Share this link via
Personality Websites!
طرف نہیں بڑھیں گے بلکہ ہر آنے والا لمحہ جنتیوں کے حُسْن و جمال میں اِضافہ کرے گا۔
صحابئ رسول حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: بیشک جنّت میں ایک بازار ہے، جہاں اَہْلِ جنّت ہر جمعہ (Friday) کو جایا کریں گے۔ وہاں شمالی ہواچلے گی، جو ان کے چہروں اور کپڑوں میں سَما جائے گی۔ اس کے ذریعے سے جنتیوں کے حُسْن و جمال میں اضافہ ہو جائے گا، جب وہ اپنے گھروں کو لوٹا کریں گے تو ان کے اَہْلِ خانہ کہا کریں گے: وَاللهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا خُدا کی قسم! تمہارا حُسْن و جمال پہلے سے بڑھ گیا ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! بندے کو کوئی نعمت ملے، اس کی کوئی خواہش، کوئی تمنّا پُوری ہو تو اس کو خوشی ضرور ہوتی ہے لیکن اگروہ نعمت، وہ خواہش محدود مُدَّت (Limited Time) کے لئے ہو تو خوشی ادھوری رہ جاتی ہے۔ کسی شاعِر (Poet) نے کہا تھا:
وَصْل کی شِیْرِیْنی میں پنہاں فَصْل کی تلخی بھی ہے کم کم
تم سے ملنے کی بھی خوشی ہے، تم سے جُدا ہونے کا بھی غم
خواہش تو پُوری ہو گئی، نعمت تو مل گئی، اس کی خوشی اپنی جگہ مگر اس خوشی میں جُدائی کا غم بھی شامِل ہے۔ ایک مرتبہ حضرت رَابِعہ بَصَرِیہ رحمۃُ اللہ عَلَیْہا نے فرمایا: اگر کسی شخص کو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami