- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت
باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت جابرسے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ شیطان جب نمازکی اذان سنتاہے توبھاگ جاتاہے ۱؎حتی کہ مقام روحاءتک پہنچ جاتاہے ۲؎راوی نے فرمایا کہ روحاء مکہ مدینہ سے چھتیس میل ہے ۳؎(مسلم)
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتّٰى يَكُوْنَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ". قَالَ الرَّاوِيُّ: وَالرَّوْحَاءُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلٰى سِتَّةٍ وَثَلَاثِيْنَ مِيْلًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 674 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت
روایت ہے حضرت علقمہ ابن وقاص سے ۱؎فرماتے ہیں میں حضرت معاویہ کے پاس تھا جب ان کے مؤذن نے اذان دی حضرت معاویہ نے بھی وہ ہی کہاجومؤذن نے کہا حتی کہ جب اس نےحَيَّ عَلَى الصَّلَاةِکہا تو آپ نے فرمایالَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِپھر جبحَيَّ عَلَى الْفَلَاحِکہا تو آپ نے فرمایالَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۲؎اس کے بعدوہی کہا جومؤذن نے کہاپھرفرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہی فرماتے سنا۔(احمد)
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهٗ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ مُؤَذِّنُهٗ، حَتّٰى إِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، فَلَمَّا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ، وَقَالَ بَعْدَ ذٰلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ ذٰلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 675 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ حضرت بلال اذان دینے کھڑے ہوئے جب خاموش ہوئے تو حضرت محمدمصطفی نے فرمایا جویقین سے اس طرح کہاکرے جو اس نے کہا جنت میں داخل ہوگا ۱؎(نسائی)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي، فَلَمَّا سَكَتَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِيْنًا دَخَلَ الْجنَّةَ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 676 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت
روایت ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو شہادتین کہتے سنتے تو فرماتے اور میں بھی اور میں بھی ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ قَالَ: "وَأَنَا وَأَنَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 677 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوبارہ سال اذان دے اس کے لئے جنت واجب ہوگی ۱؎اورہردن اس کی اذان کے عوض ساٹھ نیکیاں اورتکبیر کے عوض تیس نیکیان لکھی جائیں گی۲؎(ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "مَنْ أَذَّنَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَكُتِبَ لَهٗ بِتَأْذِينِهٖ فِيْ كُلِّ يَوْمٍ سِتُّوْنَ حَسَنَةً،وَلِكُلِّ إِقَامَةٍ ثَلَاثُوْنَ حَسَنَةً". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 678 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم کومغرب کی اذان کے وقت دعا کا حکم دیاجاتاتھا ۱؎(بیہقی دعوات کبیر)
وَعَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِالدُّعَاءِ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 679 ، باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت
- 1
- 2