Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi
آپ ذرا اَندازہ کیجیے!حالتِ جنگ میں جب انہیں زخم آئے ہوں گے، جب یہ غیر مسلموں کے ساتھ لڑتے لڑتے آخر زمین پر گِرے ہوں گے، تب کیسی پیاس لگی ہو گی؟ جسم میں کیسی کمزوری محسوس ہوئی ہو گی مگر صحابئ رسول ہیں، اللہ پاک سے شدید تَرِین محبّت رکھنے والے ہیں، اس حالت میں بھی روزہ نہ توڑا بلکہ افطار کا وقت ہو گیا، تب بھی افطار نہ کر پائے، یونہی حالتِ روزہ ہی میں اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِر ہو گئے۔
آبتاؤں کہ کیا، صحابہ ہیں ہم ہیں جن پر فدا، صحابہ ہیں
گونجتی ہے جو کُل جہانوں میں دین حق کی صدا، صحابہ ہیں
خود کو قربان کر دیا سب نے آقا کے با وفا، صحابہ ہیں
پیارے اسلامی بھائیو! افسوس! ہمارے ہاں اب یہ محبّتِ اِلٰہی کے جذبات کم پڑنے لگ گئے ہیں۔ اب ہمارے ہاں لوگ بہانے ڈھونڈتے ہیں، مثلاً *کوئی ایسی صُورت ہو جائے کہ مجھے روزہ رکھنے سے چُھوٹ مل جائے *کچھ ایسا ہو کہ تراوِیح نہ پڑھنی پڑے *میری شوگر (Diabetes)بڑھی ہوئی ہے، کیا مجھے روزوں کی چُھوٹ مل سکتی ہے؟ *مجھے کمزوری زیادہ ہے، کیا میں روزہ چھوڑ سکتا ہوں؟ *مجھے بلڈ پریشر (Blood pressure)کا مسئلہ ہے *کوئی کہتا ہے: محنت مزدوری کرنی ہوتی ہے، اِس لیے روزہ نہیں رکھ سکتا۔
غور تو فرمائیے! رَبِّ کریم نے ہمیں ایسا باکمال، بےمثال، فضیلتوں والا، برکتوں والا، عظیم الشان مہینا عطا فرمایا اور آہ! ہم ہیں کہ کھوکھلے بہانے (Hollow excuses)بنا کر اس کی برکتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔