Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi

Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi

ہے، اللہ پاک کے ساتھ اپنی محبّتوں کا خُوب اِظْہار کیجیے!

*خُوب نمازیں پڑھیے! *تلاوت کی کثرت کیجیے! *ذِکْرُ اللہ کی کثرت فرمائیے! *روزے تو فرض ہیں، رکھنے ہی رکھنے ہیں،  لازمی رکھیے! *سحری و افطار کے وقت اللہ پاک کے حُضُور دعائیں کیجیے! *ماہِ رمضان میں ویسے بھی تَہَجُّد پڑھنا آسان ہوتا ہے، اب کی بار تو راتیں بھی لمبی ہیں، تَہَجُّد کے لیے اُٹھنا اور آسان ہو جائے گا، لہٰذا تَہَجُّد کی پابندی فرمائیے! *اشراق و چاشت کے نوافل پڑھیے! *اَوَّابین کے نفل پڑھیے! *تراویح کا بھرپُور اہتمام فرمائیے! غرض؛ نیکیوں پر نیکیاں ہی کرتے رہیے!

یہ ہماری جانِب سے اللہ پاک کے ساتھ محبّت  کا اِظْہار ہو گا اور سُبْحٰنَ اللہ!جب بندہ اللہ پاک کے ساتھ یُوں محبّتوں کا اِظْہار کرتا ہے، اگر اللہ پاک کی بارگاہ میں اس کا یہ اِظْہارِ محبّت قبول ہو جائے تو اس  کا انعام کیا ملتا ہے؟ سُبْحٰنَ اللہ!حدیثِ پاک سنیے!  اللہ پاک کے پیارے نبی، مکی مدنی، مُحَمَّدِ عربی  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا:اللہ پاک فرماتا ہے: بندہ جن ذرائع سے میرا قُرْب حاصِل کرتا ہے، اُن میں میرا سب سے پسندیدہ ذریعہ فرائض (مثلاً نَماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ) ہیں اور میرا بندہ نوافِل کے ذریعے میرا قُرْب حاصِل کرتا رہتا ہے، کرتا رہتا ہے،یہاں تک کہ میں اُس سے محبّت کرنے لگتا ہوں، پھر جب میں اُس سے محبّت کرتا ہوں تَو*   میں اس کے کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے*  میں اُس کی آنکھیں بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے*  میں اُس کے ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے*  میں اُس کے پاؤں بن جاتا ہوں، جن سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں، اگر وہ میری پناہ لیتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ ([1])


 

 



[1]... بخاری،کتاب الرقاق،باب التواضع،صفحہ:1597 ،حدیث:6502۔