ان کو جگانا پسند نہ کرتا تھا اور یہ بھی نہ چاہتا تھا کہ ان سے پہلے بچوں سے ابتداءکروں ۶؎اور بچے میرے قدموں کے پاس بھوک سے رو رہے تھے میری ان کی حالت یہ ہی رہی حتی کہ صبح طلوع ہوگئی ۷؎تو اگر تو جانتا ہو کہ میں نے یہ تیری رضا کی تلاش کے لیے کیا ہے ۸؎تو اتنی کشادگی کردے جس سے ہم آسمان دیکھ لیں ۹؎چنانچہ الله نے ان کے لیے اتنا کھول دیا کہ وہ آسمان دیکھنے لگے ۱۰؎دوسرا بولا الٰہی میری چچا زاد تھی جس سے میں بہت ہی محبت کرتا تھا۱۱∞؎جیسی مرد عورتوں سے کرتے ہیں میں نے اس کی طرف اس کے نفس کے مطالبہ کے لیے بھیجا۱۲؎اس نے انکار کیا حتی کہ میں اس کو سو دینار دوں۱۳؎چنانچہ میں نے محنت کی حتی کہ سو دینار جمع کرلیے پھر میں اس کے پاس وہ لایا جب میں اس کے دونوں پاؤں کے بیچ میں بیٹھا ۱۴؎تو وہ بولی اے الله کے بندے الله سے ڈر،مہر نہ کھول ۱۵؎میں اس کے سامنے اٹھ کھڑا ہوگیا ۱۶؎الٰہی تو اگر تو جانتا ہو کہ میں نے یہ تیری رضا کی تلاش کے لیے کیا تو اس میں اور زیادہ کشادگی کردے تو الله نے اورکشادگی فرمادی ۱۷؎تیسرا بولا الٰہی میں نے مزدور رکھا تھا چاول کے ایک پیمانہ کے عوض ۱۸؎تو جب اس نے اپنا کام پوراکرلیا تو کہا مجھے میرا حق دے دو میں نے اس پر اس کا حق پیش کیا وہ اسے چھوڑ گیا ۱۹؎اس سے بے رغبتی کی میں اس چاول کو بوتا رہا حتی کہ میں نے اس سے بیل اور چرواہے جمع کرلیے ۲۰؎پھر وہ میرے پاس آیا بولا الله سے ڈر اور مجھ پر ظلم نہ کر مجھے میرا حق دے دے میں نے کہا ان بیلوں اور چرواہوں کی طرف جا وہ بولا الله سے ڈر مجھ سے دل لگی نہ کر ۲۱∞؎میں نے کہا کہ میں تجھ سے دل لگی نہیں کرتا تو یہ بیل اور چرواہے لے لے اس نے قبضہ کرلیا اور لے گیا ۲۲؎تو اگر تو جانتا ہو کہ میں نے یہ تیری رضا کی تلاش کے لیے کیا تو باقی ماندہ بھی کھول دے رب نے پھر ان سے کھول دیا ۲۳؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَتَمَاشَوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ فَمَالُوا إِلٰى غَارٍ فِي الْجَبَلِ فَانْحَطَّتْ عَلٰى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: اُنْظُرُوْا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا لِلّٰهِ صَالِحَةً فَادْعُوا اللّٰهَ بِهَا لَعَلَّهٗ يُفَرِّجُهَا. فَقَالَ أَحَدُهُمْ: اللّٰهُمَّ إِنَّهٗ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ كُنْتُ أَرْعٰى عَلَيْهِمْ فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ فَحَلَبْتُ بَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ وَلَدِي وَإِنَّهٗ قَدْ نَأٓى بِي الشَّجَرُ فَمَا أَتَيْتُ حَتّٰى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُؤُوسِهِمَا أَكْرَهٗ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَأَكْرَهٗ أَنْ أَبْدَأَ بِالصِّبْيَةِ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ فَلَمْ يَزَلْ ذٰلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتّٰى طَلَعَ الْفَجْرُ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذٰلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فُرْجَةً نَرٰى مِنْهَا السَّمَآءَ فَفَرَجَ اللّٰهُ لَهُمْ حَتّٰى يرَوْنَ السَّمَآءَ قَالَ الثَّانِي: اللّٰهُمَّ إِنَّه كَانَ لِي بِنْتُ عَمٍّ أُحِبُّهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ فَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا فَأَبَتْ حَتّٰى آتَيْهَا بِمِائَةِ دِيْنَارٍ فَسَعَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِئَةَ دِينَارٍفَلَقِيْتُهَا بِهَا فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا. قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تَفْتَحِ الْخَاتَمَ فَقُمْتُ عَنْهَا. اللّٰهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فَفَرَّجَ لَهُمْ فُرْجَةً وَقَالَ الْآخَرُ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اِسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرْقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا قَضٰى عَمَلَهٗ قَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي. فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهٗ فَتَرَكَهٗ وَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهٗ حَتّٰى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا فَجَاءَنِي فَقَالَ: اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تَظْلِمْنِي وَأَعْطِنِي حَقِّي. فَقُلْتُ: اِذْهَبْ إِلٰى ذٰلِكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيَهَا فَقَالَ: اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تَهْزَأْ بِي. فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَهْزَأُ بِكَ فَخُذْ ذَلِكَ الْبَقَرَ وَرَاعِيْهَا فَأَخَذَ فَانْطَلَقَ بِهَا. فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ مَا بَقِيَ فَفَرَّجَ اللهُ عَنْهُم ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4938 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت معاویہ بن جاہمہ سے کہ جاہمہ ۱∞؎نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی یارسول الله میں جہادکرنا چاہتا ہوں اور آپ سے مشورہ لینے حاضر ہوا ہوں ۲؎تو فرمایا کیا تیری ماں ہے عرض کیا ہاں فرمایا اسے مضبوط پکڑو۳؎کیونکہ جنت اس کے پاس ہے ۴؎(احمد،نسائی،بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَدْتُّ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ. فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4939 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میرے پاس بیوی تھی جس سے میں محبت کرتا تھا اور حضرت عمر اسے ناپسند کرتے تھے انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو ۱∞؎میں نے انکار کیا تو حضرت عمر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس واقعہ کا حضور سے ذکر کیا تو مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اسے طلاق دے دو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي اِمْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا. فَقَالَ لِي: طَلِّقْهَا فَأَبَيْتُ. فَأَتٰى عُمَرُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهٗ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلِّقْهَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4940 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله ماں باپ کا اپنی اولاد پر کیا حق ہے فرمایا وہ دونوں تیری جنت اور آگ ہیں ۱∞؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي أُمامةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا حَقُّ الْوَالِدَيْنِ عَلٰى وَلَدِهِمَا ؟ قَالَ: هُمَا جَنَّتُكَ ونارُكَ . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4941 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی بندہ جس کے ماں باپ یا ان میں سے ایک فوت ہوجاوے اور وہ ان کا نافرمان ہو ۱∞؎پھر وہ ان کے لیے دعا کرتا رہے بخشش مانگتا رہے حتی کہ الله اسے نیک کار لکھ دیتا ہے۲؎

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَمُوتُ وَالِدَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا وَإِنَّهٗ لَهُمَا لَعَاقٌّ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو لَهُمَا وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمَا حَتّٰى يَكْتُبَهُ اللّٰهُ بَارًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4942 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو الله کے لیے اپنے ماں باپ کے بارے میں مطیع ہو ۱∞؎تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں۲؎اگر ان میں سے ایک ہو تو ایک دروازہ اور جو اپنے والدین کے متعلق الله کا نافرمان ہو اس کے لیے آگ کے دو دروازے کھل جاتے ہیں۳؎اگر ایک ہو تو ایک دروازہ ایک شخص نے عرض کیا اگرچہ وہ ظلم کریں فرمایا اگرچہ اس پر ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں ۴؎

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَصْبَحَ مُطِيعًا لِلّٰهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهٗ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا. وَمَنْ أَصْبَحَ عَاصِيًا لِلّٰهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهٗ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ النَّارِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا قَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ ظَلَمَاهُ؟ قَالَ: وَإِنْ ظَلَمَاهُ وإِن ظَلَمَاهُ وإِنْ ظَلَمَاهُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4943 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ہے کوئی اپنے ماں باپ سے بھلائی کرنے والا لڑکا جو اپنے والدین کو ایک نظر رحمت سے دیکھے ۱∞؎مگر الله اس کے لیے ہر نظر کی عوض مقبول حج لکھتا ہے عرض کیا کہ اگرچہ ہر دن سو بار دیکھے۲؎فرمایا ہاں الله بہت بڑا اور بہت پاک ہے ۳؎

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَامِنْ وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ إِلٰى وَالِدَيْهِ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللّٰهُ لَهٗ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةً مَبْرُورَةً . قَالُوا: وَإِنْ نَظَرَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ اَللهُ أَكْبَرْ وَأَطْيَبُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4944 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے ابی بکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تمام گناہوں میں سے الله جو چاہے بخش دے گا ۱∞؎سوا ماں باپ کی نافرمانی کے کہ اس شخص کے لیے موت ہے پہلے زندگی میں ہی سزا دیتا ہے ۲؎

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كلُّ الذَّنُوْبِ يَغْفِرُ اللّٰهُ مِنْهَا مَا شَآءَ إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ فَإِنَّهٗ يُعَجَّلُ لِصَاحِبِهٖ فِي الْحَيَاةِ قَبْلَ الْمَمَاتِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4945 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان

روایت ہے حضرت سعید ابن العاص سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ چھوٹے بھائی پر بڑے بھائی کا حق ایسا ہے جیسے باپ کا حق اولاد پر ۲؎ان پانچ حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا۔

وَعَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَقُّ كَبِيْرِ الْإِخْوَةِ عَلٰى صَغِيرِهِمْ حَقُّ الْوَالِدِ عَلٰى وَلَدِهٖ . رَوَى البَيْهَقِيُّ الأَحَادِيْثَ الْخَمْسَةَ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4946 ، باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان