باب : میت کے دفن کا بیان

جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ پر گئے قبر پر پہنچے تو ابھی تیار نہ ہوئی تھی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم روبقبلہ بیٹھے اور ہم آپ کے ساتھ بیٹھے۔(ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ)ابن ماجہ نے آخر میں یہ بڑھایا کہ گویا ہمارے سروں پر پربندے تھے ۱∞؎

وَعَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى القَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ بَعْدُ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَجَلَسْنَا مَعَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ فِي آخِرِهٖ: كَأَنَّ عَلیٰ رُؤُوْسِنَا الطَيْرَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1713 ، باب : میت کے دفن کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میت کی ہڈیاں توڑنا زندہ کی ہڈیا ں توڑنے کی طرح ہے ۱∞؎(مالک،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهٖ حَيًّا” . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1714 ، باب : میت کے دفن کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی دختر کے جنازے پر حاضر ہوئے جب وہ دفن کی جارہی تھیں ۱∞؎اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم قبر پر بیٹھے تھے میں نے آپ کی آنکھوں کو دیکھا کہ آنسو بہا رہی تھیں حضور نے فرمایا کیا تم میں کوئی ایسا بھی ہے جس نے آج رات صحبت نہ کی ہو۲؎ابوطلحہ بولے میں فرمایا تم قبر میں اترو وہ آپ کی قبر میں اترے۳؎(بخاری)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: شَهِدْنَا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُدْفَنُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَی القَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ فَقَالَ: " هَلْ فِيكُمْ مَنْ أَحَدٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟ . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا. قَالَ: فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا". رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1715 ، باب : میت کے دفن کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے کہ انہوں نے اپنے فرزند سے بحالت موت فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے ساتھ نہ کوئی نوحہ والی جائے نہ آگ ۱∞؎جب تم مجھے دفن کرو تو مجھ پرمٹی ڈالنا پھر میری قبر کے اردگرد اس قدر کھڑے رہنا جتنی دیر اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت بانٹ دیا جائے تاکہ تم سے مجھے اُنس ہو اور جان لو کہ میں رب کے فرشتوں کو کیا جواب دوں ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ لِابْنِهٖ وَهُوَ فِي سِيَاقِ الْمَوْتِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتّٰى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهٖ رُسُلَ رَبِّي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1716 ، باب : میت کے دفن کا بیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا جب کوئی مرجائے تو اسے روک نہ رکھو اس کی قبر تک جلدی پہنچاؤ ۱∞؎اس کے سر کے پاس سورۂ بقر کا شروع اور پیروں کے پاس بقر کا آخری رکوع پڑھو۲؎(بیہقی ،شعب الایمان )اور فرمایا صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث ان پرموقوف ہے۔

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَلَا تَحْبِسُوهُ وَأَسْرِعُوا بِهٖ إِلٰى قَبْرِهٖ وَلْيُقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِهٖ فَاتِحَةُ الْبَقَرَةِ وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ بِخَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ” . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ. وَقَالَ: وَالصَّحِيْحُ أَنَّهٗ مَوْقُوْفٌ عَلَيْهِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1717 ، باب : میت کے دفن کا بیان

روایت ہے حضرت ابن ابی ملیکہ سے فرماتے ہیں جب عبد الرحمان ابن ابی بکر نے مقام جشی میں وفات پائی تو وہ مکہ لاکر دفن کیے گئے ۱∞؎جب حضرت عائشہ آئیں تو عبدالرحمان ابن ابی بکر کی قبر پر تشریف لے گئیں اور یہ شعر پڑھے ۲؎ہم تم دراز زمانہ تک جذیمہ کے وزیروں کی طرح رہےحتی کہ کہا گیا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے مگر جب بچھڑے تو میں اور مالک اتنا دراز ساتھ رہنے کے باوجودگویا ایک رات بھی ساتھ نہ رہے ۳؎پھر بولیں رب کی قسم اگر میں موجود ہوتی تو تم وہیں دفن کیے جاتے جہاں تم فوت ہوئے اور اگر میں اس وقت ہوتی تو اب تمہاری زیارت نہ کرتی ۴؎(ترمذی)

وَعَنْ اِبْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِيْ بَكْرٍ بِالْجُشٰی (مَوضِعٌ قَرِيْبٌ مِنْ مَكَّةَ) وَهُوَ مَوْضِعٌ فَحُمِلَ إِلٰى مَكَّةَ فَدُفِنَ بِهَا فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ:وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً مِنَ الدَّهْرِ حَتّٰى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ مَعًا ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ لَوْ حَضَرْتُكَ مَا دُفِنْتَ إِلَّا حَيْثُ مُتَّ وَلَوْ شَهِدْتُكَ مَا زُرْتُكَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1718 ، باب : میت کے دفن کا بیان

روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےحضرت سعدکو کھینچا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا ۱∞؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: سَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا وَرَشَّ عَلیٰ قَبرِهٖ مَاءً. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1719 ، باب : میت کے دفن کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک جنازے پرنماز پڑھی پھر قبر پر آئے تو ان پر سر کی طرف سے تین لپ مٹی ڈالی ۱∞؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى عَلیٰ جَنَازَةٍ ثُمَّ أَتَى القَبْرَ فَحَثَا عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهٖ ثَلَاثًا. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1720 ، باب : میت کے دفن کا بیان

روایت ہے حضرت عمر و ابن حزم سے فرماتے ہیں کہ مجھ کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک قبر پر تکیہ لگائے دیکھا تو فرمایا اس قبر والے کو نہ ستاؤ یا اسے مت ستاؤ ۱∞؎(احمد)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- مُتَّكِئًا عَلٰى قَبْرٍ فَقَالَ: لَا تُؤْذِ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ، أَوْ لَا تُؤْذِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1721 ، باب : میت کے دفن کا بیان