Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi

Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi

کر، مستقل مزاجی کے ساتھ عِبَادت کرتے رہو! ([1])

ہمارے ہاں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم لوگ عِبَادت کی طرف مائِل تو ہو جاتے ہیں مگر اس پر اِستقامت (Persistence)اختیار نہیں کرتے، جَمْ کر عِبَادت نہیں کرتے۔ ابھی جیسے رمضان کریم  تشریف لا رہا ہے، رمضان کریم  کے آنے سے عِبَادت کی رغبت بڑھتی ہے، ہم بہت سارے نیک ارادے بناتے ہیں مگر رَفْتہ رَفْتہ ذوق میں کمی آنا شروع ہوتی ہے، رمضان کریم  کے پہلے عشرے میں مسجدوں میں رونق ہوتی ہے، تراویح میں بھی ایک اچھی تعداد نظر آتی ہے، تِلاوت کی طرف بھی لوگ مائِل ہوتے ہیں مگر دوسرے عشرے میں یہ ذوق کم ہو جاتا ہے، نمازیوں کی تعداد میں بھی کمی آجاتی ہے، تراویح میں بھی تھوڑے لوگ رہ جاتے ہیں، یہ جو کمی ہے، یہ نہیں ہونی چاہیے، یہ اچھی بات نہیں ہے۔

(2): دوسرا کام جو ماہِ رمضان میں کرنا ہے، وہ ہے: سخاوت(Generosity)۔ ایسی سخاوت جیسی بادَل میں ہے *غریبوں میں راشن تقسیم فرمائیں *یتیموں پر مہربانیاں فرمائیں *اگر اللہ پاک نے ہمت توفیق عطا فرمائی ہے تو رمضان پیکج (Ramadan package) بنائیے! غریبوں تک مفت پہنچائیے! *آپ دُکاندار ہیں تو رمضان آفر (Ramadan offer) لگائیے! کچھ نہ کچھ ڈسکاؤنٹ (Discount)لگائیے! (3): تیسرا کام؛ ایسی شفقت جیسی سُورج میں ہے کہ سبھی پر شفیق ہے، سبھی کو روشنیاں بانٹتا ہے (4): ایسی عاجزی جیسی زمین میں ہے، سبھی کے ساتھ بس عاجزی والا، شفقت والا رویہ ہی اپنائے رکھنا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: ‌مَنْ ‌تَوَاضَعَ ‌لِلَّهِ ‌رَفَعَهٗ جو اللہ پاک کے لیے  عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ پاک اسے بلندی عطا


 

 



[1]...تفسیر کبیر، پارہ:16، سورۂ مریم، زیر آیت:65، جلد:7، صفحہ:555 خلاصۃً۔