سجدۂ تعظیمی

حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لَوْ کُنْتُ آمِرًا اَحَدًا اَنْ یَّسْجُدَ لِاَحَدٍ لَاَمَرْتُ المَرْاَۃَ اَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا ترجمہ:اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔(ترمذی،ج2،ص386،حدیث:1162)

شرح حدیث اس حدیثِ پاک میں دو چیزوں کا بیان ہے:

(1)اگر مخلوق میں سے کسی کو سجدۂ تعظیمی کرنے کی اجازت ہوتی تو عورت کو حکم دیا جاتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ بیوی پر شوہر کے کثیر حُقوق ہیں جن کی ادائیگی سے وہ عاجز ہے۔ اس حدیثِ پاک میں عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کرنے کے وُجوب میں انتہائی مبالغہ ہے۔

(2)اللہ پاک کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا حلال نہیں۔(مرقاۃ المفاتیح،ج 6،ص401، تحت الحدیث:3255)

غیرِ خدا کو سجدہ کرنے کا حکم سجدے کی دو قسمیں ہیں:

ایک سجدہ عبادت ہے، یہ صرف اللہ کریم کے لئے ہے، اس کے علاوہ کبھی بھی کسی کے لئے جائز نہیں رہا۔

دوسرا سجدۂ تعظیمی، یہ پہلے مخلوق کے لئے کرنا جائز تھا کہ ملائکہ نے آدم علیہ السَّلام کو تعظیماً سجدہ کیا، پھر مصطفےٰ جانِ رَحْمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اس سے بھی منع فرما دیا اور فرمایا کہ اگر اس کی اجازت ہوتی تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ شوہر کو اس کے حق کی ادائیگی کے لئے کرے۔

(فیض القدیر،ج 5،ص419، تحت الحدیث:7481)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے: جس نے کسی حاکم کو بطورِ تعظیم سجدہ کیا وہ کافر نہ ہوگا ہاں گناہ گار ہے کیونکہ اس نے کبیرہ گناہ کا اِرتِکاب کیا ہے، اگر اس نے سجدہ بطورِ عبادت کیا تو کافر ہوگا۔ جیساکہ جَواہرُ الاَخْلَاطِی میں ہے۔(فتاویٰ ہندیہ،ج 5،ص369،368)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:غیرِ خدا کو سجدۂ عبادت شِرک ہے سجدۂ تعظیمی شِرک نہیں مگر حرام ہے گناہِ کبیرہ ہے مُتَواتِر حدیثیں اور مُتَواتِر نُصوصِ فقہیہ سے اس کی حُرمت ثابت ہے۔ ہم نے اپنے فتاویٰ میں اس کی تَحرِیم (حرام ہونے) پر چالیس حدیثیں روایت کیں اور نُصوصِ فقہیہ کی گنتی نہیں، فتاویٰ عزیزیہ میں ہے کہ اس کی حُرمت پر اِجماعِ اُمّت ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج 22،ص565)

سجدۂ تعظیمی کی حُرمت پرتین احادیث (1)اَنصار میں ایک گھر کا پانی لانے کا اُونٹ بگڑ گیا کسی کو پاس نہ آنے دیتا کھیتی اور کھجوریں پیاسی ہوئیں۔ سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے شکایت عرض کی، صَحابہ سے ارشاد ہوا چلو باغ میں تشریف فرما ہوں۔ اُونٹ اس کنارے پر تھا۔ حُضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کی طرف چلے۔ انصار نے عرض کی: یَارسولَ اللہ! وہ باؤلے کتے کی طرح ہوگیا ہے مَبادا (کہیں ایسا نہ ہوکہ) حملہ کرے۔ فرمایا: ہمیں اس کا اندیشہ نہیں۔ اُونٹ حُضور کو دیکھ کر چلا اور قریب آکر حُضور کے لئے سجدہ میں گِرا، حُضور نے اس کے ماتھے کے بال پکڑ کر کام میں دے دیا، وہ بکری کی طرح ہوگیا۔ صَحابہ نے عرض کی: ہم تو ذِی عقل ہیں ہم زیادہ مستحق ہیں کہ حُضور کو سجدہ کریں۔ فرمایا: آدمی کو لائق نہیں کہ کسی بَشر کو سجدہ کرے ورنہ میں عورت کو مرد کے سجدے کا حکم فرماتا۔(مسند احمد،ج4،ص317،حدیث:12614)

(2)حضرت سیّدُنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتےہیں کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وفاتِ انور کے مَرَض میں مجھ سے فرمایا: لوگوں کو ہمارے حُضور حاضر ہونے دو۔ میں نے اِذن دیا (اجازت دی)۔ جب لوگ حاضر ہوئے تو حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اللہ کی لعنت ہو ہر اس قوم پر جس نے اپنے انبیا کی قبریں جائے سجدہ ٹھہرا لیں۔(مسند بزار،ج 2،ص216، حدیث:605)

(3)رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بدتر لوگوں میں ہیں وہ جو قبروں کو محلِ سُجود قرار دیں۔(مصنف عبد الرزاق،ج 1،ص307،حدیث:1588)

شوہر کے بیوی پر حُقوق کے بارے میں چار فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم (1)قسم ہے اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے! عورت اپنے پروردگار کا حق ادا نہ کرے گی جب تک شوہر کے کُل حق ادا نہ کرے۔(ابنِ ماجہ،ج 2،ص411،حدیث:1853)

(2)جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا (تکلیف) دیتی ہے تو حُورِ عین (یعنی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی حور) کہتی ہیں: خدا تجھے مارے، اِسے ایذا نہ دے یہ تو تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب تجھ سے جُدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔(ترمذی،ج 2،ص392، حدیث:1177)

(3)عورت ایمان کا مزہ نہ پائے گی جب تک حقِ شوہر ادا نہ کرے۔(معجم کبیر،ج 20،ص52،حدیث:90)

(4)جو عورت اس حال میں مری کہ شوہر راضی تھا، وہ جنّت میں داخل ہوگی۔(ترمذی،ج 2،ص386، حدیث:1164)

صدرُالشّریعہ کی نصیحتیں صدرُالشّریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:آج کل عام شکایت ہے کہ زَن و شَو (میاں بیوی) میں نااتفاقی ہے۔ مرد کو عورت کی شکایت ہے تو عورت کو مرد کی، ہر ایک دوسرے کے لیے بَلائے جان (وبال) ہے اور جب اتفاق نہ ہو تو زندگی تَلخ اور نتائج نہایت خراب۔ آپس کی نااتفاقی علاوہ دنیا کی خرابی کے دِین بھی برباد کرنے والی ہوتی ہے اور اس نااتفاقی کا اثرِ بد (بُرا اثر) اِنھیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اولاد پر بھی اثر پڑتا ہے اولاد کے دل میں نہ باپ کا ادب رہتا ہے نہ ماں کی عزت اس نااتفاقی کا بڑا سبب یہ ہے کہ طرفین(یعنی دونوں ) میں ہر ایک دوسرے کے حُقوق کا لحاظ نہیں رکھتے اور باہم رواداری سے کام نہیں لیتے مرد چاہتا ہے کہ عورت کو باندی سے بدتر کرکے رکھے اور عورت چاہتی ہے کہ مرد میرا غلام رہے جو میں چاہوں وہ ہو، چاہے کچھ ہوجائے مگر بات میں فرق نہ آئے جب ایسے خیالاتِ فاسِدہ طَرَفَین میں پیدا ہوں گے تو کیونکر نِبھ سکے۔ دن رات کی لڑائی اور ہر ایک کے اَخلاق و عادات میں بُرائی اور گھر کی بربادی اسی کا نتیجہ ہے۔قرآنِ مجید میں جس طرح یہ حکم آیا کہ: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (تَرجَمۂ کنزُ الایمان:مرد افسر ہیں عورتوں پر) (پ5، النسآء:34) جس سے مَردوں کی بڑائی ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی فرمایا کہ: وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ (تَرجَمۂ کنزُالایمان: اور ان سے اچھا برتاؤ کرو) (پ4،النسآء:19)جس کا صاف یہ مطلب ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھی معاشرت کرو۔

مرد کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے ذمہ عورت کے کیا حُقوق ہیں انھیں ادا کرے اور عورت شوہر کے حُقوق دیکھے اور پورے کرے، یہ نہ ہو کہ ہر ایک اپنے حقوق کا مطالبہ کرے اور دوسرے کے حقوق سے سروکار نہ رکھے اور یہی فساد کی جَڑ ہے اور یہ بہت ضَرور ہے کہ ہر ایک دوسرے کی بیجا باتوں کا تحمل کرے (بے جاباتوں کو برداشت کرے) اور اگر کسی موقع پر دوسری طرف سے زیادتی ہو تو آمادہ بفساد (لڑائی جھگڑے کے لئے تیار) نہ ہو کہ ایسی جگہ ضِد پیدا ہوجاتی ہے اورسُلجھی ہوئی بات اُلجھ جاتی ہے۔(بہارِ شریعت،ج2،ص100،99)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭۔۔۔دارالافتاءاہل سنّت،مرکزالاولیاء لاہور

Share