حضرت سیدتنا مریم بنت عمران

مختصر تعارف حضرت سیّدنا عیسیٰ علٰی نَبِیِّنَاوعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کی والدہ حضرت سیّدَتُنا مریم رضی اللہ عنھا کے والد کا نام عمران بن ماثان ہے جو حضرت سیدتنا مریم رضی اللہ عنھاکے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے ہی وصال فرماگئے تھے۔ آپ کی والدۂ محترمہ حضرت حنّہ بنتِ فاقوذا جو کہ حضرت سیّدنا یحییٰ علیہ السَّلام کی خالہ تھیں زُہد وتقویٰ میں اپنی مثال آپ تھیں۔ (خزائن العرفان،پ3،اٰل عمرٰن، تحت الآیۃ: 35، ص111) حضرت مریم کی ولادت حضرت حنّہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اولاد نہ تھی۔ ایک روز آپ نے درخت کے سائے میں ایک چڑیا دیکھی جو اپنے بچّے سے پیار کر رہی تھی اور اسے دانہ کھلا رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر آپ کا دل بَھر آیا اور بارگاہِ الٰہی میں اولاد کی دعا کی تو اللہ پاک نے آپ کو حضرت مریم رضی اللہ عنھا کی صورت میں باکمال بیٹی سے نوازا۔ (تفسیر بیضاوی، پ3، اٰل عمرٰن، تحت الآیۃ: 35 تا 37،ج 2،ص29تا33) آپ کی پرورش کس نے کی؟ چونکہ حضرت سیدتنا مریم رضی اللہ عنھا کی ولادت سے قبل ہی آپ کے والد اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے اس لئے حضرت حَنَّہ رضی اللہ عنہا نے ولادت کے بعد آپ کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیتُ المقدس کے عُلَما کے سامنے پیش کردیا تاکہ وہ انہیں اپنی کفالت میں لے لیں۔ یہ معزّز علما حضرت ہارون علیہ السَّلامکی اولاد میں سے تھے اور بیتُ المقدس کی خدمت پر مقرّر تھے۔ چونکہ آپ کے والد حضرت سیّدنا عمران رضی اللہ عنہ ان علما میں ممتاز تھے اس لئے ان سب علما نے جن کی تعداد 29 تھی حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو اپنی پرورش میں لینے میں رغبت ظاہر کی۔ حضرت زکریا علیہ السَّلام نے فرمایا کہ میں ان کا سب سے زیادہ حقدار ہوں کیونکہ میرے گھر میں ان کی خالہ ہیں، معاملہ اس پر ختم ہوا کہ قرعہ اندازی کی جائے چنانچہ قرعہ (Draw) حضرت زکریا علیہ السَّلام ہی کے نام پر نکلا اور یوں حضرت مریم رضی اللہ عنہا حضرت زکریا علیہ السَّلام کی کفالت میں چلی گئیں۔ (خازن، پ3، اٰل عمرٰن،تحت الآیۃ:37 ،ج1،ص245) آپ رضی اللہ عنہا کے فضائل صالحین کے گھرانے میں پیدا ہونے والی اس مقدس شہزادی کو ربُّ العٰلمِین نے کن کن فضائل و کمالات سے نوازا ملاحظہ فرمائیں۔ ٭آپ کے سواکسی عورت کانام قراٰنِ مجید میں نہیں آیا ٭ہر نومولود بچے کو شیطان اپنی انگلیوں سے چُھوتا ہے مگر آپ شیطان کے چھونے سے محفوظ رہیں۔ (مسند احمد،ج3،ص107، حدیث: 7712مفہوماً) ٭حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کو کامل خواتین میں شمار فرمایا ہے، جیسا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مَردوں میں کامل بہت ہیں، عورتوں میں سے کامل آسیہ اور مریم بنتِ عمران (رضی اللہ عنہما) ہیں۔ (بخاری،ج2،ص445، حدیث:3411) ٭سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اپنے زمانہ کی عورتوں میں سب سے بہتر مریم بنتِ عمران(رضی اللہ عنھا) ہیں۔ (مسلم، ص1015، حدیث:6271) کرامات ٭حضرت سیّدَتُنا مریم رضی اللہ عنہا دوسرے بچّوں کی بَنسبت بہت تیزی کے ساتھ بڑھتی رہیں۔ مفسّرین فرماتے ہیں کہ آپ ایک دن میں اتنا بڑھتی تھیں جتنا اور بچّے ایک سال میں بڑھتے ہیں۔ (تفسیر بغوی،پ3،اٰل عمرٰن، تحت الآیۃ: 38،ج 1،ص228) ٭آپ رضی اللہ عنہا کے پاس جنّت سے بے موسم کے پھل آتے تھے، حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا۔ (تفسیر بیضاوی، پ3، اٰل عمرٰن، تحت الآیۃ: 37،ج2،ص34) ٭ ایک مرتبہ حضرت سیّدنا زکریا علیہ السَّلام نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا کے پاس بے موسم پھل پاکر آپ سے سوال کیا کہ یہ پھل آپ کے پاس کہاں سے آتا ہے؟ تو حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یہ اللہ پاک کی طرف سے ہے۔ (پ3،اٰل عمرٰن: 37) حضرت زکریا علیہ السَّلام کی آپ سے عقیدت حضرت زکریا علیہ السَّلام کے ہاں بھی اولاد نہ تھی چنانچہ جس مقام میں حضرت مریم رضی اللہ عنہا کی مذکورہ کرامات ظاہر ہوئیں وہیں آپ نے پاکیزہ اولاد کی دعا مانگی۔ اسی وجہ سے خانۂ کعبہ، تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روضۂ اقدس اور مزاراتِ اولیاء پر دعا مانگنے میں زیادہ فائدہ ہے کہ یہ مقامات رحمت ِ الٰہی کی بارش برسنے کے ہیں۔ (صراط الجنان،پ3، اٰل عمرٰن، تحت الآیۃ: 38،ج 1،ص470) حضرت مریم کا صبر حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام آپ کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اس لئے آپ کی قوم نے طعن اور بدگوئیوں سے آپ کو بڑی بڑی ایذائیں پہنچائیں مگر آپ صبر کرتی رہیں اور بڑے مَراتِب و درجات سے سرفراز ہوئیں۔ اللہ پاک نے آپ کی مدح و ثنا کچھ یوں ارشاد فرمائی: (وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠(۱۲))تَرجَمۂ کنز الایمان: اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبرداروں میں ہوئی۔ (پ28، التحریم: 12)اللہ کریم کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭۔۔۔ماہنامہ فیضانِ مدینہ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code