- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- باب :صدقہ کی فضیلت
باب :صدقہ کی فضیلت
زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
۱∞روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو حلال کمائی سے چھوارے کی برابر صدقہ کرے ۱؎اللہ تعالٰی صرف حلال ہی کو قبول کرتا ہے ۲؎تو اللہ اسے داہنے ہاتھ میں قبول کرتا ہے پھر صدقہ والے کے لیے اس کی ایسی پرورش کرتا ہی جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی حتی کہ پہاڑ کی طرح ہوجاتا ہے۳؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللّٰهُ إِلَّا الطَّيِّبَ فَإِنَّ اللّٰهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ،حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَل". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1888 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ خیرات مال کم نہیں کرتی ۱؎اور اللہ معافی کی وجہ سے بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے ۲؎اور کوئی شخص اللہ کے لیے انکسار نہیں کرتا مگر اللہ اسے بلندی دیتا ہے ۳؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ شَيْئًا، وَمَا زَادَ اللّٰهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللّٰهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1889 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو ﷲ کی راہ میں کسی چیز کا جوڑا خیرات کرے ۱؎تو جنت کے دروازں سے بلایا جائے گا ۲؎جنت کے بہت دروازے ہیں تو جو نماز والوں سے ہوگا وہ نماز کے دروازے سے پکاراجائے گا اور جو جہاد والوں سے ہوگا وہ جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جو صدقہ والوں سے ہوگا وہ صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزہ والوں سے ہوگا وہ دروازۂ ریان سے بلایا جائے گا ۳؎تب حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ اس کی ضرورت تو نہیں کہ کوئی تمام دروازوں سے بلایا جائے ۴؎مگر کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا حضور نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَاب الْجنَّة،وللجنة أَبْوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجهَاد دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجهَادِ، وَمَنْ كَانَ مَنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ،فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: "نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1890 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آج تم میں سے کس نے روزہ دار ہوکر صبح کی ۱؎حضرت ابوبکر نے کہا میں نے فرمایا آج تم میں سے کو ن جنازے کے ساتھ گیا حضرت ابوبکر نے عرض کیا میں فرمایا آج تم میں سے کس نے کسی مسکین کو کھلایا حضرت ابوبکر نے کہا میں نے فرمایا آج تم میں سے کس نے کسی بیمار کی عیادت کی حضرت ابوبکر نے عرض کیا میں نے تب رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص میں یہ خصلتیں نہیں جمع ہوتیں مگر وہ جنت میں جاتا ہے ۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: "فَمَنْ تَبعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: "فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: "فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1891 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے مؤمن بیبیو کوئی پڑوسن کا ہدیہ حقیر نہ جانے اگرچہ بکری کی کھری ہی ہو ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1892 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت جابر و حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بھلائی صدقہ ہے ۱؎(مسلم، بخاری)۲∞؎
وَعَنْ جَابِرٍ وَحُذَيْفَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1893 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھلائی کو حقیر نہ جانو اگرچہ یہ ہو کہ اپنے بھائی سے کشادہ پیشانی سے ملے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلِيقٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1894 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر مسلمان پر صدقہ ہے ۱؎صحابہ نے عرض کیا کہ اگر نہ پائے فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے کام کرے خود نفع اٹھائے اور خیرات کرے ۲؎عرض کیا اگر یہ بھی نہ کرسکے یا نہ کرے فرمایا تو کسی مظلوم حاجت مند کی مدد کرے ۳؎بولے اگر یہ بھی نہ کرے فرمایا تو اچھی بات کا حکم کرے۴؎بولے اگر یہ بھی نہ کرے تو فرمایا کہ برائی سے بچے کہ اس کے لیے یہ ہی صدقہ ہے ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ". قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: "فَلْيَعْمَلْ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعَ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقَ". قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: "فَيُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ". قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْهُ؟ قَالَ: "فَيَأْمُرُ بِالْخَيْرِ". قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: "فَيُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1895 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان کے ہر جوڑ کے عوض ہر دن جس میں سورج چمکے اس پر صدقہ ہے ۱؎دو کے درمیان انصاف کر دے یہ بھی صدقہ ہے اور کسی شخص کی اس کے گھوڑے پر مدد کر دے کہ اس پر اسے سوار کردے یا اس پر اس کا سامان چڑھا دے یہ بھی صدقہ ہے اور اچھی بات صدقہ ہے ۲؎اور ہر وہ قدم جس سے نماز کی طرف جائے صدقہ ہے ۳؎اور راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دے صدقہ ہے ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ: يَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَيُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1896 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اولاد آدم میں ہر انسان تین سو ساٹھ جوڑوں پر پیدا کیا گیا ۱؎تو جو اللہ کی تکبیر کہے،اس کی حمد کرے، تہلیل کرے،تسبیح پڑھے، اللہ سے معافی چاہے،لوگوں کے راستہ سے پتھریا کانٹا یا ہڈی ہٹا دے یا اچھی بات کا حکم دے یا برائی سے منع کرے ان تین سو ساٹھ کی گنتی کے برابر تو وہ اس دن کی طرح چلے گا کہ اپنی جان کو آگ سے دور کرے گا ۲؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِئَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللَّه، وَحَمِدَ اللّٰهَ، وَهَلَّلَ اللّٰهَ، وَسَبَّحَ اللّٰهَ ، وَاسْتَغْفَرَ اللّٰهَ ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ شَوْكَةً، أَوْ عَظْمًا،أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ نَهٰى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِئَةِ، فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1897 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر تسبیح میں صدقہ ہے اور ہر تکبیر میں صدقہ ہے اور ہر حمد میں صدقہ ہے اور ہر تہلیل میں صدقہ ہے ۱؎اور بھلائی کا حکم دینے میں صدقہ ہے اور برائی سے روکنے میں صدقہ ہے ۲؎اور ہر ایک کی حلال صحبت میں صدقہ ہے ۳؎لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں اسے ثواب ملتا ہے فرمایا بتاؤ تو اگر یہ شہوت حرام میں خرچ کرتا تو اس پر گناہ ہوتا تو یوں ہی جب اسے حلال میں خرچ کرے گا تو اسے ثواب ملے گا ۴؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ،وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: "أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرٌ؟ فَكَذٰلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1898 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین صدقہ بہت دودھ والی اونٹنی اور بہت دودھ والی بکری کا عطیہ ہے جو صبح کو برتن بھر کر دودھ دے اور شام کو دوسرا بھر کر ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "نِعْمَ الصَّدَقَةُ اللِّقْحَةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً، وَالشَّاةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً تَغْدُو بِإِناءٍ وَتَرُوحُ بِآخَرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1899 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جو کوئی باغ لگائے یا کھیت بوئے پھر اس سے آدمی یا چڑیاں یا جانور کچھ کھالیں مگر اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ طَيْرٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَتْ لَهٗ صَدَقَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1900 ، باب :صدقہ کی فضیلت
اور مسلم کی روایت میں حضرت جابر سے یوں ہے کہ جو اس سے چوری ہوجائے وہ بھی صدقہ ہے ۱؎
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ جَابِرٍ: "وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهٗ صَدَقَةٌ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1901 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس زانیہ عورت کی مغفرت ہو گئی ۱؎جو ایک کتے پرگزری کہ ایک کنوئیں کے کنارے ہانپ رہا تھا قریب تھا کہ پیاس اسے قتل کردیتی اس نے اپنا موزہ اتارا اسے اپنے دوپٹے سے باندھا اس طرح پانی نکالا ۲؎اس وجہ سے بخش دی گئی عرض کیا گیا کہ کیا ہم کو جانوروں میں بھی ثواب ہے فرمایا ہر تر کلیجے والے میں ثواب ہے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ، فَنَزَعَتْ خُفَّهَا فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا،فَنَزَعَتْ لَهٗ مِنَ الْمَاءِ، فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ". قِيلَ: إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ: "فِي كُلِّ ذَاتِ كبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1902 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن عمر اور ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے عذاب دی گئی ۱؎جسے اس نے باندھے رکھا حتی کہ بھوک سے مرگئی اسے نہ تو کھانا دیتی تھی اور نہ چھوڑتی تاکہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ أَمْسَكَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ مِنَ الْجُوعِ، فَلَمْ تَكُنْ تُطْعِمُهَا وَلَا تُرْسِلُهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خِشَاشِ الأَرْضِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1903 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک شخص درخت کی شاخ پرگزرا جو برسرراہ پڑی تھی وہ بولا کہ اسے مسلمانوں کے راہ سے ہٹا دوں کہیں انہیں تکلیف نہ دے ۱؎وہ جنت میں داخل کیا گیا ۲؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقٍ، فَقَالَ: لأُنَحِّيَنَّ هٰذَا عَنْ طَرِيقِ الْمُسلمين لَا يُؤْذِيهِمْ، فَأُدْخِلَ الْجنَّةَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1904 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے ایک شخص کو جنت میں مزے سے پھرتے دیکھا اس درخت کی وجہ سے جسے اس نے راستہ کے کنارے سے کاٹ دیا تھا جو لوگوں کو باعث تکلیف تھا ۱؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ كَانَتْ تُؤْذِي النَّاسَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1905 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابو برزہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا نبی ﷲ مجھے وہ بات سکھائیے جس سے نفع اٹھاؤں فرمایا مسلمانوں کے راستہ سے موذی چیز ہٹا دو ۱؎(مسلم)اور ہم حضرت عدی ابن حاتم کی یہ حدیث "اتقوا النار"ان شاءاللہباب علامات نبوتمیں بیان کریں گے ۲؎
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعْ بِهِ، قَالَ: "اعْزِلِ الأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ: "اتَّقُوا النَّارَ" فِي "بَابِ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ".ان شاء الله تعالٰی
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1906 ، باب :صدقہ کی فضیلت
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن سلام سے ۱؎فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو میں حاضرہوا ۲؎جب میں نے چہرہ انور غور سے دیکھا تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ پاک کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ۳؎پہلی بات جو حضور نے فرمائی یہ تھی کہ اے لوگو سلام کو پھیلاؤ اور کھانا کھلاؤ ۴؎رشتے جوڑو سب لوگ سوتے ہوں تو نماز پڑھو سلامتی سے جنت میں چلے جاؤ ۵؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- الْمَدِينَةَ جِئْتُ، فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ. فَكَانَ أَوَّلُ مَا قَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ!أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الأَرْحَامَ، وَصلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلامٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارَمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1907 ، باب :صدقہ کی فضیلت