Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi
یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! آپ فرما دیجیے کہ اے لوگو! اللہ پاک کی طرف دوڑ پڑو...! حضرت سَہل تُسْتری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اس آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں: لوگو! مَا سِوَ ی اللہ (یعنی اللہ پاک کے سِوا دُنیا کی ہر چیز) کو چھوڑ کر اللہ پاک کی طرف دوڑ پڑو! ([1])
بس رمضان کریم تشریف لے آیا، یہ قرآنی حکم اپنے دِل و دِماغ پر نقش کر لیجیے! یہ پکّا ذِہن بنا لیجیے! *مزدوریاں ہوتی ہیں، ہوتی رہیں گی *آرام ہوتا ہے، ہوتا رہے گا *دُنیا کے کام دھندے ہوتے ہیں، ہوتے رہیں گے ، میں نے ماہِ رمضان میں صِرْف و صِرْف اللہ پاک کی طرف دوڑنا ہے *روزے ذوق و شوق کے ساتھ رکھنے ہیں *تراویح ذوق و شوق کے ساتھ پڑھنی ہے *تلاوت پر کمر بستہ رہنا ہے *ذِکْر و درود کی طرف دھیان لگائے رکھنا ہے۔ باقی سارے کام بعد میں سہی، یہ ایک مہینا*میرا مقصد(Purpose) * میری سوچوں کا محور* میری محنتوں کا مرکز صرف و صرف ایک ہی ہو گا؛ میں نے اپنے رَبّ کو راضِی کرنا ہے۔
بخاری شریف کی حدیثِ پاک ہے، میں یہ حدیث شریف شرح سمیت عرض کر رہا ہوں: پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: تمہارا رَبّ فرماتا ہے: جب بندہ میری طرف بالشت بھر بڑھتا ہے تو میری رحمت اس کی طرف گز برابر بڑھتی ہے، اگر بندہ میری جانِب گز برابر بڑھے تو میری رحمت اس کی طرف دو گز کے برابر بڑھتی ہے، اگر بندہ میری جانِب چل کر آئے تو میری رحمت اس کی طرف دوڑ کر آتی ہے۔ ([2])
سُبْحٰنَ اللہ!رحمتِ اِلٰہی کے قربان جائیے! ماہِ رمضان کریم میں تو ویسے بھی لمحہ لمحہ