DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Anfal Ayat 63 Translation Tafseer

رکوعاتہا 10
سورۃ ﷴ
اٰیاتہا 75

Tarteeb e Nuzool:(88) Tarteeb e Tilawat:(8) Mushtamil e Para:(09-10) Total Aayaat:(75)
Total Ruku:(10) Total Words:(1422) Total Letters:(5339)
63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْؕ-لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۶۳)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اس نے مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے تھے لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو ملادیا، بیشک وہ غالب حکمت والا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ:اور اس نے ان کے دلوں میں اُلفت پیدا کردی۔} انصار کے دو قبیلے اوس و خزرج کے درمیان شروع ہونے والی عداوت برسوں سے چلی آ رہی تھی اور ان کی باہمی عداوت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ انہیں ملادینے کے لئے تمام سامان بے کار ہوچکے تھے اور کوئی صورت باقی نہ رہی تھی، ذرا ذرا سی بات میں بگڑ جاتے اور برسہا برس تک جنگ باقی رہتی، الغرض کسی طرح دو دِل نہ مل سکتے تھے۔ جب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمبعوث ہوئے اور عرب کے لوگ آپ پر ایمان لائے اور انہوں نے آپ کی اتباع کی تو یہ حالت بدل گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں الفت پیدا فرما دی ، دلوں سے دِیرِیْنہ عداوتیں اور کینے دور ہوئے اور ایمانی محبتیں پیدا ہوئیں۔ یہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا روشن معجزہ ہے۔(تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۳، ۵ / ۵۰۱-۵۰۲)

مسلمانوں کی اِجتماعیت کا سب سے بڑا ذریعہ:

            یاد رہے کہ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی محبت مسلمانوں کی اِجتِماعِیَّت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ دیکھ لیں کہ مشرق و مغرب کے دولوگ جن کے رنگ، زبان، نسل، معیارِ زندگی سب کچھ ایک دوسرے سے جدا ہو لیکن جب ایک کو یہ پتہ چلتا ہے کہ دوسرا شخص بھی سرورِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا غلام ہے تو فوراً دل میں نرمی و محبت کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links