Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi
نصیب فرمائے۔ ماہِ رمضان کی ایک اَہَم ترین عِبَادت اعتکاف بھی ہے۔ نفل اعتکاف تو کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے لیکن جو اعتکاف سنّتِ مؤکدہ ہے، وہ رمضان کریم میں ہی ہوتا ہے۔ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سے پورے ماہِ رمضان کا اعتکاف کرنا بھی ثابت ہےجبکہ آخری عشرے کا اعتکاف تو ہمارے آقا و مولیٰ، تاجدارِ انبیا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو بہت محبوب تھا، آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم آخری عشرے کے اعتکاف کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ کسی سبب سے رمضان کریم میں اعتکاف نہ ہو سکا تو آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے شوال میں اعتکاف فرمایا۔([1])
* مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ عنہ ا سے روایت ہے، پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا: مَنْ اِعْتَکَفَ اِیْمَاناً وَ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ یعنی جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب حاصِل کرنے کی نیت سے اعتکاف کیا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔([2])* ایک اور روایت میں ہے: جس نے رمضان شریف میں 10 دِن کا اعتکاف کر لیا وہ ایسا ہے جیسے 2 حج اور 2 عمرے کئے۔([3])
اجتماعی سُنَّت اعتکاف کی ترغیب
پیارے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ للّٰہ!دعوتِ اسلامی کے تحت دُنیا بھر میں ہزاروں مقامات پر آخری عشرے کا اجتماعی سُنّت اعتکاف کروایا جاتا ہے، آپ بھی کوشش فرمائیے!