Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi
پیارے اسلامی بھائیو! بندۂ مؤمن کی یہ شان نہیں۔ مؤمن تَو اللہ پاک کا قرب پانے کا حَرِیص ہوتا ہے، اس راہ میں کبھی بھی بہانے خوریاں نہیں کرتا۔ ایک بہت ہی خوبصُورت روایت سنیے! حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، قیامت کا دِن ہو گا، اللہ پاک سب اگلے پچھلوں کو اپنی پاک بارگاہ میں جمع فرمائے گا، اب وہ لوگ جو دُنیا میں شرک کیا کرتے تھے، اللہ پاک کے عِلاوہ جھوٹے خُدا بنائے بیٹھے تھے، اُن کے جھوٹے خُداؤں کو جہنّم میں ڈال دیا جائے گا اور ان مشرکوں کو حکم ہو گا (چونکہ تم اپنے اِن جھوٹے خُداؤں سے محبّت کرتے تھے، قاعدہ یہ ہے کہ جہاں مَحْبُوب ہو، محبّت کرنے والے کو بھی وہیں ہونا چاہیے، لہٰذا) تم بھی اپنے جھوٹے خُداؤں کے پاس جہنّم میں چلے جاؤ!
اللہ اکبر! یہ جھوٹی، فانِی، مجازی محبّتیں ہیں، یہ بہت جلد دَم توڑ جاتی ہیں، قرآنِ کریم میں ہے: روزِ قیامت جب مشرک عذاب دیکھیں گے تو پُکاریں گے:
وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ(۲۳) (پارہ:7، سورۂ انعام:23)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:ہمیں اپنے ربّ اللہ کی قسم کہ ہم ہرگز مشرک نہ تھے۔
یعنی دُنیا میں جن سے محبّتوں کے دَم بھرتے تھے، جن کے نام کی خاطر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے تھے، اب قیامت کے دِن جب اپنے انہی جھوٹے خُداؤں کو جہنّم میں جلتا دیکھیں گے تو اپنی محبّتوں کا ہی انکار کر ڈالیں گے۔
خیر! میں روایت عرض کر رہا تھا: مشرکین تو اِنْکار کر جائیں گے کہ ہم ان جھوٹے خُداؤں کو نہ جانتے ہیں، نہ ان سے محبّت رکھتے ہیں۔ اب ان کافروں کو اَہْلِ اِیمان کی باکمال، بےمثال محبّتوں کا