باب: جن چیزوں سے محرم بچے

کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمر سے کہ ایک شخص نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ محرم کون سے کپڑے پہنے ۱؎تو فرمایا کہ نہ قمیص پہنو،نہ پگڑیاں،نہ پائجامے اور نہ ٹوپیاں ۲؎نہ موزے بجز اس کے جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اورا نہیں ٹخنوں کے نیچے کاٹ لے ۳؎اور نہ وہ کپڑے پہنو جنہیں زعفران لگا ہو نہ وہ جنہیں ورس لگا ہو ۴؎(مسلم،بخاری) اور ایک روایت میں بخاری نے زیادہ کیا کہ محرمہ عورت منہ پر نقاب نہ ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۵؎

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَايَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ: «لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَيَلْبَسُ خُفَّيْنِ وليقطعهما أَسْفَل الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهٗ زَعْفَرَانٌ وَلَا وَرْسٌ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَزَادَ الْبُخَارِيُّ فِي رِوَايَةٍ: «وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازينِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2678 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو خطبہ دیتے سنا آپ فرماتے ہیں کہ جب محرم جوتے نہ پائے تو موزے پہن لے اور جب تہبند نہ پائے تو پائجامہ پہن لے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: «إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ نَعْلَيْنِ لَبَسَ خُفَّيْنِ وَإِذَا لَمْ يَجِدْ إِزَارًا لَبَسَ سَرَاوِيلَ»
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2679 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت یعلٰی ابن امیہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ مقام جعرانہ میں تھے ۲؎کہ آپ کے پاس ایک بدوی حاضر ہوئے جن پر قبا تھی اور وہ خلوق خوشبو میں لتھڑے ہوئے تھے ۳؎تو بولے یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور مجھ پر یہ ہے فرمایا اپنی خوشبو تو تین بار دھوڈالو ۴؎رہا جبہ تو اسے اتار ڈالو،پھر عمرہ میں وہ ہی کرو جو حج میں کرتے ہو ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعِّرَانَةِ، إِذْ جَاءَهٗ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالخَلُوقِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالعُمْرَةِ وَهٰذِهٖ عَلَيَّ. فَقَالَ: «أَمَا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2680 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے محرم نہ نکاح کرے نہ کرائے اور نہ نکاح کا پیغام دے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنكِحُ وَلَا يَخْطُبُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2681 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بی بی میمونہ سے بحالت احرام نکاح کیا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2682 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت یزید ابن الاصم سے جو حضرت میمونہ کے بھانجے ہیں ۱؎وہ جناب میمونہ سے راوی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت میمونہ سے بحالت حلال نکاح کیا ۲؎(مسلم)حضرت شیخ امام محی السنہ فرماتے ہیں کہ اکثر علماء اس پر ہیں کہ حضور انور نے ان سے نکاح تو بحالت حلال کیا مگر بحالت احرام نکاح کا حال کھلا پھر مکہ معظمہ کے راستہ میں مقام سرف میں آپ سے زفاف حلال ہو کر کیا۳؎

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ابْنِ أُخْتِ مَيْمُونَةَ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشَّيْخُ الإِمَامُ مُحْيي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللّٰهُ وَالْأَكْثَرُونَ عَلٰى أَنَّهٗ تَزَوَّجَهَا حَلَالًا وَظَهَرَ أَمْرُ تَزْوِيجِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ بَنٰى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ بِسَرِفَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2683 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم بحالت احرام اپنا سر مبارک دھولیتے تھے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهٗ وَهُوَ مُحْرِمٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2684 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بحالت احرام پچھنے لگوائے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2685 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت عثمان سے آپ نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے اس شخص کے بارے میں حدیث نقل کی جس کی آنکھیں دکھتی ہوں اور وہ محرم ہو کہ ایلوے سے لیپ کرے ۱؎(مسلم)

وَعَن عُثْمَان حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَكٰى عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2686 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضر ت ام الحصین سے فرماتی ہیں میں نے حضرت اسامہ و بلال کو دیکھا کہ ان میں سے ایک رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھے اور دوسرے صاحب اپنا کپڑا تانے ہوئے تھے ۱؎آپ کو گرمی سے بچاتے تھے حتی کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَتْ: رَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهٗ يَسْتُرُهٗ من الْحَرِّ حَتّٰى رَمٰى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2687 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم ان پرگزرے جب کہ وہ مقام حدیبیہ میں تھے مکہ معظمہ داخل ہونے سے پہلے ۲؎وہ محرم تھے اور ہانڈی کے نیچے آگ جلارہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں ۳؎تو فرمایا کیا تمہیں جوئیں دکھ دے رہی ہیں عرض کیا ہاں فرمایا تو اپنا سر منڈا دو اور ایک فرق(تین صاع)۴؎دانے مسکینوں میں بانٹ دو ۵؎فرق تین صاع کا ہوتا ہے یا تین دن کے روزے رکھ لو یا قربانی دے دو ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهٖ وَهُوَ بِالحُدَيْبِيَةَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقُمَّلُ تَتَهَافَتُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَقَالَ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟» . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ» . وَالْفَرَقُ: ثَلَاثَةُ آصُعٍ: «أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّام أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2688 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو سنا کہ آپ عورتوں کو بحالت احرام دستانوں اور نقاب سے اور ان کپڑوں سے جنہیں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرماتے تھے ۱؎ہاں احرام کے بعد جو رنگ برنگے کپڑے سرخ یا ریشمی یا زیور یا پائجامہ یا کرتہ یا موزہ چاہے پہنے ۲؎(ابوداؤد)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ عَنِ الْقُفَّازَيْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذٰلِكَ مَا أحبَّتْ مِنْ أَلْوَانِ الثِّيَابِ، مُعَصْفَرٍ، أَوْ خَزٍّ، أَوْ حُلِيٍّ، أَوْ سَرَاوِيلَ، أَوْ قَمِيصٍ، أَوْ خُفٍّ.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2689 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ہم پر قافلے گزرے تھے جب کہ ہم رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے جب قافلے ہم پر گزرتے ۱؎تو ہم میں سے ہر ایک اپنے سر سے چہرے پر چادر ڈال لیتی ۲؎پھر جب وہ آگے بڑھ جاتے تو ہم منہ کھول لیتے تھے ۳؎(ابوداؤد)ابن ماجہ کی روایت میں اس کے معنی ہیں۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا جَاوَزُوا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلٰى وَجْهِهَا، فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَلِابْنِ مَاجَهْ مَعْنَاهُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2690 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم بحالت احرام روغن زیتون لگالیتے تھے جو کسی خوشبو سے مہکایا نہ جاتا تھا ۱؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ وَهُوَ مُحْرِمٌ غَيْرَ الْمُقتَّتِ. يَعْنِي: غَيْرَ الْمُطَيَّبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2691 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر نے سردی محسوس کی تو فرمایا اے نافع مجھ پر کپڑ اڈال دو ۱؎تو میں نے آپ پر ایک برنس ڈال دی ۲؎تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم مجھ پہ ڈالتے ہو حالانکہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا۳؎(ابوداؤد)

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَجَدَ الْقَرَّ فَقَالَ: أَلْقِ عَلَيَّ ثَوبًانَافِعُ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ هٰذَا وَقَدْ نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبِسَهُ الْمُحْرِمُ؟ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2692 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن مالک ابن بحینہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بحالت احرام اپنے سر کے وسط میں مکہ معظمہ کے راستہ میں لُحی جمل میں پچھنے لگوائے ۱؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ فِي وَسَطِ رَأْسِهٖ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2693 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بحالت احرام ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا قدم کی پشت پرپچھنے لگوائے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلٰى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهٖ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2694 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے

روایت ہے حضرت ابو رافع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت میمونہ سے حلال ہونے کی صورت میں نکاح کیا اور حلال ہی ہونے کی حالت میں ان سے زفاف فرمایا میں ہی دونوں کے درمیان پیغام رساں تھا ۲؎(احمد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍقَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ وَبَنٰى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ وَكُنْتُ أَنَا الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2695 ، باب: جن چیزوں سے محرم بچے