- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- باب :صدقہ کی فضیلت
باب :صدقہ کی فضیلت
زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت عبدﷲابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمن کو پوجو،کھانا کھلاؤ،سلام پھیلاؤ جنت میں سلامتی سے چلے جاؤ ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلام". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1908 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ صدقہ رب تعالٰی کے غضب کو بجھاتا ہے ۱؎اور بری موت کو دفع کرتا ہے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ، وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السَّوْءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1909 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بھلائی صدقہ ہے اور بھلائی سے یہ بھی ہے کہ تو اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے ملے اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں ڈول دے ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1910 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا صدقہ ہے ۱؎اور بھلائی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روک دینا صدقہ ہے اور تیرا کسی کو بہک جانے والی زمین میں راہ دکھادینا تیرے لیے صدقہ ہے ۲؎اور تیرا کسی کمزور نگاہ والے شخص کی مددکردینا تیرے لیے صدقہ ہے ۳؎اور تیرا راستہ سے پتھر کانٹا ہڈی ہٹا دینا تیرے لیے ۴؎صدقہ ہے اور تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دیناتیرے لیے صدقہ ہے ۵؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيْكَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَنَصْرُكَ الرَّجُلَ الرَّدِيءَ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَ وَالْعَظْمَ عَن الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1911 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت سعد ابن عبادہ سے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ام سعد وفات پا گئیں تو اب کون سا صدقہ بہتر ہے ۱؎فرمایا پانی ۲؎لہذا سعد نے کنواں کھدوایا اور فرمایا یہ کنواں ام سعد کا ہے ۳؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "الْمَاءُ". فَحَفَرَ بِئْرًا، وَقَالَ: هَذِهِ لأُمِّ سَعْدٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1912 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مسلمان کسی ننگے مسلمان کو پہنائےﷲاسے جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا ۱؎اور جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھلائے تو ﷲ اس کو جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کو پلائے تو ﷲ اسے نہر والی پاک وصاف شراب پلائے گا ۲؎(ابوداؤد،ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَيُّمَا مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللّٰهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَطْعَمَ مُسْلِمًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللّٰهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ سَقَا مُسْلِمًا عَلَى ظَمَأٍ سَقَاهُ اللّٰهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ". رَوَاهُ أَبَو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1913 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت فاطمہ بنت قیس سے فرماتی ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مال میں زکوۃ کے سوا اور بھی حقوق ہیں ۱؎پھرحضور نے یہ آیت تلاوت کی کہ بھلائی صرف یہ نہیں کہ تم اپنے منہ پورب اور پچھم کو کرلوالایہ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)
وَعَن فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ فِي الْمَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ" ثُمَّ تَلَا:لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ الآيَة.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارَمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1914 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت بہیسہ ۱؎سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا یارسول ﷲ وہ کونسی چیز ہے جس کا منع کرنا جائز نہیں فرمایا پانی پھر عرض کیا یا نبی ﷲ اور کون سی چیز ہے جس کا منع کرنا جائز نہیں فرمایا نمک ۲؎عرض کیا یا نبی ﷲ اور کون سی چیز ہے جس کا منع کرنا جائز نہیں فرمایا ہر اچھا کام کرنا تمہارے لیے بہتر ہے ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا قَالَتْ: قَالَ: يَا رَسُول اللّٰه! مَا الشَيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: "الْمَاءُ". قَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: "الْمِلْحُ". قَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! مَا الشَّيْءُ الَّذِيْ لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: "أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1915 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو افتادہ زمین کو آباد کرلے ۱؎تو اس میں اسے ثواب ہے اور جو جانور اس سے کھا جائیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے ۲؎(دارمی)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ مِنْهُ فَهُوَ لَهٗ صَدَقَةٌ". رَوَاهُ [النَّسَائِيُّ] وَالدَّارَمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1916 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جو دودھ کا جانور عاریۃً دے یا چاندی قرض دے یا کسی کو راستہ بتائے تو اسے غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے ۱؎(ترمذی)
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ مَنَحَ مِنْحَةَ لَبَنٍ أَو وَرِقٍ، أَوْ هَدَى زُقَاقًا كَانَ لَهٗ مِثْلُ عِتْقِ رَقَبَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1917 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابو جری جابر ابن سلیم سے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا ۱؎تو میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ لوگ ان کی رائے سے کام کرتے ہیں وہ کوئی بات نہیں کہتے مگر لوگ اس پر عمل کرتے ہیں ۲؎میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں لوگ بولے یہ رسول اللہ ہیں ۳؎فرماتے ہیں میں نے دوبار عرض کیاعلیك السلامیارسول الله۴؎تو فرمایاعلیك السلامنہ کہا کرو کیونکہعلیك السلاممُردوں کا آپس كا سلام ہے ۵؎بلکہ کہوالسلامعلیك۶؎میں نے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ ہیں فرمایا میں اللہ کا ایسا رسول ہوں کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے اور میں اس سے دعا کروں تو وہ تمہاری تکلیف دور کردے اور اگر تمہیں قحط سالی پہنچے میں اس سے دعا کردوں تو تم پر اگا دے۷؎اور جب تم چٹیل زمین یا جنگل میں ہو اور تمہاری سواری گم ہوجائے میں اس سے دعا کروں تو اللہ وہ تمہیں واپس لوٹا دے ۸؎میں نے عرض کیا مجھے نصیحت کیجئے فرمایا کسی کو گالی نہ دینا فرماتے ہیں اس کے بعد میں نے کسی آزاد یا غلام اور اونٹ اور بکری کو گالی نہ دی ۹؎فرمایا اور کسی اچھی بات کو حقیر نہ جاننا ۱۰؎اور اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے کلام کیاکرنا یہ بھی نیکی ہے اور اپنا تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھنا اگر نہ مانو تو ٹخنوں تک ۱۱؎اور تہبند زیادہ نیچا رکھنے سے ہمیشہ بچنا کہ یہ تکبر ہے اور اللہ تعالٰی تکبر کو پسندنہیں کرتا اور اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے اورتمہیں کسی ایسے عیب سے عار دلائے جو تم میں وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے ایسے عیب سے عار نہ دلاؤ جو تم اس میں جانتے ہو۱۲؎اس کا وبال اس پر ہے۔(ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی نے ان سے سلام کی حدیث نقل کی اور ایک روایت میں ہے کہ تم کو اس کا ثواب ملے گا اور اس پر اس کا وبال ہوگا۱۳؎
وَعَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ، لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هٰذَا؟ قَالُوا: هٰذَا رَسُولُ اللّٰهِ، قَالَ: قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: "لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ" قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰهِ؟قَالَ: "أَنَا رَسُولُ اللّٰهِ الَّذِي إِن أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ". قُلْتُ: اعْهَدْ إِلَيَّ. قَالَ: "لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا"، قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً. قَالَ: "وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ، إِنَّ ذٰلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الإِزَارِ؛ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذٰلِكَ عَلَيهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ حَدِيثَ السَّلَامِ، وَفِي رِوَايَةٍ: "فَيَكُونُ لَكَ أَجْرُ ذٰلِكَ وَوَبَالُهُ عَلَيْهِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1918 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضر ت عائشہ سے کہ اہل بیت نے بکری ذبح کی ۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں سے کیا بچا وہ بولیں کہ کندھے کے سواء کچھ نہ بچا ۲؎فرمایا کندھے کے سوا سب بچ گیا ۳؎ترمذی اور ترمذی نے اسے صحیح فرمایا۔
عَن عَائِشَةَ أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا بَقِيَ مِنْهَا؟ " قَالَتْ: مَا بَقِي مِنْهَا إِلَّا كَتِفُهَا، قَالَ: "بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1919 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کپڑا نہیں پہناتا مگر جب تک اس کے بدن پر اس کا ایک چیتھڑا بھی رہے یہ اللہ کی حفاظت میں رہتا ہے ۱؎(احمد،ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا إِلَّا كَانَ فِي حِفْظٍ مِنَ اللّٰهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ مِنْهُ خِرْقَةٌ". رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1920 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے وہ اسے مرفوع کرتے ہیں فرمایا تین شخصوں سے اللہ محبت کرتا ہے ۱؎ایک وہ جو رات کو اٹھ کر قرآن پڑھے ۲؎دوسرا وہ جو اپنے داہنے ہاتھ سے خیرات کرے اور اسے چھپائے مجھے خیال ہے کہ فرمایا اپنے بائیں ہاتھ سے۳؎تیسرا وہ جوکسی لشکر میں تھا کہ اس کے ساتھی بھاگ گئے تو یہ دشمن کے مقابل رہا ۴؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غیرمحفوظ ہے اس کے ایک راوی ابوبکر ابن عیاش ہیں جو بہت غلطیاں کرتے ہیں ۵؎
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: "ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللّٰهُ: رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُو كِتَابَ اللّٰهِ، وَرَجُلٌ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا، -أُرَاهُ قَالَ: مِنْ شِمَالِهِ-، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ، فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، أَحَدُ رُوَاتِهِ أَبُو بَكْرِ ابْنُ عَيَّاشٍ كَثِيرُ الْغَلَطِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1921 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی تین شخصوں سے محبت کرتا ہے اور تین سے سخت ناراض ہے ۱؎جن سے محبت کرتا ہے ایک تو وہ شخص ہے جو کسی قوم کے پاس پہنچا ۲؎ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا اپنی آپس کی قرابت کی وجہ سے نہ مانگا ۳؎لوگوں نے اسے منع کردیا تو ان ہی میں سے ایک شخص پیچھے ہٹا اسے چھپ کر کچھ دے دیا جس کا عطیہ اللہ کے سواء اور اس دینے والے کے سواء کوئی نہیں جانتا ۴؎اور ایک وہ قوم جو رات بھر چلتی رہی حتی کہ جب انہیں نیند ہر ماسوا سے پیاری ہوگئی تو سر رکھ کر سوگئے تو یہ کھڑے ہوکر میری خوشامد کرنے لگا اور میری آیات تلاوت کیں ۵؎اور وہ شخص جو کسی لشکر میں تھا دشمن سے جنگ کی لوگ بھاگ پڑے تو یہ اپنا سینہ تان کر کھڑا ہوگیا حتی کہ قتل کردیا گیا یا اس کی وجہ سے فتح ہو گئی ۶؎اور وہ تین جن سے اللہ سخت ناراض ہے ایک بوڑھا زانی ۷؎اور متکبر فقیر اور ظالم غنی ۸؎(ترمذی،نسائی)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللّٰهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللّٰهُ، فَأَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللّٰهُ فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللّٰهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَمَنَعُوهُ، فتخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْيَانِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا، لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللّٰهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ، فَوَضَعُوا رُؤوسَهُمْ، فَقَامَ.يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهَزَمُوا فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ، وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللّٰهُ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالْغَنِيُّ الظَّلَومُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1922 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جبﷲنے زمین کو پیدا کیا تو زمین ہلنے لگی ۱؎تو پہاڑوں کو پیدا فرمایا تو انہیں زمین میں گاڑ دیا تو زمین ٹھہر گئی ۲؎تو فرشتوں نے پہاڑوں کی مضبوطی پر تعجب کیا بولے الٰہی کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہے ۳؎فرمایا ہاں لوہا ہے ۴؎عرض کیا یا الٰہی کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں آگ ہے ۵؎عرض کیا مولے کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز آگ سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں پانی ہے ۶؎بولے یاالٰہ العالمینکیا تیری مخلوق میں کوئی چیز پانی سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں ہوا ہے ۷؎بولے اے پروردگار کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز ہوا سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں وہ انسان جو داہنے ہاتھ سے خیرات کرے جسے بائیں ہاتھ سے چھپالے ۸؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور حضرت معاذ کی یہ حدیث کہ صدقہ خطائیں مٹا دیتا ہےکتاب الایمانمیں ذکر ہوچکی۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ الأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ، فَخَلَقَ الْجبَالَ، فَقَالَ بِهَا عَلَيْهَا، فَاستَقَرَّتْ، فَعَجِبَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ شِدَّةِ الْجبَالِ، فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنِ الْجِبَالِ؟قَالَ: نَعَمْ، الْحَدِيدُ. قَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ؟ قَالَ: نَعَمْ، النَّارُ. فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: نَعَمْ، الْمَاءُ، قَالُوا: يَا رَبِّ! فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءَ؟ قَالَ: نَعَمْ، الرِّيحُ، فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، ابْنْ آدَمَ تَصَدَّقَ صَدقَةً بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَريبٌ. وَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاذٍ: "الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ" فِي "كِتَابِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1923 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسلمان اپنے ہر مال سے جوڑاﷲکی راہ میں خیرات نہیں کرتا ۱؎مگر جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے ان میں سے ہر ایک اس کی طرف بلائے گا جو اس کے پاس ہے ۲؎میں نے عرض کیا یہ کیسے کرے فرمایا اگر اونٹ ہوں تو دو اونٹ دے اور اگر گائیں ہوں تو دو گائے دے ۳؎(نسائی)
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهٗ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ، كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ". قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: "إِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً فَبَقَرَتَيْنِ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1924 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت مرثد ابن عبد اللہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے خبردی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا قیامت کے دن مسلمان کا سایہ اس کا صدقہ ہوگا ۲؎(احمد)
وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْد اللّٰهِ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَّهُ سَمعَ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: "إِنَّ ظِلَّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1925 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو دسویں محرم اپنے بچوں کے خرچ میں فراخی کرے گا تو اللہ تعالٰی سارا سال اس کو فراخی دے گا ۱؎سفیان فرماتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کا تجربہ کیا تو ایسے ہی پایا ۲؎(رزین)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ فِي النَّفَقَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللّٰهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ". قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّا قَدْ جَرَّبْنَا فَوَجَدْنَاهُ كَذَلِكَ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1926 ، باب :صدقہ کی فضیلت
اور بیہقی نے شعب الایمان میں انہی ابن مسعود اور ابوہریرہ اور ابوسعید و جابر سے روایت کیا اور اسے ضعیف فرمایا ۳؎
وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ" عَنْهُ وَعَنْ أبي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ وَضَعَّفَهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1927 ، باب :صدقہ کی فضیلت