باب :رکوع

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہےحضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے رکوع سجدے پورےکرو خدا کی قسم میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں ۱؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَقِيمُوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِيْ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 868 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا رکوع اورآپ کا سجدہ اور دو سجدوں کے درمیان نشست اور جب رکوع سےسر اٹھاتےسواءقیام اوربیٹھنے کے قریبًا برابرتھا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ الْبَرَاءِ قَالَ: كَانَ رُكُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُجُودُهٗ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ مَا خَلَا الْقيامِ وَالْقُعُوْدِ قَرِيباً مِنَ السَوَاءِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 869 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت انس سے فرماتےہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب"سمع الله لمن حمدہ"کہتے تو کھڑے رہتے حتی کہ ہم کہتے کہ آپ کو وہم ہوگیاپھرسجدہ کرتے اور دو سجدوں کے بیچ بیٹھتے حتی کہ ہم کہتے کہ آپ کو وہم ہوگیا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» قَامَ حَتّٰى نَقُولَ: قَدْ أُوْهِمَ ثُمَّ يَسْجُدُ وَيَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتّٰى نَقُولَ: قَدْ أُوْهِمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 870 ، باب :رکوع

روایت ہےحضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدہ میں زیادہ یہ کہتے تھے الٰہی اے ہمارے رب توپاک ہےتیری حمدہے خدایا مجھےبخش دے قرآن پرعمل کرتےتھے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهٖ وَسُجُودِهٖ: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 871 ، باب :رکوع

روایت ہے انہیں سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اپنے رکوع سجدہ میں کہتے تھے پاک ہے بے عیب ہے ۱؎فرشتوں اور روح کا رب ہے۲؎(مسلم)

وَعَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهٖ وَسُجُودِهٖ: «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوْحِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 872 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نےکہ مجھے رکوع اور سجدے میں تلاوت قرآن سےمنع کیا گیا ہے ۱؎رکوع میں تو رب کی تعظیم کرو ۲؎اور سجدے میں دعا میں کوشش کرو کہ وہ دعائیں قبولیت کے لائق ہیں۳؎(مسلم)

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 873 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب امام"سمع الله لمن حمدہ"کہے تو تم"اللّٰھم ربنا لك الحمد"کہوکیونکہ جس کا کلام فرشتوں کے کلام کے موافق ہوگا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ فَقُولُوا: اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهٗ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهٗ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 874 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاتے ۱؎تو فرماتے کہ الله اپنے حمدکرنے والوں کی سنتا ہے الٰہی ہمارے رب تیرے ہی لیے حمدہے آسمان بھرکر اور زمین بھرکر اور اس کے بعدوہ چیزبھرکرجوتوچاہے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفٰى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهٗ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 875 ، باب :رکوع

روایت ہےحضرت ابوسعید خدری سے فرماتےہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے ۱؎تو کہتے اے الله اے ہمارے رب تیرے ہی لیے حمدہے آسمان بھرکر زمین بھرکر اور اس کے لیے جو چیز تو چاہے وہ بھرکر،تعریف و بزرگی والا ہےجو کچھ بندہ کہے اس کا توحق دارہے ہم سب تیرے بندے ہیں الٰہی جو تو دے اسےکوئی روک نہیں سکتا اورجوتو روکے اسےکوئی دے نہیں سکتا تیرے مقابل غنی کو غنا نفع نہیں پہنچاتی ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلُ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 876 ، باب :رکوع

روایت ہےحضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے پیچھےنماز پڑھ رہے تھے ۲؎جب آپ نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا تو فرمایا الله اپنے حمد کرنے والے کی سنتا ہے تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے کہا اے ہمارے رب تیرے ہی لیے حمدہے بہت طیب برکت والی حمد جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ابھی کس نے یہ کلمات کہے ۳؎وہ بولا میں نے آپ نے فرمایا کہ میں نے چند اورتیس فرشتوں کو دیکھا کہ ان میں جلدی کررہے کہ پہلے کون لکھے۴؎(بخاری)

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» . فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا» قَالَ: أَنَا. قَالَ: «رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبهَا أولُ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 877 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت ابومسعود انصاری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےکہ انسان کی نماز درست نہیں ہوتی حتی کہ رکوع اورسجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی کرے ۲؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

عَنْ أَبِي مَسْعُودِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتّٰى يُقِيمَ ظَهْرَهٗ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 878 ، باب :رکوع

روایت ہےحضرت عقبہ ابن عامرسے فرماتے ہیں کہ جب آیت "فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیۡمِ"اتری تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اپنے رکوع میں کرلو اور جب آیت "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی" اتری تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اپنے سجدے میں رکھو ۱؎(ابو داؤد،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ} قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ» فَلَمَّا نَزَلَتْ (سَبِّحِ اسْمَ رَبك الْأَ عَلیٰ )قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه والدَارمِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 879 ، باب :رکوع

روایت ہےحضرت عون ابن عبد الله سے ۱؎وہ حضرت ابن مسعود سے راوی فرماتےہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے رکوع میںسبحان ربی العظیمتین بارکہہ لے تو اس کا رکوع پورا ہو گیا ہے ۲؎اور یہ ادنیٰ درجہ ہے اور جب سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میںسبحان ربی الاعلیتین بار کہہ لے تو اس کا سجدہ پورا ہوگیا ہے اور یہ ادنی درجہ ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،) ترمذی کہتے ہیں کہ اس کی اسناد متصل نہیں کیونکہ عون نے ابن مسعود سے ملاقات نہیں کی ۴؎

وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَقَالَ فِي رُكُوعِهٖ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهٗ وَذٰلِكَ أَدْنَاهُ وَإِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِي سُجُودِهٖ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَ عَلیٰ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهٗ وَذٰلِكَ أَدْنَاهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ و ابْن مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ عونًا لم يَلْقَ ابْنَ مَسْعُودٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 880 ، باب :رکوع

روایت ہےحضرت حذیفہ سے کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ رکوع میں "سبحان ربی العظیم" اور سجدہ میں"سبحان ربی الاعلی"کہتے تھے اور رحمت کی آیت پر نہیں پہنچتے مگر ٹھہر جاتے اور مانگ لیتے اور عذاب کی آیت پر نہیں پہنچتے مگر ٹھہرتے اور پناہ مانگتے ۱؎(ترمذی، ابو داؤد، دارمی، نسائی)اور ابن ماجہ نےالاعلیٰتک روایت کی، ترمذی نے فرمایا کہ یہ حسن ہےصحیح ہے۔

وَعَنْ حُذَيْفَةَ: أَنَّهٗ صَلّٰى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وکَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهٖ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» وَفِي سُجُودِهٖ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَ عَلیٰ » . وَمَا أَتٰى عَلٰى اٰيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ وَمَا أَتٰى عَلٰى اٰيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ وَتَعَوَّذَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَارمِيْ وَرَوَى النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلٰى قَوْلِهٖ: «الْأَ عَلیٰ » . وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 881 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوا ۲؎جب آپ نے رکوع کیا تو سورۂ بقرکی بقدرٹھہرے۳؎اور رکوع میں فرماتے تھے پاک ہے غلبے والا ملکوت بڑائی اورعظمت والا۴؎(نسائی)

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيَقُولُ فِي رُكُوعِهٖ: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ والمَلَكُوْتِ وَالكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 882 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت ابن جبیر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ابن مالک کو فرماتے سنا۲؎کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھی۳؎جس کی نماز اس جوان یعنی عمر ابن عبدالعزیز کے مقابل حضور صلی الله علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہ ہو فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ۴؎کہ ہم نے ان کا رکوع دس تسبیح اور سجدہ دس تسبیح کا اندازہ کیا ۵؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هٰذَا الْفَتٰى يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ: فَحَزَرْنَا رُكُوعَهٗ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ وَسُجُودَهٗ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 883 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت شقیق سے ۱؎فرماتےہیں کہ حضرت حذیفہ نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنا رکوع اور سجدہ پورا نہیں کرتا تھا ۲؎جب اس نے اپنی نماز پوری کی تو اسے بلایا اور اس سے حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۳؎فرماتے ہیں مجھے خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ اگر تو مرا تو تو اس طریقہ کے خلاف مرے گا جس پر الله نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو پیدا کیا ۴؎ (بخاری)

وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ: إِنَّ حُذَيْفَةَ رَأٰى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهٗ وَلَا سُجُودَهٗ فَلَمَّا قَضٰى صَلَاتَهٗ دَعَاهُ فَقَالَ لَهٗ حُذَيْفَةُ: مَا صَلَّيْتَ. قَالَ: وَأَحْسِبُهٗ قَالَ: وَلَوْ مِتَّ مِتَّ عَلیٰ غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ اللهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 884 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ لوگوں میں بدترین چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرے لوگ بولے یا رسول الله اپنی نماز میں چوری کیسےکرے گا فرمایا کہ رکوع اور سجدہ پورا نہ کرے ۱؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهٖ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهٖ قَالَ: لَا يُتِمُّ رُكُوعَها وَلَا سُجُودَها . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 885 ، باب :رکوع

روایت ہے حضرت نعمان ابن مرہ سے ۱؎نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم شرابی زانی اور چور کےمتعلق کیاسمجھتے ہو اور یہ سوال ان کی سزائیں اترنے سے پہلے تھا۲؎لوگ بولے الله ورسول جانیں فرمایا یہ گناہ کبیرہ ہیں ان میں سخت عذاب ہے اور بدترین چوری اس کی ہے جو اپنی نماز میں سے چرائے لوگوں نے عرض کیا یارسول الله نماز میں سے کیسے چرائے گا فرمایا کہ اس کا رکوع اورسجدہ پورا نہ کرے۳؎(مالک و احمد اور دارمی نے اس کی مثل)

وَعَنْ النُّعْمَانِ بنِ مُرَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا تَرَوْنَ فِي الشَّارِبِ وَالزَّانِي وَالسَّارِقِ وَذٰلِكَ قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ فِيهِمُ الْحُدُودُ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ. قَالَ: «هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ وَأَسْوَأُ السَّرِقَةِ الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهٖ» . قَالُوا: وَكَيف يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهٖ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: «لَا يُتِمُّ رُكُوعَها وَلَا سُجُودَها» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأحمَدُ وَرَوىٰ الدَارمِيْ نَحوَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 886 ، باب :رکوع