Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi

Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi

نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: اے عبد اللہ! افطار کا وقت ہو گیا؟ میں نے کہا: جی ہاں! ہو چکا ہے۔ فرمایا: پِھر  یہ ڈھال لَو ، اس میں پانی ڈال دو (تاکہ میں روزہ افطار کر لوں)، فرماتے ہیں: میں جلدی سے پانی لینے گیا،واپس آیا تو حضرت عبد اللہ بن مَخْرَمَہ  رَضِیَ اللہ عنہ   (بغیر افطار کیے ، حالتِ روزہ ہی میں) دُنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔([1])

اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! کمالِ محبّتِ اِلٰہی دیکھیے! کمالِ شوقِ عبادت دیکھیے! حالتِ جنگ میں ہیں، دُشمن کا مقابلہ کر رہے ہیں، سارا جسم زخموں سے چُور چُور ہے، اس حالت میں بھی صحابئ رسول  رَضِیَ اللہ عنہ   روزہ رکھے ہوئے ہیں۔  ایک اور جذبے کی بات یہ کہ جنگِ یَمَامہ رمضان کریم میں نہیں ہوئی تھی، یعنی حضرت عبد اللہ بن مَخْرَمَہ  رَضِیَ اللہ عنہ   نے فرض نہیں بلکہ نفل روزہ رکھا ہوا تھا۔

سُبْحٰنَ اللہ!اِسے کہتے ہیں اللہ پاک کی محبّت کا فیضان...!!

اَہْلِ ایمان کی اللہ پاک سے محبّت

اللہ پاک نے  قرآنِ کریم میں فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ- (پارہ:2، سورۂ بقرہ:165)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبّت  کرتے ہیں۔

یہ اسی شدید تَرِین محبّتِ اِلٰہی کا ہی ظہور ہے کہ صحابئ رسول حالتِ جنگ میں ہیں، مشکلات کے سائے میں ہیں، جسمِ پاک کا ایک ایک عضو راہِ خُدا میں تکلیف اُٹھا چکا ہے، اگرچہ یہ خُود بہت بڑی عبادت ہے، اس کے ساتھ ساتھ نفل روزہ بھی رکھے ہوئے ہیں۔


 

 



[1]... الاصابہ فی تمییز الصحابہ، جلد:4، صفحہ:183۔