محبتِ مُرشد کا انوکھا انداز

محبتِ مُرشد کا انوکھا انداز

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

سگِ مدینۃُ المرشد کامران عزیز عطّاری کی جانب سے میرے پىارے نگران! نگرانِ بابُ المدىنہ! نگرانِ مکّى رىجن! امىن بھائى کى خدمت مىں:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

حضور عرض ىہ ہے کہ 3رجبُ المرجّب1440ھ کی شب کو مدنى مذاکرے مىں امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنا عذر بىان فرماىا کہ گھٹنے میں دَرد کی وجہ سے میں (کرسی پر) بىٹھ کر نماز پڑھ رہا ہوں، یہ سُن کر دل بہت رنجىدہ ہوا اور آنکھىں بھر آئىں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اس کے بعد میں نے حدىثِ پاک مىں پىارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نابىنا صحابی رضی اللہ عنہ کو جو نماز (یعنی صلوٰۃُ الحَاجَۃ) پڑھنے کی تعلیم فرمائی تھی،([1]) وہ امیرِِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کى صحت ىابى کے لئے ادا کی اور اللہ پاک کى بارگاہ مىں دُعا کى کہ یااللہ تو جانتا ہے کہ بندہ جس سے مَحبّت کرتا ہے اسے صحت مند اور خوش و خرم دىکھنا چاہتا ہے، مىرے امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو صحت سے نواز دے، شفا سے نواز دے، ان کا ساىہ ہم پر تادىر قائم و دائم فرما، اے مالک و مولیٰ! ان کے سارے اعذار بخىر و عافىت دُور ہوں، ىہ پہلے کى طرح کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگىں، ان پر اپنى رحمت و رضوان کى بارشىں نازل فرما، اٰمین۔ 22،23،24 مارچ 2019ء کو تىن دن کے مدنى قافلے مىں سفر کا ذہن تو تھا لیکن پختہ اِرادہ نہیں تھا، جب امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی گھٹنے کی تکلیف کا سُنا تو مىں نے نیّت کی کہ اللہ پاک کى رضا اور امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی صحت ىابى کى نىّت سے اِنْ شَآءَ اللہ مدنى قافلے مىں ضَرور سفر کروں گا اور اللہ کریم کی بارگاہ مىں اپنے پىارے امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے لئے دُعا کرنے کى سعادت حاصل کروں گا، خواہ مىرى طبىعت جىسى بھى ہو۔ آپ بھى دعائے استقامت فرمائیے گا، جَزَاکَ اللہ خَیْرا۔

شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہتک یہ صَوتی پیغام پہنچا تو آپ نے اپنے ہمدرد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے شہزادۂ عالی وقار! باپوئے آبرو دار!سىّد کامران عزىز عطّارى کى خدمت مىں:اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

مَا شَآءَ اللّٰہ حاجى امىن نے آپ کا صَوتى پىغام مجھے بھیجا، سُن کر دل باغ باغ بلکہ باغِ مدىنہ ہوگىا۔ مَا شَآءَ اللّٰہ آپ نے مجھے دعاؤں سے نوازا، صلوٰۃُ الحَاجۃ پڑھی اور مدنى قافلے مىں سفر کرنے کی بھی نیّت فرمائی۔ اتنى ہمدردى! اتنى ہمدردى!! اتنى ہمدردی!!! اللہ پاک آپ کو دونوں جہانوں مىں شاد و آباد، پھلتا پُھولتا، مدىنے کے سدا بہار پھولوں کے صدقے مسکراتا رکھے۔ وَاللہ! مجھے بڑى خوشى ہوئی، اللہ کریم آپ کو جنّتُ الفِردوس مىں بے حساب داخلہ دے کر آپ کے نانا جان، رَحْمتِ عالَمیان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پڑوس مىں جگہ عطا فرما کر آپ کو خوش کردے اور مىرے حق میں بھى ىہ دُعائىں قبول فرمائے، اٰمین۔ بہت بہت شکرىہ، بہت بہت شکرىہ، مزىد دُعائىں فرماتے رہئے گا کہ مىں کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر قادر ہوجاؤں اور میرے دىگر امراض بھى دُور ہوجائىں، تقرىباً 71سال عمر ہوگئى ہے، بس اللہ کرىم کسى کا محتاج نہ کرے اپنے دَر کا محتاج رکھے۔ بے حساب مغفرت کى دُعا کا مُلْتَجى ہوں۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

www.facebook.com/IlyasQadriZiaee/



[1]مکمل روایت مکتبۃُ المدینہ کی کتاب ’’اسلامی بہنوں کی نماز‘‘ صفحہ189 پر موجود ہے۔

Share

Comments


Security Code