باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن لمبی گردنوں والے ہوں گے ۱؎(مسلم)

عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الْمُؤَذِّنُوْنَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 654 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب نماز کی اذان دی جاتی ہے ۱؎تو شیطان گوزمارتابھاگتا ہے حتی کہ اذان نہ سنے ۲؎پھرجب اذان ختم ہوجاتی ہے تو آجاتا ہے حتی کہ جب نماز کی تثویب کہی جاتی ہے تو بھاگ جاتاہے ۳؎جب تثویب ختم ہوجاتی ہے تو آجاتا ہے تاکہ انسان کے دل میں وسوسے ڈالے کہتا ہے فلاں فلاں چیزیں یادکر۴؎وہ چیزیں جو اسے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی نہیں جانتا کہ کتنی رکعت پڑھیں ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذا نُوْدِيَ للصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهٗ ضُرَاطٌ حَتّٰى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِي النِّدَاءُ أَقْبَلَ، حَتّٰى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتّٰى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتّٰى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهٖ يَقُوْلُ: اُذْكُرْ كَذَا اُذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتّٰى يَظَلَّ الرَّجُلُ لَا يَدْرِيْ كَمْ صَلّٰى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 655 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤذن کی انتہائی آوازکوکوئی جن و انس اور دوسری چیزیں نہیں سنتیں مگر قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گی ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 656 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمروبن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم مؤذن کوسنو تو تم بھی اسی طرح کہوجو وہ کہہ رہا ہے ۱؎پھرمجھ پر درودبھیجو کیونکہ جومجھ پرایک درودبھیجتاہے اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۲؎پھر اللہ سے میرے لئے وسیلہ مانگو وہ جنت میں ایک جگہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک ہی کے لائق ہے مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں ۳؎تو جو میرے لئے وسیلہ مانگے اس پرمیری شفاعت لازم ہے ۴؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُوْلُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلّٰى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللّٰهَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا يَنْبَغِيْ إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللّٰهِ، وَأَرْجُوْ أَنْ أَكُوْنَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 657 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مؤذن کہےاَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُتم میں سے کوئی کہےاَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُپھر مؤذن کہےأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُیہ بھی کہےأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُپھر مؤذن کہےأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِیہ بھی کہےأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِپھر مؤذن کہےحَيَّ عَلَى الصَّلَاةِیہ کہےلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِپھر مؤذن کہےحَيَّ عَلَى الْفَلَاحِیہ کہےلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۱؎پھر مؤذن کہےاَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُتو یہ بھی کہےاَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُپھر مؤذن کہےلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُتو یہ صدق دل سے کہےلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُجنت میں جائے گا۲؎(مسلم)

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ فَقَالَ أَحَدُكُمُ: اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، ثُمَّ قَالَ: اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ قَالَ: اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ،ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ مِنْ قَلْبِهٖ دَخَلَ الْجَنَّةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 658 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت جابرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اذان سنتے وقت یہ کہاکرے یااللہ اس عام دعوت اور کامل نماز کے رب محمدمصطفی کو وسیلہ اور بزرگی دے اور انہیں اس مقام محمود پرپہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ۱؎تو اس کے لئے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہوگی ۲؎(بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ،وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِيْ وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهٗ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 659 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجرطلوع ہونے پرحملہ کرتے تھے ۱؎اذان پر کان لگاتے تھے اگراذان سن لیتے تو باز رہتے ورنہ حملہ کردیتے ۲؎ایک شخص کو کہتے سنااَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فطرت پرہے پھر اس نے کہاأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُتوحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو آگ سے نکل گیا صحابہ نے اسے دیکھا تو وہ بکریاں چرانے والا تھا ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيْرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، وَكَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُوْلُ: اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "عَلَى الْفِطْرَةِ"، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ". فَنَظَرُوْا إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ رَاعِيْ مِعزًى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 660 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مؤذن کوسن کر یہ کہہ لیا کرے کہ میں گواہ ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اوریقینًا محمد مصطفےٰ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں میں اللہ کی ربوبیت محمدمصطفےٰ کی رسالت اور دین اسلام سے راضی ہوں توا س کے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَالَ حِيْنَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهُ، رَضِيْتُ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا، وَبِالإِسْلَامِ دِيْنًا، غُفِرَ لَهٗ ذَنْبِهٖ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 661 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت عبداللہ بن مغفل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہردو اذانوں کے درمیان ۱؎نماز ہے۔ہردو اذانوں کے درمیان نمازہے ۲؎پھرتیسری بارمیں فرمایا اس کے لئے جو چاہے ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ" ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: "لِمَنْ شَاءَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 662 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام ضامن ۱؎اور مؤذن امانت دارہے ۲؎ياالله اماموں کو ہدایت دے اورمؤذنوں کوبخش دے ۳؎(احمد،ابو داؤد،ترمذی،شافعی)۴؎دوسری روایت میں مصابیح کے الفاظ ہیں۔

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللّٰهُمَّ أَرْشِدِ الأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِيْنَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالشَّافِعِيُّ، وَفِي أُخْرٰى لَهٗ بِلَفْظِ "الْمَصَابِيْحِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 663 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سات برس صرف ثواب کے لئے اذان دے تو اس کے لئے آگ سے خلاصی لکھی جاتی ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِيْنَ مُحْتَسِبًا كُتِبَ لَهٗ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 664 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت عقبہ بن عامرسے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تمہارا رب اس بکری چرانے والے سے خوش ہوتا ہے جوپہاڑ کی اونچی چوٹی میں ہونماز کی اذانیں دے اورنماز پڑھے ۲؎اللہ تعالٰی فرماتاہے ۳؎میرے اس بندے کو دیکھو ۴؎اذان دیتاہے نمازقائم کرتا ہے مجھ سے ڈرتاہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کروں گا ۵؎(ابو داؤد،نسائی)

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِيْ غَنَمٍ فِيْ رَأْسِ شَظِيَّةٍ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّيْ، فَيَقُولُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوْا إِلٰى عَبْدِيْ هٰذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيْمُ الصَّلَاةَ، يَخَافُ مِنِّيْ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِيْ، وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 665 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن تین شخص مشک کے ٹیلوں پرہونگے ایک وہ غلام جواللہ کا حق اوراپنے مولا کا حق اداکرتا رہے اور ایک وہ شخص جوکسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں اورایک وہ شخص جو ہردن رات پانچ نمازوں کی اذان دے ۱؎(ترمذی)اورفرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ثَلَاثَةٌ عَلٰى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: عَبَدٌ أَدّٰى حَقَّ اللّٰهِ وَحَقَّ مَوْلَاهُ، وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهٖ رَاضُوْنَ، وَرَجُلٌ يُنَادِيْ بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 666 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤذن کی اس آوازکی انتہا کے مطابق بخشش کی جاتی ہے ۱؎اور اس کے لئے ہرتروخشک چیزگواہی دے گی اورنمازمیں حاضرہونے والے کے لئے پچیس نمازیں لکھی جاتی ہیں ۲؎اور دونمازوں کے درمیانی گناہ مٹائے جاتے ہیں(احمد،ابو داؤد،ابن ماجہ)نسائی نے ہرخشک و تر تک روایت کی اورفرمایا کہ مؤذن کو سب نمازیوں کے برابرثواب ملتا ہے ۳؎

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهٗ مَدٰى صَوْتِهٖ، وَيَشْهَدُ لَهٗ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهٗ خَمْسُ وَّعِشْرُونَ صَلَاةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ إِلَى قَوْلِهٖ: "كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ". وَقَالَ: "وَلَهٗ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلّٰى".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 667 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابوالعاص سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے میری قوم کا امام بنادیجئے فرمایا تم ان کے امام ہو ۲؎اوران میں سے کمزورکو مقتدی جانو ۳؎اورکوئی ایسا مؤذن مقرر کروجواپنی اذان پر اجرت نہ لے۴؎(احمد،ابوداؤد، نسائی)

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُول اللّٰهِ! اِجْعَلنِي إِمَامَ قَوْمِي، قَالَ: "أَنْتَ إِمَامُهُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلٰى أَذَانِهٖ أَجْرًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 668 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے فرماتی ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا کہ مغرب کی اذان کے وقت یہ کہہ لیاکروں ۱؎اے اللہ یہ تیری رات کے آنے اور تیرے دن کے جانے کا وقت اورتیرے بلانے والوں کی آواز یں ہیں تو مجھے بخش دے ۲؎(ابوداؤد،بیہقی،دعوات کبیر)

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُوْلَ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ: "اللّٰهُمَّ هٰذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ فَاغْفِرْ لِيْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "الدَّعَوَاتِ الْكَبِيْرِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 669 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے یابعض صحابہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نے تکبیرکہنی شروع کی جب انہوں نے کہاقَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُتوحضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اسے قائم دائم رکھے اورباقی تکبیر میں وہی فرمایا جوحضرت عمرکی اذان حدیث میں ذکرہوا ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ أَوْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ بِلَالًا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ، فَلَمَّا أَنْ قَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَقَامَهَا اللّٰهُ وَأَدَامَهَا"، وَقَالَ فِيْ سَائِرِ الإِقَامَةِ كَنَحْوِ حَدِيْثِ عُمَرَ فِي الْأَذَانِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 670 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اورتکبیرکے درمیان کی دعا ردنہیں ہوتی ۱؎(ابوداؤد،ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 671 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت سہل ابن سعدسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں یا بہت کم رد کی جاتی ہیں اذان کے وقت کی دعا ۱؎اورجہادکے وقت کی دعا جب بعض بعض کو قتل کررہے ہوں۲؎اورایک روایت میں ہے کہ بارش کے وقت کی دعا۳؎(ابوداؤد،دارمی)مگر دارمی نے بارش کا ذکر نہ کیا۔

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا" وَفِي رِوَايَةٍ: "وَتَحْتَ الْمَطَرِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَذْكُرْ: "وَتَحْتَ الْمَطَرِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 672 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ مؤذن لوگ ہم سے بڑھ جائیں گے ۱؎فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے وہ کہتے ہیں تم بھی کہہ لیاکرو ۲؎جب فارغ ہوجاؤ تو مانگ لیا کرو دیئے جاؤ گے ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُوْنَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُلْ كَمَا يَقُوْلُوْنَ، فَإِذَا انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 673 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت