Share this link via
Personality Websites!
296883
2126
سبب وہ حدیثِ پاک ہے جو میں نے رَسُولُاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سُنی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اِنَّ اَدْنیٰ الرِّیَاءِ شِرْکٌ“یعنی اَدْنیٰ رِیا بھی شِرک ہے۔“(المستدرک ، کتاب معرفة الصحابة،استخلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاذ بن جبل علی مکة،۴/ ۳۰۶، حدیث :۵۲۳۱)
بنادے مجھ کو الٰہی خُلوص کا پیکر قریب آئے نہ میرے کبھی رِیا یارَبّ!
اَندھیری قَبْر کا دل سے نہیں نکلتا ڈر کروں گا کیا جو تُو ناراض ہو گیا یارَبّ!
(وسائلِ بخشش، ص ۷۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے رِیاکاری کیسی منحوس آفت ہے کہ اس کے سبب نیک اَعْمال قبول نہیں ہوتے، رِیاکاری کرنے والا جنَّت سے محروم رہتا ہے، اسے بروزِ قیامت رُسوا کیا جاۓ گا ، رِیا کاری کے سبب نیک عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں ایسا مَردُود ہوتاہے کہ اس پر کوئی بھی اَجْرو ثواب نہیں ملتا بلکہ رِیاکاری والاعمل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی کا سبب ہے۔
چُنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشَاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1286صفحات پر مُشتمل کتاب ”اِحْیاءُ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami