DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Anfal Ayat 16 Translation Tafseer

رکوعاتہا 10
سورۃ ﷴ
اٰیاتہا 75

Tarteeb e Nuzool:(88) Tarteeb e Tilawat:(8) Mushtamil e Para:(09-10) Total Aayaat:(75)
Total Ruku:(10) Total Words:(1422) Total Letters:(5339)
16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۱۶)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور جو اس دن لڑائی میں ہنر مندی کا مظاہرہ کرنے یا اپنے لشکر سے ملنے کے علاوہ کسی اور صورت میں انہیں پیٹھ دکھائے گا تو وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا اور اس کا ٹھکاناجہنم ہے اور بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ دُبُرَهٗ:اور جو اس دن انہیں پیٹھ دکھائے گا۔} یعنی مسلمانوں میں سے جو جنگ میں کفار کے مقابلے سے بھاگا وہ غضبِ الٰہی میں گرفتار ہوا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے البتہ دو صورتیں ایسی ہیں جن میں وہ پیٹھ دکھا کر بھاگنے والا نہیں ہے۔

(1)… کسی جنگی حکمتِ عملی کی وجہ سے پیچھے ہٹنا مثلاً پیچھے ہٹ کر حملہ کرنا زیادہ مؤثِّر ہو یا خطرناک جگہ سے ہٹ کر محفوظ جگہ سے حملہ کرنے کا قصد ہو تو اس صورت میں وہ پیٹھ دکھا کر بھاگنے والا نہیں ہے۔

(2)… اپنی جماعت میں ملنے کے لئے پیچھے ہٹنا مثلاً مسلمان فوجیوں کا کوئی فرد یا گروہ مرکزی جماعت سے بچھڑ گیا اور وہ اپنے بچاؤ کیلئے پَسپا ہو کر مرکزی جماعت سے ملا تو یہ بھی بھاگنے والوں میں شمار نہ ہو گا۔

جنگِ اُحد اور جنگِ حُنَین میں پسپائی اختیار کرنے والے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکا حکم

             جنگِ احد اور جنگِ حنین میں جن صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے قدم اکھڑ گئے تھے وہ اس آیت کی وعید میں داخل نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں جنگِ احد میں پسپائی اختیار کرنے والے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عام معافی کا اعلان فرما دیا: ’’اِنَّ  الَّذِیْنَ  تَوَلَّوْا  مِنْكُمْ  یَوْمَ  الْتَقَى  الْجَمْعٰنِۙ-اِنَّمَا  اسْتَزَلَّهُمُ  الشَّیْطٰنُ  بِبَعْضِ   مَا  كَسَبُوْاۚ-وَ  لَقَدْ  عَفَا  اللّٰهُ  عَنْهُمْ‘‘ (آل عمران: ۱۵۵)

ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تم میں سے وہ لوگ جو اس دن بھاگ گئے جس دن دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا ،انہیں شیطان ہی نے ان کے بعض اعمال کی وجہ سے لغزش میں مبتلا کیا اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرما دیا ہے۔

             یونہی جنگِ حنین میں جن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ابتداء ًپسپائی اختیار کی ان کے مومن رہنے کی گواہی خود قرآن میں موجود ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے قدم جمائے اور ان پر اپنا سکینہ اتارا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا‘‘ (التوبہ : ۲۶)

ترجمۂکنزُالعِرفان: پھراللہ نے اپنے رسول پر اور اہلِ ایمان پر اپنی تسکین نازل فرمائی اور اس نے (فرشتوں کے) ایسے لشکر اتارے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے تھے ۔

            جو اس طرح کے واقعات کو لے کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی شان میں گستاخی کرے اور ان پر زبانِ طعن دراز کرے وہ بڑا بدبخت ہے کہ ان کی معافی کا اعلان ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّخود فرماچکا ہے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links