حوضِ کوثر

عقیدہ اللہ کریم ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو آخرت میں جو حَوض عطا فرمائے گا اس پر ایمان رکھنا واجب ہے، جو اس کا انکار کرے وہ فاسِق و بدعتی ہے۔(شرح الصاوی علیٰ جوھرۃ التوحید، ص398، تحفۃ المرید، ص442) حضرت علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حَوضِ کوثر کے متعلق احادیث 50سے زائد صحابَۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے مروی ہیں۔(البدور السافرۃ، ص241)

ہر نبی کا ایک حَوض رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کے لئے ایک حَوض ہے اور انبیا آپس میں فخر کریں گے کہ کس کے حَوض پر زیادہ لوگ آتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ میرے حَوض پر سب سے زیادہ لوگ ہوں گے۔(ترمذی،ج 4،ص200، حدیث:2451)

ہمارے نبی کا حَوض ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بلاشبہ حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور بَرف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس کی خوشبو کَستُوری سے بڑھ کر اور پیالے ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، جو انسان اس سے پیئے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا اور اس سے پی کر جانے والا انسان ہمیشہ سیراب رہے گا۔(ابن حبان،ج 8،ص125، 126، حدیث:6423، 6424)

حوضِ کوثر کے پرنالے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جنّت سے حوض میں دو پرنالے بہتے ہیں ان میں سے ایک سونے کا اور دوسرا چاندی کا ہے۔(مسلم، ص969، حدیث:5990)

حوضِ کوثر کی لمبائی چوڑائیرسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ میرا حوض ایک مہینے کی مَسافَت کا ہے۔ اس کے گوشے برابر ہیں۔ (بخاری،ج4،ص267،حدیث:6579،مسلم،ص967،حدیث:5971)

مراٰۃُ المناجیح میں ہے:یعنی حوضِ کوثر جو میرا حوض ہے اس کی لمبائی چوڑائی کا یہ حال ہے کہ اگر اس کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ کی طرف چلا جائے تو چلنے والا ایک مہینہ میں وہاں پہنچے۔ حوضِ کوثر مُرَبَّع ہے لمبائی چوڑائی برابر اور اس کا ہر گوشہ زَاوِیہ قائمہ ہے حَادَّہ یا مُنْفَرِجَہ نہیں بلکہ گہرائی بھی ہر جگہ یکساں ہے یہ نہیں کہ کنارہ پر کم گہرا بیچ میں زیادہ گہرا۔(مراٰۃ المناجیح،ج 7،ص405)ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میرا حوض عَدَن (یمن کے دارُالخلافہ) سے لے کر عُمَّان بَلْقَاء تک ہے۔ (مسند احمد،ج 8،ص321، حدیث:22430)

حکیمُ الْاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یَمن (نام) کا ایک شہر بھی ہے شام کا ایک مقام بھی اور بَلْقَاء شام کی مشہور جگہ ہے۔ مزید فرماتے ہیں:یہ بیان حَد بَندی کے لیے نہیں بلکہ سننے والے کو وُسعت سمجھانے کے لیے ہے۔اسی واسطے مختلف احادیث میں مختلف شہروں کے نام لیے گئے جو شخص جن شہروں سے واقِف تھا اسے وہ ہی شہر بتائے گئے۔ بعض شارِحِین نے فرمایا کہ حَوضِ کوثر بعض لوگوں کی نِگاہ میں دَرَاز ہوگا، بعض کی نِگاہ میں بہت دَراز، بعض کی نِگاہ میں بہت ہی دَراز جیسے مؤمن کی قبر کی فراخی مختلف ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج،7،ص456)

حَوضِ کوثر کہاں ہوگا؟ حَوضِ کوثر کے مقام میں کئی اَقوال ہیں: حضرت امام ابراہیم بن محمد باجوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جمہور کا قول یہ ہے کہ حَوضِ کوثر پُل صِراط سے پہلے ہوگا، بعض نے اس کی تصحیح فرمائی ہے کیونکہ لوگ اپنی قبروں سے پیاسے نکلیں گے تو انہیں پانی پلانے کے لئے حوض پر لایا جائے گا۔بعض علما کے نزدیک حوضِ کوثر پُل صِراط کے بعد ہو گا۔ (تحفۃ المرید،ص444)حضرت امام محمدقُرطُبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:صحیح یہ ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دو حوض ہوں گے ایک پُل صِراط سے پہلے اور پُل صِراط کے بعد،ان دونوں کا نام کوثر ہے۔(التذکرۃ للقرطبی،ص291)

تطبیق کی ایک صورت حضرت سیّدنا امام جلالُ الدّین سُیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس میں یوں بھی تطبیق ہوسکتی ہےکہ بعض لوگ پُل صِراط عبور کرنے سے پہلے حوض سے جام پئیں گے اور بعض کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پُل صِراط عُبور کرنے کے بعد حَوض سے پلایا جائے گا تاکہ پُل صِراط عُبور کرکے گناہوں سے پاک ہوجائیں پھر حوض سےپئیں۔یہ قول زیادہ قوی ہے۔(البدور السافرۃ، ص223)

کیا حَوضِ کوثر اسی زمین پر ہوگا حضرت سیِّدُنا امام محمد قُرطُبی رحمۃ اللہعلیہ فرماتےہیں:تمہارے وَہم و خَیال میں بھی یہ نہ آئے کہ حوض اسی سطحِ زمین پر ہوگا بلکہ حَوض اس تبدیل کردہ زمین پر ہوگا جو چاندی کی طرح سفید ہوگی، اس پر نہ تو کبھی خون بہایا گیا ہوگا اور نہ ہی کسی پر ظلم کیاگیا ہوگا۔(التذکرۃ للقرطبی، ص293)

حَوضِ کوثر پر سب سے پہلے کون رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اَوَّلُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ اَهْلُ بَيْتِی وَمَنْ اَحَبَّنِي مِنْ اُمَّتِي یعنی سب سے پہلے میرے پاس حَوضِ کوثر پر آنےوالے میرے اہلِ بیت ہیں اور میری اُمّت میں سے میرے چاہنے والے۔(السنۃ لابن ابی عاصم، ص173، حدیث: 766)

باہر زبانیں پیاس سے ہیں آفتاب گرم

کوثر کے شاہ کَثَّرَہُ اللہ لے خبر

حَوضِ کوثر پر جنہیں چابُک مارے جائیں گے حضرت سیِّدُنا امامِ حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ہم سے بُغض (دشمنی) مت رکھنا کہ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:لَایُبْغِضُنَا وَ لَایَحْسُدُنَا اَحَدٌ اِلَّا ذِیْدَ عَنِ الْحَوْضِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِسِیَاطٍ مِنْ نَارٍ یعنی جو ہم سے بُغض و حَسَد کرے گا، اسے قِیامت کے دن حَوضِ کوثر سے آگ کے چابکوں کے ذریعے دُور کیا جائے گا۔(معجم الاوسط،ج 2،ص33، حدیث:2405)

آبِ کوثر سے بھرا پیالہ چاہئے تو یہ دُرودِ پاک پڑھا کیجئے کہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص حَوضِ کوثر سے بھرا پیالہ پینا چاہے وہ اس دُرُودِ پاک اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَاَوْلَادِہٖ وَاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیّٰتِہٖ وَاَھْلِ بَیْتِہٖ وَاَصْھَارِہٖ وَاَنْصَارِہٖ وَاَشْیَاعِہٖ وَمُحِبِّیْہِ وَاُمَّتِہٖ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ اَجْمَعِیْنَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ کو پڑھے۔(الشفاء،ج2،ص72)

غلامو، مت ڈرو مَحْشَر کی گرمی سے چلے آؤ

وہ کوثر کے پیالے بھر کے پیاسوں کو پلاتے ہیں(وسائلِ بخشش،291)

درسِ نظامی کے اختتام پر مرکزی جامعۃ المدینہ باب المدینہ کراچی کے ایک اسلامی بھائی کےمنفرد جذبات

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ!

آج دورۂ حدیث شریف کا آخری پیپر ہوا ہے،گویا درسِ نظامی کا اختتام۔۔۔آہ! دیکھتے ہی دیکھتے زندگی کے ان 8 سال کا یہ تعلیمی سلسلہ تکمیل کو پہنچا۔نہ جانے یہ بارگاہِ الٰہی میں مقبول بھی ہوا یا نہیں!دُعا فرما دیجئے کہ یہ حصولِ علمِ دین قیامت و قبر میں میرے خلاف حُجّت نہ بنے۔ کاش! کاش! کاش! اس درسِ نظامی کی برکت سے میری بے حساب بخشش ہوجائے۔ خدا کی قسم! میں نے کبھی خواب بھی نہ دیکھا تھا کہ میں درسِ نظامی کروں گا۔ یہ سب شیخِ طریقت، امیرِاہلِ سنّت علّامہ مولانا محمد الیاس قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا فیضان ہے۔ اللہ پاک امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو سدا سلامت رکھے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم(20اپریل2019عیسوی\14شعبان المعظم 1440ہجری)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭۔۔۔رکن مجلس المدینۃ العلمیہ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code