Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi
اِس حدیثِ پاک کی جو تشریح علمائے کرام نے فرمائی ہے،اُس کے مُطَابِق معنیٰ یہ ہے کہ جب بندہ فرائِض اور نوافِل کے ذریعے اللہ پاک سے اپنی محبّتوں کا اِظہار کرتا ہے تَو * اِس کے نتیجے میں اللہ پاک اُس کی خاص مدد فرماتا ہے* اُس کی نُصْرت و اعانت کی جاتی ہے* اُس کے اَعْضا کو گُنَاہوں سے مَحْفُوظ رکھا جاتا ہے* مزید نیکیوں کی توفیق بخشی جاتی ہے* اِخْلاص کی نعمت عطا کی جاتی ہے اور اِس کی برکت سے اُس کے مقاصِد پُورے کر دئیے جاتے ہیں۔ ([1])
حضرت وَہْب بن مُنَبّہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص تھے، بہت عبادت گزار تھے، ضرورت کے مُطَابِق رِزْقِ حلال کماتےاور باقی وقت عِبَادت میں گُزار دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ یُوں ہوا کہ انہیں مسلسل کئی دِن تک کہیں مزدُوری نہ ملی، نوبت فاقوں تک آ پہنچی، ایک دِن یہ کام ڈھونڈنے کے لیے گھر سے نکلے، جب کوئی کام نہ مِلا تَو سوچا چلو! اللہ پاک کی عِبَادت کرتا ہوں۔ چنانچہ دریا کے کِنَارے پہنچے، وُضُو کیا اور سارا دِن عِبَادت میں گزار دیا۔ شام ہوئی، گھر واپس پہنچے، کما تو کچھ سکے نہیں تھے، ہاتھ خالی تھے، گھر والوں نے پوچھا تو کہا: میں آج بہت کرم والے مالِک کے ہاں مزدوری کر کے آیا ہوں، وہ مجھے اچھی اُجْرت عطا فرمائے گا۔
بُھوکے پیٹ جیسے تیسے ہوا، یہ رات بھی گزر گئی۔ اگلی صبح پِھر کام کی تلاش میں نکلے، آج بھی کوئی کام نہ مِلا، دریا کے کنارے پہنچے اور یہ دِن بھی سارے کا سارا عِبَادت میں گزار دیا۔ شام کو پِھر خالی ہاتھ واپس آئے۔ فاقوں کی مارِی زوجہ نے دیکھا تو جذبات سے بھر گئی،