- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- باب : میت کے دفن کا بیان
باب : میت کے دفن کا بیان
جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت عامرابن سعد ابن ابی وقاص سے کہ سعد ابن ابی وقاص نے اپنے مرض وفات میں فرمایا میرے لیے بغلی قبرکھودنا اورمجھ پرکچی اینٹیں یونہی کھڑی کرنا جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیے کی گئیں ۱∞؎(مسلم)
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ فِي مَرَضِهِ الذِي هَلَكَ فِيهِ: أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَیَّ اللَّبِنَ نَصْبًا كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1693 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی قبر انور میں سرخ کمبل ڈالا گیا ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1694 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت سفیان تمار سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی قبرکوہان نما دیکھی ۱∞؎(بخاری)
وَعَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ: أَنَّهٗ رَأٰى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1695 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت ابی ھیاج اسدی سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت علی نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بھیجا تھا کہ تم کوئی تصویر نہ دیکھو مگر مٹادو اور نہ اونچی قبر دیکھومگر زمین کے برابرکردو۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ: أَلَا أَبْعَثَكَ عَلیٰ مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهٗ وَلَا قَبْرًا مُشْرَفًا إِلَّا سَوَّيْتَهٗ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1696 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ قبر میں چونا گچ کیا جائے ۱∞؎اور یہ کہ اس پر کچھ بنایاجائے ۲؎اور یہ کہ اس پر بیٹھا جائے ۳؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُبْنٰى عَلَيْهِ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1697 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت مرثدغنوی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا تَجْلِسُوا عَلَی القُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1698 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سےکسی کا چنگاری پر بیٹھنا کہ جو کپڑے کو جلاکر اس کی کھال تک پہنچ جائے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلیٰ جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهٗ فَتَخْلِصَ إِلٰى جِلْدِهٖ خَيْرٌ لَهٗ مِنْ أَنْ يجلس عَلیٰ قَبْرٍ”.رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1699 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت عروہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ مدینہ میں دوشخص تھے ایک بغلی کھودتا تھا دوسرا یہ نہیں ۱∞؎صحابہ نے کہا ان میں جو پہلے آئے وہ اپنا کام کرلے تو بغلی کھودنے والا ہی آیا جس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیئے بغلی قبر کھودی۲؎(شرح سنہ)
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَلْحَدُ وَالْآخَرُ لَا يَلْحَدُ. فَقَالُوا: أَيُّهُمَا جَاءَ أَوَّلًا عَمِلَ عَمَلَهٗ . فَجَاءَ الَّذِي يَلْحَدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1700 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بغلی قبر ہمارے لیئے ہے اور صندوقی ہمارے غیروں لیئے ہے ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “اللَّحْدُ لَنَا وَالشِّقُّ لِغَيرِنَا” رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1701 ، باب : میت کے دفن کا بیان
احمد نے جریر ابن عبد الله سے روایت کی۔
وَرَوَاهُ أَحْمدُ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1702 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت ہشام ابن عامر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا کہ چوڑی،گہری اور اچھی قبر کھودو ۱∞؎اور ایک قبر میں دو دو تین تین دفن کرو جن میں زیادہ قرآن والوں کو آگے رکھو۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ابن ماجہ نےاحسنواتک۔
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: “اِحْفُرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِيْ قَبْرِ وَاحِدٍ وَقَدِّمُوْا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا” . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ إِلٰى قَوْلِهِ وَأَحْسِنُوْا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1703 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں جب احد کا دن ہوا تو میری پھوپھی میرے بآپ کو لائیں تاکہ انہیں اپنے قبرستان میں دفن کریں تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اعلانچی نے اعلان کیا کہ شہداءکو ان کے قتل گاہ کی طرف واپس کرو ۱∞؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی)اور لفظ ترمذی کے ہیں۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي لِتَدْفِنَهٗ فِي مَقَابِرِنَا فَنَادٰى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “رُدُّوا الْقَتْلَى الٰى مَضَاجِعِهِمْ “ . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَارمِيْ وَلَفْظُهٗ لِلتِّرْمِذِي
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1704 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا گیا ۱∞؎(شافعی)
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهٖ. رَوَاهُ الشَّافِعِي
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1705 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم رات کے وقت قبر میں تشریف لے گئے تو آپ کے لیئے چراغ جلایا گیا ۱∞؎حضور نے میت کو قبلہ کی طرف سے لیا ۲؎اور فرمایا الله تم پر رحم کرے تم بہت زاری کرنے اور تلاوت قرآن کرنے والے تھے۳؎(ترمذی)شرح سنہ نے فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۴؎
وَعَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ قَبْرًا لَيْلًا فَأُسْرِجَ لَهٗ بِسِرَاجٍ فَأَخَذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَقَالَ: “رَحِمَكَ اللهُ إِنْ كُنْتَ لَأَوَّاهًا تَلَّاءً لِلْقُرْآنِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ: إِسْنَادُهٗ ضَعِيْفٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1706 ، باب : میت کے دفن کا بیان
رو ایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب میت کو قبر میں اتارتے تو فرماتے الله کے نام سے اور الله کی مدد سے رسول الله کے دین پر اور ایک روایت میں ہے رسول الله کی سنت پر ۱∞؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد نے دوسری روایت کی۔
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ الْمَيِّتَ الْقَبْرَ قَالَ: “بِسْمِ اللهِ وَبِاللهِ و عَلیٰ مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ “ . وَفِي رِوَايَةٍ: " وَعَلیٰ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوٰى أَبُو دَاوُدَ الثَّانِيَةَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1707 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے وہ اپنے بآپ سے مرسلًا راوی ۱∞؎کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے میت پر اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپ ڈالے ۲؎اور اپنے فرزند ابراہیم کی قبر پر چھڑکاؤ کیا اور اس پرکنکر بچھائے ۳؎(شرح سنہ)اور شافعی نےرشّسے۔
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَا عَلَی المَيِّتِ ثَلَاثَ حَثِيَّاتٍ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا وَأَنَّهٗ رَشَّ عَلیٰ قَبْرِ ابْنِهٖ إِبْرَاهِيمَ وَوَضَعَ عَلَيْهِ حَصْبَاءَ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَى الشَّافِعِيُّ مِنْ قَوْلِهٖ: “رَشَّ”
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1708 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے قبر کو گچ کرنے ۱∞؎ان پر لکھنے ۲؎اور ان پر چلنے سے منع کیا۳؎(ترمذی)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يُّجَصَّصَ الْقُبُوْرُ وَأَن يُّكْتَبَ عَلَيْهَا وَاِنْ طُوْطَاء. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1709 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی قبر پر پانی چھڑکا گیا چھڑکنے والے حضرت بلال ابن رباح تھے جنہوں نے مشکیزے سے آپ کی قبر پر چھڑکا سرہانے سے شروع کیا حتی کہ پائنتی تک پہنچ گئے ۱∞؎بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کی۔
وَعَنْهُ قَالَ: رُشَّ قَبْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الَّذِي رَشَّ الْمَاءَ عَلیٰ قَبْرِهٖ بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ بِقَرْبَةٍ بَدَأَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهٖ حَتّٰى اِنْتَهَى الٰى رِجْلَيْهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1710 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت مطّلب ابن ابی وداعہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں حضرت عثمان ابن مظعون فوت ہوئے ان کا جنازہ لاکر دفن کیا گیا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص کو پتھرلانے کا حکم دیا وہ اسے اٹھا نہ سکا ۲؎تب خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم ادھرتشریف لے گئے اپنی آستینیں چڑھائیں مطلب کہتے ہیں کہ جس نے مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس واقعہ کی خبر دی وہ کہتے تھے گویا میں اب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی کہنیاں دیکھ رہا ہوں جب کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں کھولا پھر پتھر اٹھایا اور اسے قبر کے سرہانے رکھ دیا۳؎اور فرمایا کہ میں اس سے اپنے بھائی کی قبر کا نشان لگاتا ہوں اور انہی کے پاس اپنے فوت ہونے والے گھر والوں کو دفن کردوں گا۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ ابْنُ مَظْعُونٍ أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهٖ فَدُفِنَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يَأْتِيَهٗ بِحَجَرٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهَا فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ. قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهٖ وَقَالَ: “أَعَلِمُ بِهَا قَبْرَ أَخِي وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهلِي” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1711 ، باب : میت کے دفن کا بیان
روایت ہے حضرت قاسم ابن محمد سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا اورعرض کیا کہ والدہ ماجدہ مجھے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی قبر کھول کر دکھایئے ۲؎ آپ نے میرے سامنے تین قبریں کھولیں جو نہ بہت اونچی تھیں نہ زمین کے برابر جن پر میدان کی سرخ بجری بچھی تھی ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّاهُ اكْشِفِي لِي عَنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ فَكَشَفَتْ لِي عَنْ ثَلَاثَةِ قُبُورٍ لَا مُشْرِفَةٍ وَلَا لَاطِئَةٍ مَبْطُوحَةٍ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ الْحَمْرَاءِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1712 ، باب : میت کے دفن کا بیان
- 1
- 2