Share this link via
Personality Websites!
اُخروی کاموں میں کِفایَت بھی کرتا ہے ، یہاں تک بَس نہیں ، اس پر مزید کرم بالائے کرم یہ ہوتا ہے کہ سَروَرِ عالم ، نورِ مُجَسَّم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم روزِ قیامت اس ( سلام عرض کرنے والے ) کو شفاعت سے بھی نوازیں گے۔
عَجَب کرم شَہِ والا تبار کرتے ہیں کہ نااُمِّیدوں کو اُمِّید وار کرتے ہیں
مجھے فَسُردَگئ بخت کا اَلَم کیا ہو وہ ایک دَم میں خِزَاں کو بہار کرتے ہیں
جو خوش نصیب یہاں خاکِ دَر پہ بیٹھتے ہیں جلوسِ مَسندِ شاہی سے عار کرتے ہیں ( [1] )
وضاحت : ہمارے آقا و مولیٰ ، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی کرم نوازیاں بھی کمال ہیں کہ نااُمِّیدوں کو اُمِّید عطا فرماتے ہیں۔ مجھے بدقسمتی کا غم کیوں ہو ، آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ایک دَم میں خزاں کو بہار ( یعنی بُری قسمت کو بھلی ) کر دیتے ہیں ، وہ خوش نصیب جسے خاکِ مدینہ پر بیٹھنا نصیب ہو جائے ، وہ بادشاہوں کے تخت کو خاطِر میں نہیں لاتا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
حدیثِ پاک میں ہے : اَفْضَلُ الْعَمَلِ اَلنِّيَّةُ الصَّادِقَةُ سچی نیت اَفْضَل تَرین عَمَل ہے۔ ( [2] )
اے عاشقانِ رسول ! ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادَت بنائیے کہ اچھی نیت بندے کو جنَّت میں داخِل کروا دیتی ہے۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے ! مثلاًنیت کیجئے ! * عِلْمِ دِین سیکھنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * بااَدب بیٹھوں گا * دورانِ بیان سُستی سے بچوں گا * اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا * جو سُنوں گا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami