Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi
بولی: کتنے دِن سے فاقے ہیں، بچوں کی حالت ایسی ہو گئی کہ دیکھی نہیں جاتی، آپ کا مالِک ہے کہ اُجْرت نہیں دیتا...!! ایسے کیسے گزارا ہو گا؟
اُس بیچاری کو کیا خبر تھی کہ میرا خاوَند کس مالِک کے ہاں مزدوری کر رہا ہے۔ اس عِبَادت گزار نیک شخص نے زَوْجہ کی بات سُنی تو دِل پریشان ہو گیا، ساری رات دُکھ اور پریشانی کے عالَم میں کروٹیں لیتے گزر گئی۔ اگلے روز پِھر مزدوری کے لیے نکلے، کام آج بھی نہ مِلا، پِھر دریا کے کنارے پہنچے، وُضُو کیا اور عِبَادت میں مَصْرُوف ہو گئے۔
سارا دِن تو عِبَادت میں، اللہ پاک کی یاد میں مَسْرُور رہ کر گزر گیا، شام ہوئی، گھر جانے کا وقت ہوا؛ اب پریشانی ہو گئی، اب وہ نیک شخص گھر کی طرف چل رہے تھے، ہاتھ آج بھی خالی تھے، پَیر بَوجھل ہو رہے تھے، دِل میں باربار خیال آ رہا تھا کہ بچوں کو کیا کہوں گا؟ کیسے دَلاسا دُوں گا؟ یہی کچھ سوچتے ہوئے، پریشانی کے عالَم میں گھر کی طرف بڑھ رہے تھے، جب گھر کے قریب پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر سے عُمدہ کھانوں کی خُوشبو آ رہی ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے اندر خوشیوں کا سماں ہے، ایک لمحے کے لیے تو لگا کہ شاید میں کسی اور کے گھر آ گیا ہوں، پِھر جب دروازہ کھٹکھٹایا تو زوجہ نے ہنستے مسکراتے ہوئے خوشی خوشی دروازہ کھولا، دیکھتے ہی بولی: آپ جس مالِک کے ہاں کام کرتے ہیں، وہ واقعی بہت کریم ہے، آج آپ کے جانے کے بعد اس کا قاصِد آیا، اس نے بہت ساری رقم اور کھانے کی چیزیں دِیں اور کہا: جب تمہارا شوہر آجائے تو اسے سلام کہنا اور بتا دینا کہ تمہارا مالِک تمہارے عَمَل سے راضِی ہے، یہ تمہاری محنت کا بدلہ ہے۔([1])