Book Name:Mah e Ramazan Aur Faizan e Muhabbat e Ilahi
نظارہ کروایا جائے گا، حشر کے میدان میں اللہ پاک اَہْلِ ایمان سے فرمائے گا: اِنْ كُنْتُمْ اَحِبَّائِيْ فَادْخُلُوْا جَهَنَّمَاے اِیْمان والو...!! اگر تم مجھ سے محبّت کرتے ہو تو جہنّم میں داخِل ہو جاؤ...!!
سُبْحٰنَ اللہ!روایت کے لفظ ہیں: بس یہ حکمِ اِلٰہی سننے کی دَیْر ہو گی، فَيَقْتَحِمُونَ فِيهَا اَہْلِ اِیمان بھڑکتی ہوئی جہنّم میں چھلانگیں لگا دیں گے۔ اُس وقت عرشِ اِلٰہی کے نیچے سے ایک آواز گونجے گی، پُکارنے والا پُکارے گا: ([1])
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ- (پارہ:2، سورۂ بقرہ:165)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبّت کرتے ہیں۔
یہاں ایک وضاحت کر دُوں، یہ اَہْلِ اِیْمان، دِل میں محبّتِ اِلٰہی کے چراغ جلانے والے جہنّم میں چھلانگ ضرور لگا دیں گے مگر جہنّم انہیں جلا نہ سکے گی بلکہ ان پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی۔ بعد میں انہیں جہنّم سے نکال کر جنّت میں داخِل کر دیا جائے گا۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس روایت سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ بندۂ مؤمن بہانے خور نہیں ہوتا،مؤمن کی یہ شان ہے کہ قیامت کے دِن، آنکھوں کے سامنے بھڑکتی، شعلے مارتی ہوئی جہنّم میں کودنے کا حکم ہو گا تو وہاں بھی بےسوچے سمجھے کود پڑے گا۔ خُود بتائیے! جب ہم نے وہاں بہانے نہیں لگانے تو یہاں بہانے کیوں لگائیں گے۔ اللہ پاک ہمیں نصیب فرمائے، کاش! اللہ پاک کی محبّت کا فیضان ہمیں نصیب ہو جائے۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
قُلِ اللّٰهُۙ-ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۱) (پارہ:7، سورۂ انعام:91)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تم کہو:اللہ ۔پھر انہیں ان