باب : میت پر رونے کابیان

جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

ٍ∞روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی ملیکہ سے فرماتے ہیں کہ عثمان ابن عفان کی بیٹی مکہ میں فوت ہوئیں ۱∞؎تو ہم جنازہ میں شرکت کے لیئے آئے وہاں ابن عمر اور ابن عباس بھی تھے میں ان دونوں بزرگوں کے درمیان بیٹھا تھا ۲؎تو عبد الله ابن عمر نے ابن عثمان سے جو ان کے سامنے تھے فرمایا کیا تم رونے سے منع نہیں کرتے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتاہے۳؎حضرت ابن عباس بولے کہ جناب عمربھی کچھ ایسا ہی کہتے تھے پھر آپ نے قصہ سنایا فرمایا کہ میں حضرت عمر کے ساتھ مکہ سے لوٹا حتی کہ جب ہم مقام بیداء میں تھے۴؎تو ایک خاردار درخت کے سائے کے نیچے ایک قافلہ تھا نظر پڑی آپ نے فرمایا جاؤ دیکھو یہ سوار کون ہے میں نے دیکھا تو حضرت صہیب تھے فرماتے ہیں میں نے آپ کو خبر دی فرمایا انہیں بلالو ۵؎میں حضرت صہیب کے پاس لوٹ گیا میں نے کہا چلو امیر المؤمنین کے ساتھ مل جاؤ پھر جب حضرت عمر شہید کیے گئے تو ۶؎صہیب روتے ہوئے آئے کہتے تھے ہائے میرے بھائی ہائے میرے ساتھی جناب عمر نے فرمایا اے صہیب کیا تم مجھ پر روتے ہو حالانکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتاہے ۷؎حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب عمر فاروق نے وفات پائی تو میں نے حضرت عائشہ سے اس کا ذکر کیا آپ بولیں الله عمر پر رحم کرے رب کی قسم رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیاجاتاہے لیکن الله کافر کا عذاب اس کے اہل کے رونے سے بڑھا دیتا ہے ۸؎حضرت عائشہ نے فرمایا تمہیں قرآن کافی ہے کہ کوئی بوجھل جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی ۹؎اس وقت حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ الله ہنساتا رولاتا ہے ۱۰؎ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے کچھ نہ فرمایا ۱۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: تُوُفِّيَتْ بِنْتٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ: أَلَا تَنْهٰى عَنْ الْبُكَاءِ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهٖ عَلَيْهِ” . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذٰلِكَ . ثُمَّ حَدَّثَ فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتّٰى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ فَإِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ. قَالَ: فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ: ادْعُهٗ فَرَجَعْتُ إِلٰى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي يَقُول: وَاأَخَاهُ وَاصَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبَ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهٖ عَلَيْهِ؟” فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذٰلِكَ لعَائِشَة فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللهُ عُمَرَ لَا وَاللهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبَ بِبُكَاءِ أَهْلِهٖ عَلَيْهِ وَلَكِنْ: إِنَّ اللهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهٖ عَلَيْهِ. وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ: (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرٰى) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذٰلِكَ: وَاللّٰهُ أَضْحَكَ وأَبْكٰى. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَمَا قَا لَ ابْنُ عُمَرَ شَيْئًا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1742 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو ابن حارثہ جعفر اور ابن رواحہ کی شہادت کی خبرملی تو آپ بیٹھے کہ آپ میں رنج وغم محسوس ہوتا تھا ۱∞؎میں دروازے کے جھیرے یعنی دروازے کے شگاف سے دیکھ رہی تھی کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا بولا کہ جعفر کی عورتیں اور ان کے بہت رونے کا ذکر کیا آپ نے اسے حکم دیا کہ انہیں منع کرے ۲؎وہ گیا پھر دوبارہ آیا کہ انہوں نے اس کی بات نہ مانی فرمایا انہیں منع کرو وہ تیسری بار آیا بولا یارسول الله رب کی قسم وہ ہم پر غالب آگئیں مجھے خیال ہے آپ نے فرمایا تو ان کے منہ میں خاک ڈالو۳؎میں بولی خدا تیری ناک رگڑ دے تو وہ تو کرے گا نہیں جس کا تجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا مگر تو نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو رنج دیئے بغیر نہ چھوڑا ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرَ وَابْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ تَعْنِي شِقَّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرَ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ فَأَمَرَهٗ أَنْ يَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ لَمْ يُطِعْنَهٗ فَقَالَ: انْهَهُنَّ فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ قَالَ: وَاللهِ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَزَعَمْتُ أَنَّهٗ قَالَ: “فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ” . فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللهُ أَنْفَكَ لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَتْرُكْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1743 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ جب ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں بولی کہ مسافر تھے اور جو اجنبی زمین میں فوت ہوئے تو ان پر ایسا روؤں گی کہ اس کا چرچا ہوجائے ۱؎ میں ان پر رونے کی تیاری کررہی تھی کہ ایک عورت میری امداد کے ارادے سے آئی ۲؎ اس کے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا کیا تم چاہتی ہوکہ شیطان کو اس گھر میں داخل کردو جہاں سے الله نے اسے دو مرتبہ نکالا ۳؎ میں رونے سے باز رہی پھر نہ روئی ۴؎(مسلم)

وَعَنْ أُمِّ سَلْمَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ لَأَبْكِيَنَّهٗ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخُلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللهُ مِنْهُ؟” مَرَّتَيْنِ وَكَفَفْتُ عَنْ الْبُكَاءِ فَلَمْ أَبْكِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1744 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ عبد الله ابن رواحہ پرغشی چھاگئی تو ان کی بہن عمرہ رونے لگیں کہ ہائے میرے پہاڑ ہائے میرے ایسے ہائے میرے ویسے ان کی خوبیاں گن گن کر،جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا کہ تم نے کچھ نہ کہا مگر مجھ سے کہا گیا کیاتم ایسے ہی ہو ۱∞؎ایک روایت میں زیادہ کیا تو جب وہ فوت ہوئے تو ان کی بہن ان پر نہ روئیں۔(بخاری)

وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلیٰ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ فَجَعَلَتْ أُخْتُهٗ عَمْرَةُ تَبْكِي: وَاجَبَلَاهَ وَاكَذَا وَاكَذَا،تُعَدِّدُ عَلَيْهِ فَقَالَ حِينَ أَفَاقَ: مَا قُلْتِ شَيْئًا إِلَّا قِيلَ لِي: أَنْتَ كَذٰلِكَ ؟ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ عَلَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1745 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایسی کوئی میت نہیں جو مرجائے تو ان کے رونے والا اٹھ کر کہے ہائے میرے پہاڑ، ہائے میرے سردار وغیرہ مگر الله اس پر دو فرشتے مقررکردیتا ہے جو اسے جھنجھوڑتے ہیں کہتے ہیں تو کیا ایسا ہی تھا ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب حسن ہے۔

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَا مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ فَيقُومُ بَاكِيهِمْ فَيَقُولُ: وَاجَبَلَاهُ وَاسِيِّدَاهُ وَنَحْوَ ذَلِكَ إِلَّا وَكَّلَ اللّٰهُ بِهِ مَلَكَيْنِ يَلْهَزَانِهِ وَيَقُولَانِ: أَهَكَذَا كُنْتَ؟". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1746 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ آل رسول الله صلی الله علیہ وسلم میں سے کوئی میت فوت ہوئی تو عورتیں جمع ہوکر اس پر رونے لگیں حضرت عمر کھڑے ہو کر انہیں منع کرنے اور ڈانٹنے لگے تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر انہیں چھوڑدو کیونکہ آنکھیں بہتی ہیں،دل مصیبت زدہ ہے اور واقعہ غم تازہ ہے ۱∞؎(احمد،نسائی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالْقَلْبَ مُصَابٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1747 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ زینب بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم فوت ہوئیں عورتیں روئیں تو جناب عمر انہیں کوڑے سے مارنے لگے ۱∞؎انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ہٹا دیا فرمایا اے عمر چھوڑو بھی پھر فرمایا شیطانی آواز سے پرہیز کرنا پھر فرمایا جو کچھ آنکھ اور دل سے ہو۲؎تو وہ الله کی طرف سے ہے اور رحمت ہے اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو وہ شیطان کی طرف سے ہے۔(احمد)

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَتِ النِّسَاءُ فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهٖ فَأَخَّرَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهٖ وَقَالَ: «مَهْلًا يَا عُمَرُ» ثُمَّ قَالَ: “إِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ” ثُمَّ قَالَ: “إِنَّهٗ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَمِنَ الْقَلْبِ فَمِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَمِنَ اللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ” . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1748 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے بخاری سے تعلیقًا فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسن ابن حسن ابن علی ۱؎ فوت ہوئے تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک قبہ ڈالے رکھا ۲؎ پھر اٹھا لیا تو کسی پکارنے والے کو سنا جوکہتا تھا کیا انہوں نے جو کھویا تھا وہ پالیا دوسرے نے جواب دیا بلکہ مایوس ہوکر چل دیئے ۳؎

وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: لَمَّا مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ ابْنِ عَليٍّ ضَرَبَتِ امْرَأَتُهُ القُبَّةَ عَلیٰ قَبْرِهٖ سَنَةً ثُمَّ رَفَعَتْ فَسَمِعَتْ صَائِحًا يَقُولُ: أَلَا هَلْ وَجَدُوا مَا فَقَدُوا؟ فَأَجَابَهٗ آخَرُ: بَلْ يَئِسُوا فَانْقَلَبُوا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1749 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین و ابی برزہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو آپ نے ایک قوم کو دیکھا جو اپنی چادریں پھینک گئے تھے اور قمیصوں میں چلتے تھے ۱∞؎نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جاہلیت کا کام اختیار کرتے ہویا جاہلیت کے عمل سے مشابہت کرتے ہو دل چاہتا ہے کہ تمہیں ایسی بددعا دوں کہ تم اپنی غیرصورتوں میں لوٹ جاؤ ۲؎فرمایا کہ انہوں نے فورًا ا پنی چادریں اٹھالیں اور پھر یہ کبھی نہ کیا۔(ابن ماجہ)

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَأَبِي بَرْزَةَ قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأٰى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدَيْتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ؟ أَوْ بِصَنِيعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ؟ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ” قَالَ: قَالَ: فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ وَلَمْ يَعُودُوا لِذٰلِكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1750 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ نوحہ والی ہوا ۱∞؎(احمد،ابن ماجہ)

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جَنَازَةٌ مَعهَا رَانَّةٌ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1751 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ میرا بچہ فوت ہوگیا جس پر میں بہت غمگین ہوں کیا آپ نے اپنے محبوب صلی الله علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جواپنے مُردوں کے متعلق ہمارا دل خوش کردے ۱∞؎فرمایا ہاں میں نے محبوب صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مسلمانوں کے بچے جنت کی چڑیاں ہیں ۲؎ان میں سے کوئی اپنے باپ سے ملے گا اس کے دامن کا پلو پکڑ لے گا اسے نہ چھوڑے گاحتی کہ اسے جنت میں داخل کرلے گا۳؎(مسلم، احمد)لفظ احمد کے ہیں۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهٗ : مَاتَ ابْنٌ لِي فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ شَيْئًا يَطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَلْقٰى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ فَيَأْخُذ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ، فَلَا يُفَارِقُهٗ حَتّٰى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1752 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت ابوسعید فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آکر بولی یا رسول الله مرد آپ کی احادیث لے گئے ہمیں بھی اپنی ذات شریف سے ایک دن عطا کریں جس سے ہم آپ کے پاس آجایاکریں کہ آپ ہمیں ان میں سے کچھ سکھایا کریں جو الله نے آپ کو سکھایا ۱∞؎فرمایا فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہوجایاکریں۲؎چنانچہ وہ جمع ہوگئیں ان کے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور رب کے سکھائے سے انہیں سکھایا ۳؎پھر فرمایا تم میں ایسی کوئی عورت نہیں جو اپنے تین بچے آگے بھیج دے ۴؎مگر وہ اس کے لیئے آگ سے آڑ ہوں گے تو ان میں سے ایک عورت بولی یارسول الله یا دو اس نے دوبارہ یہ سوال دہرایا تو آپ نے فرمایا اور دو اور دو اور دو۔(بخاری)۵؎

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ . فَقَالَ: “اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا” فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ ثُمَّ قَالَ: « مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمَ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ » فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوِ اثْنَيْنِ؟ فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ. ثُمَّ قَالَ: “وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1753 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایسے دو مسلمان نہیں جن کے تین بچے فوت ہوجائیں مگر الله اپنے فضل سے انہیں جنت میں داخل فرماتا ہے ۱∞؎لوگ بولے یارسول الله یا دو فرمایا يادو لوگ بولے یا ایک فرمایا یا ایک ۲؎پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کچا بچہ اپنی ماں کو اپنے نارو سے جنت کی طرف کھینچے گا جب کہ وہ طالب ثواب ہو۳؎(احمد)ابن ماجہ نے"وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ"سے روایت کی۔

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَا مِنْ مُسْلِمِيْنِ يُتَوَفّٰى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهٖ إِيَّاهُمَا» . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّه! أَوْ اثْنَانِ؟ قَالَ: "أَوْ اثْنَانِ". قَالُوا: أَوْ وَاحِدٌ؟ قَالَ: «أَوْ وَاحِدٌ” . ثُمَّ قَالَ: “وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهٗ بِسَرَرِهِ الى الجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ مِنْ قَوْلِهٖ: “وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِهٖ”

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1754 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو اپنے تین نابالغ بچے آگے بھیج دے تو وہ اس کے لیے آگ سے مضبوط قلعہ ہوں گے ۱∞؎حضرت ابوذر نے عرض کیا دو تو میں نے بھی بھیج دیئے فرمایا دو بھی،قاریوں کے سردار ابو المنذر ابی ابن کعب بولے۲؎کہ میں نے ایک بھیج دیا ہے فرمایا ایک بھی۔(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " من قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ: كَانُوا لَهٗ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ " فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ. قَالَ: «وَاثْنَيْنِ» قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ: قَدَّمْتُ وَاحِدًا. قَالَ: "وَوَاحِدًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1755 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت قرہ مزنی سے کہ ایک شخص اپنے بچے کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا اس سے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو اس سے محبت کرتا ہے وہ بولا یا رسول الله جتنی میں اس سے محبت کرتا ہوں رب آپ سے بھی اتنی محبت کرے ۱∞؎ایک دفعہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اسے گم پایا ۲؎تو پوچھا فلاں کا بیٹا کیا ہوا لوگوں نے کہا یارسول الله وہ مرگیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ پسندنہیں کہ تم جنت کے کسی دروازے پر نہ جاؤ مگر وہاں اسے اپنا انتظارکرتا پاؤ ۳؎ایک شخص نے کہا یارسول الله کیا یہ خاص اسی کے لیئے ہے یا ہم سب کے لیئے فرمایا بلکہ تم سب کے لیئے۔(احمد)

وَعَنْ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهٗ ابْنٌ لَهٗ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَتُحِبُّهُ؟” فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّكَ اللهُ كَمَا أُحِبُّهُ. فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ؟” قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَاتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهٗ يَنْتَظِرُكَ؟” فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ لَهٗ خَاصَّةً أَمْ لِكُلِّنَا؟ قَالَ: “بَلْ لِكُلِّكُمْ” . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1756 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کچا بچہ اپنے رب سے جھگڑے گا جب رب اس کے ماں باپ کو آگ میں داخل کرے گا ۱∞؎تو فرمایا جائے گا اے رب سے جھگڑنے والے گرے بچے اپنے ماں باپ کو جنت میں لے جا تب وہ انہیں اپنے نارو سے کھینچے گا حتی کہ انہیں جنت میں داخل کرے گا ۲؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِن السِّقْطَ لَيُرَاغِمُ رَبَّهٗ إِذَا أَدْخَلَ أَبَوَيْهِ النَّارَ فَيُقَالُ: أَيُّهَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّهٗ أَدْخِلْ أَبَوَيْكَ الْجَنَّةَ فَيَجُرُّهُمَا بِسَرَرِهٖ حَتّٰى يُدْخِلَهُمَا الْجَنَّةَ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1757 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ رب فرماتا ہے اے ابن آدم اگر تو پہلے صدمہ پر صبراور طلب اجر کرے تو میں تیرے لیئے جنت کے سوا کسی ثواب سے راضی نہ ہوؤں ۱∞؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولٰى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1758 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت حسین ابن علی سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں ایسا کوئی مسلمان مرد عورت نہیں جسے کوئی مصیبت پہنچی ہوئی اگرچہ پرانی ہوچکی ہو اسے یاد آجائے تواِنَّا لِلّٰہپڑھ لے ۱∞؎مگر الله تعالٰی اسے اس وقت نیا ثواب دیتا ہے ویسا ہی ثواب جو مصیبت پہنچنے کے دن دیا تھا ۲؎(احمد،بیہقی ،شعب الایمان )

وَعَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ طَالَ عَهْدُهَا فَيُحْدِثُ لِذٰلِكَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى لَهٗ عِنْدَ ذٰلِكَ فَأَعْطَاهُ مِثْلَ أَجْرِهَا يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1759 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب کسی کاتسمہ ٹوٹ جائے تواِنَّالِلّٰہپڑھے کہ یہ بھی مصیبتوں سے ہے ۱∞؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلْيَسْتَرْجِعْ فَإِنَّهٗ مِنَ الْمَصَائِبِ » . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1760 ، باب : میت پر رونے کابیان

روایت ہے حضرت ام الدرداء سے فرماتی ہیں میں نے ابو الدرداءکو فرماتے سناکہ میں نے ابو القاسم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ الله تعالٰی نے فرمایا اے عیسیٰ میں تمہارے بعد ایسی امت پیداکرنے والا ہوں کہ جنہیں اگر پسندیدہ چیز ملے گی تو الله کی حمدکریں گے اور اگر ناپسند چیز ملے گی تو طلب اجر و صبرکریں گے ۱∞؎حالانکہ ان میں علم و حلم نہ ہوگا ۲؎عرض کیا الٰہی ان میں یہ خوبی حلم وعقل کے بغیرکیونکر ہوگی فرمایا انہیں اپنے علم و حلم سے دوں گا ۳؎(بیہقی ،شعب الایمان )

وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى قَالَ: يَا عِيسٰى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً إِذَا أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللهَ وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ يَكُونُ هٰذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ؟ قَالَ: أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي".رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1761 ، باب : میت پر رونے کابیان