Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi

Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi

سُبْحٰنَ اللہ!پتا چلا؛ جسے اللہ پاک سے محبّت ہو جاتی ہے، وہ بس اُسی کا ہو جاتا ہے، ہر غفلت سے دُور ہٹ جاتا ہے، وہ کبھی سجدے کرتا نظر آتا ہے، کبھی نمازیں پڑھتا دکھائی دیتا، نمازیں پڑھ پڑھ کر تھک جائے تو بھی یہ نہیں کہ غفلتوں کا شکار ہو جائے بلکہ اب بیٹھ کر ذِکْرُ اللہ شروع کر دیتا ہے، بیٹھا بیٹھا بھی تھک گیا، اب لیٹ کر، چلتے پھرتے، دُکان پر بیٹھے، کام کاج کرتے ہوئے دِل ہی دِل میں اللہ پاک کی یاد بسائے رکھتا ہے۔

سُبْحٰنَ اللہ!یہ تو تھیں، بندے کی اللہ پاک سے محبّت کرنے کی علامات(Symptoms)۔ اب وہ بندہ کہ جس سے اللہ پاک محبّت فرماتا ہے، اس کی نشانیاں کیا ہیں؟

محبوبِ خُدا کی نشانیاں

حضرت بایزید بسطامی  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  فرماتے ہیں:

فَاَمَّا مَنْ يُحِبُّهُ اللهُ اَعْطَاهُ سَخَاوَةً كَسَخَاوَةِ السَّحَابِ، وَشَفَقَةً كَشَفَقَةِ الشَّمْسِ، وَتَواضُعًا كَتَوَاضُعِ الْاَرْضِ

ترجمہ: باقی رہا وہ بندہ جس سے اللہ پاک محبّت فرماتا ہے تو اللہ پاک اسے بادَل جیسی سخاوت عطا فرماتا ہے، سُورج جیسی شفقت بخش دیتا ہے اور زمین جیسی عاجزی عطا فرما دیتا ہے۔ ([1])

یعنی جس بندے سے اللہ پاک محبّت فرماتا ہے، اس کی 3نشانیاں ہیں: (1):سخاوت ایسی جیسی بادَل میں ہے، بادَل جب برستا ہے تو بس پِھر برستا ہے، ہر ایک پر نوازش ہوتی ہے، پُوری زمین کو سیراب کرتا ہے، ایسی ہی سخاوت اس بندے کو بھی عطا کی جاتی ہے  (2):شفقت ایسی جیسی سُورج میں ہے کہ سُورَج زمین سے ایک حَدْ کے فاصلے پر رہتا ہے تاکہ زمین والے


 

 



[1]...شعب الایمان، باب محبۃ اللہ ، معانی المحبۃ، جلد:1، صفحہ:369، رقم:414۔