Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi
پیارے اسلامی بھائیو! واقعی سچّی بات ہے، جو نیک رستہ اپنا لیتا ہے، اللہ پاک اس کے سارے بگڑے کام سنوار دیتا ہے۔ اَلحمدُ لِلّٰہ! رمضان کریم تشریف لا رہا ہے، یہ ایک مہینا ہم اللہ پاک کے نام کر دیں، پکّا ذِہن بنا لیجیے کہ میں نے ماہِ رمضان میں اپنے رَبّ کے ساتھ خُوب محبتوں کا اِظْہار کرنا ہے۔
حضرت بایزید بسطامی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بہت بڑے ولِیُّ اللہ ہوئے ہیں، اللہ پاک سے بہت کمال محبّت رکھنے والے تھے۔
منقول ہے کہ آپ سے کسی نے پوچھا: بندہ اللہ پاک سے محبّت کرے، اس کی نشانی (Sign)کیا ہے؟ اور اللہ پاک بندے سے محبّت فرمائے، اُس کی نشانی کیا ہے؟
اب یہ نشانیاں ذرا تَوَجُّہ کے ساتھ سنیے! فرمایا:
مَنْ يُحِبُّ اللهَ فَهُوَ مَشْغُولٌ بِعِبَادَتِهِ سَاجِدًا وَرَاكِعًا
ترجمہ: جو اللہ پاک سے محبّت رکھتا ہو، وہ اس کی عبادت میں، رکوع اور سجدوں میں مَصْرُوف رہتا ہے۔
فَاِنْ عَجَزَ عَنْ ذَلِكَ، اِسْتَرْوَحَ اِلَى ذِكْرِ اللِّسَانِ وَالثَّنَاءِ
ترجمہ: پِھر اگر رکوع و سجدوں سے عاجز آجائے تو زبان سے ذِکْرُ اللہ کر کے راحت پاتا ہے۔
وَاِنْ عَجَزَ، اِسْتَرْوَحَ اِلَى ذِكْرِ الْقَلْبِ وَالتَّفْكِيرِ
ترجمہ: اور اگر زبانی ذِکْرُ اللہ کرنے سے بھی عاجز آجائے تو دِل سے اللہ پاک کا ذِکْر کرنے (اُس کی نعمتوں کے مُتَعَلِّق ) غور و فِکْر کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ ([1])