بُرائی کا بدلہ اچھائی سے

اللہ ربّ العزّت کا فرمان ہے : وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴)ترجمہ:اور اچھائی اور برائی برابرنہیں ہوسکتی۔ برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو تو تمہارے اور جس شخص کے درمیان دشمنی ہوگی تو اس وقت وہ ایسا ہوجائے گا کہ جیسے وہ گہرا دوست ہے ۔(پ24، فصلت:34)

اچھائی اور برائی برابر نہ ہونے کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ نیکی اور گناہ برابر نہیں بلکہ نیکی خیر ہے اور گناہ شر اور خیر و شر برابر نہیں ہوسکتے ۔ دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ نیکیوں کے مراتِب برابر نہیں بلکہ بعض نیکیاں دوسری نیکیوں سے اعلیٰ ہیں جیسے نماز، روزے سے افضل ہے ۔ اسی طرح گناہوں کے مراتب برابر نہیں بلکہ بعض گناہ دوسرے گناہوں سے بڑے ہیں جیسے قتل، چوری سے بڑا گناہ ہے ۔ یونہی لوگوں میں بڑے مرتبے والا وہ ہے جو بڑی بڑی نیکیاں کرتا ہے اور بد تر مرتبے والا وہ ہے جو بڑے بڑے گناہ کرتا ہے ۔

برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو اس آیت میں اعلیٰ اخلاقی قدر اور معاشرتی زندگی کے سکون و اطمینان کا راز بتایا گیا ہے کہ تم برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو مثلاً غصے کو صبر سے ، لوگوں کی جہالت کو بُردباری سے اور بدسلوکی کو عفو و درگزر سے کہ اگر کوئی برائی کرے تو اسے معاف کردو۔ اِس طرزِ عمل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن دوستوں کی طرح تجھ سے محبت کرنے لگیں گے ۔ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ طیبہ میں اس خوبصورت اخلاق کے اعلیٰ نمونے روشن ستاروں کی طرح جگمگاتے نظر آتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب غزوۂ احد میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے والے مبارک دانت شہید([1])ہوئے اور روشن چہرہ لہو لہان ہوگیا تو ان کافروں کے خلاف دعا کی عرض کی گئی لیکن آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے طعنے دینے والا اور لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ مجھے دعوت دینے اور رحمت فرمانے والا بنا کر بھیجا ہے ، (پھر دعا کی) اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ مجھے جانتے نہیں۔(شعب الایمان،ج 2،ص164، حدیث:1447)

قاضی عیاض علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:اس حدیث پاک پر غور کرو کہ اس میں کس قدر فضیلت، درجات، احسان، حسنِ خلق، بے انتہا صبر اور حلم جیسے اوصاف جمع ہیں کیونکہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صرف ان سے خاموشی اختیار کرنے پر ہی اکتفا نہیں فرمایا بلکہ انہیں معاف بھی فرما دیا، پھر شفقت و محبت فرماتے ہوئے ان کے لئے یہ دعا بھی فرمائی کہ اے اللہ! ان کو ہدایت دے ، پھر اس شفقت و رحمت کا سبب بھی بیان فرمادیا کہ یہ میری قوم ہے ، پھر ان کی طرف سے عذر بیان فر ما دیا کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔(الشفاء،ج1،ص106)

یونہی ایک مرتبہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اوپر ایک نجرانی چادر تھی جس کے کنارے مو ٹے تھے کہ ایک اعرابی نے بطورِ امداد مال مانگنے کے لئے چادرمبارک پکڑ کر بڑے زور سے کھینچا یہاں تک کہ مبارک کندھے پر رگڑ کا نشان بن گیا۔ ساتھ ہی اعرابی نے بڑے سخت جملے بھی کہے ۔ سید العالمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خاموش رہے اور صرف اتنا فرمایا کہ مال تو اللہ تعالیٰ کا ہی ہے اور میں تو ا س کا بندہ ہوں، پھر ارشاد فرمایا کہ اے اعرابی:کیا تم سے اس سلوک کا بدلہ لیا جائے جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے ؟ اس نے کہا:نہیں۔ فرمایا: کیوں نہیں؟ اعرابی نے جواب دیا،کیونکہ آپ کی یہ عادتِ کریمہ ہی نہیں کہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے دیں۔ اس کی یہ بات سن کر سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسکرا دئیے اور ارشاد فرمایا: اس کے ایک اونٹ کو جَو سے اور دوسرے کوکھجور سے بھردو۔(بخاری،ج 4،ص77،حدیث:5809، الشفاء،ج 1،ص108)

تکلیف پر صبر، جہالت پر حلم اور بد سلوکی پر عفو و درگزر بہت عظیم عمل ہے حتیٰ کہ اگلی آیت میں فرمایا کہ یہ دولت صبر کرنے والوں کو ہی ملتی ہے اور یہ دولت بڑے نصیب والے کو ہی ملتی ہے ۔(پ24، فصلت:35) یقین جانیے کہ خوش اخلاقی بہت بڑی نعمت ہے نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مومنوں میں زیادہ کامل ایمان والا وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے ان میں سب سے اچھا ہے ۔(ابو داؤد،ج4،ص290 ، حدیث:4682)

ایک مرتبہ کچھ اعرابیوں نے سوال کیا، انسان کو عطا کی جانے والی بہترین چیز کون سی ہے ؟ فرمایا:اچھا اخلاق۔(معجمُ الاوسط،ج 1،ص117، حدیث: 367)

ایک جگہ فرمایا:اچھا اخلاق خطا کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے سورج جمے ہوئے پانی کو پگھلا دیتا ہے ۔(شعبُ الایمان،ج 6،ص247،حدیث: 8036)

اچھے اخلاق کی راہ میں بڑی رکاوٹ، مزاج کی شدت اور غصے کی تیزی ہے ۔ اگر اس کا علاج کرلیا جائے تو خوش اخلاق، ملنسار اور عفو و درگزر کرنے والا بننا آسان ہوجاتا ہے ۔ غصے کی عادت کے بہت سے نقصانات ہیں مثلاً غصہ کرنے والا صبر، عاجزی اور انکساری سے محروم ہو جاتا ہے ۔ عمومی طور پر غصہ اسی شخص کو آتا ہے جس میں تکبر،فخر اور غرور کا مادہ پایاجاتا ہے ۔ غصہ غیبت، کینہ، حسد، گالی، دل آزاری، ایذا رسانی اور بہت سے گناہوں کا سبب بنتا ہے ۔ غصے کی وجہ سے دوستیاں اور رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں اور لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ یونہی طلاقیں اور قتل بھی عموماً غصے میں ہوتے ہیں جبکہ غصے پر قابو پانے سے معاملات سدھرتے ، بگڑے کام بنتے اور زندگی خوشیوں سے معمور ہوجاتی ہے ۔ غصے پر قابو پانے کے متعلق سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا:وہ شخص بہادر نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے ، بہادر تو وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے ۔(بخاری،ج 4،ص130،حدیث:6114)

ایک جگہ فرمایا:جو شخص اپنے غصہ کے تقاضے کو پورا کرنے پر قادر ہو، اس کے باوجود وہ اپنے غصے کو ضبط کرلے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کوتمام مخلوق کے سامنے بلاکر فرمائے گا: تم حور عین میں سے جس حور کو چاہو لے لو۔(ابو داؤد،ج،4ص325، حدیث:4777)

اے اللہ! ہمیں اپنے حبیبِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اخلاقِ کریمہ کے صدقے حسنِ اخلاق کی دولت عطا فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

www.facebook.com/MuftiQasimAttari/

شوال المکرم کے چھ روزوں کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : جس نے رَمَضان کے روزے رکھے پھر اِن کے بعد چھ روزے شوّال میں رکھے تو گویا کہ اُس نے زمانے بھر کا روزہ رکھا۔(مسلم ،ص456،حدیث:2758)

عید کے بعد یہ چھ روزے ایک ساتھ بھی رکھ سکتے ہیں لیکن متفرق یعنی الگ الگ رکھنا افضل ہے ۔(درمختارمع ردالمحتار،ج3،ص485ملخصاً)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭۔۔۔دارالافتاءاہل سنّت،عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ،باب المدینہ کراچی



[1] ۔۔۔سامنے کے چار دانت دو اوپر کے اور دو نیچے کے رباعیہ کہلاتے ہیں بروزن ثمانیہ،اردو میں انہیں چوکڑی کہتے ہیں۔حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی داہنی کی نیچے کی چوکڑی کا ایک دانت شریف کا ایک کنگرہ ٹوٹا تھا یہ دانت شہید نہ ہوا تھا اور ہونٹ شریف بھی زخمی ہوگیا تھا۔(مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص111 )اس سے حسن مبارک میں کمی نہیں ہوئی تھی۔

Share