Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi
جھلس نہ جائیں، روشنی بانٹتا ہے، جب نکلتا ہے تو امیر غریب، بادشاہ فقیر، سب کو ہی روشنی دیتا ہے، کسی کو محروم نہیں رکھتا، ایسے اللہ پاک جس بندے سے محبّت فرماتا ہے، اسے ایسی شفقت عطا فرما دیتا ہے، اس کی شفقتوں سے سبھی فیضان پا رہے ہوتے ہیں (3):تیسری چیز جو بندے کو عطا کی جاتی ہے، وہ ہے: عاجزی، ایسی عاجزی جیسی زمین میں ہے، زمین قدموں کے نیچے بچھی ہوئی ہے، امیر، غریب، نیک، گنہگار سبھی اس کے اُوپَر قدم رکھ کر چلتے ہیں، زمین کسی سے نہیں کہتی؛ تُو ہوتا کون ہے مجھ پر پاؤں رکھنے والا۔ زمین کسی کے ساتھ اکڑتی نہیں ہے۔ ایسے جس بندے سے اللہ پاک محبّت فرماتا ہے، اسے ایسی عاجزی عطا فرما دیتا ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ کل 4 باتیں ہیں، اِس سال رمضان کریم میں اگر ہم بَس یہ 4 باتیں ہی اپنا لیں تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! ماہِ رمضان بہت اچھا بلکہ بےمثال گزرے گا (1): عبادت میں خوب مصروفیت، یُوں کہ نمازیں پڑھتے ہوئے تھک جائیں تو ذِکْر اَذْکار شروع کر دیں، ذِکْر، اَذْکار کرتے ہوئے تھک گئے تو اب ذِکْرِ قلبی شروع کر دیں یعنی دِل میں اللہ پاک کی نعمتوں، اس کی قدرتوں، اس کی حکمتوں، اس کی شانوں کا ذِکْر شروع کر دیں، یعنی ہمارا کوئی بھی لمحہ عبادت کے بغیر نہ گزر رہا ہو، ہر لمحے عبادت، عبادت، عبادت ہی چل رہی ہو۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖؕ- (پارہ:16، سورۂ مریم:65)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تَو اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر ڈٹ جاؤ ۔
یعنی راہِ عِبَادت میں مشکلات آئیں گی، مَشقَّت ہو گی مگر تُم اس پر ثابت قدم رہو، جَم