تعلیمی سال کا آغاز

نیا تعلیمی سال امنگوں اور حوصلوں کو جلا بخشنے والا ہوتا ہے۔ طلبہ اپنے پچھلے تعلیمی ریکارڈ سے کچھ بہتر کرنے کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ بہتر مستقبل کی طرف پیش قدمی ان میں ایک نئی جان ڈال دیتی ہے اس لئے ان قیمتی لمحات کو ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان ایام کے لئے خصوصی منصوبہ بندی اور تیاری کرنی چاہئے۔مذہبی و دینی جامعات و مدارس کا تعلیمی سال عموماً شوال المکرم میں ہی شروع ہوتا ہے۔ اسی پہلو کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ”تعلیمی سال کا آغاز کیسا ہونا چاہئے؟“ کے حوالے سے چند مدنی پھول پیشِ خدمت ہیں:

نیّت درست کیجئے پیارے طلبۂ کرام! ہم بچپن سے ہی یہ حدیثِ مبارکہ سنتے آرہے ہیں کہ ”اِنَّمَا الْاَعْمَاْلُ بِالنِّیَات“ یعنی اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے۔ یاد رکھئے! اعمال سے مراد صرف نماز روزہ اور صدقہ و خیرات نہیں بلکہ ہر عمل ہے۔ جامعہ میں داخل ہونے میں ہماری کیا نیت ہے ؟ اسے پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے، ہماری نیّت یہ ہونی چاہئے کہ اللہ کی رضا کے لئے علمِ دین حاصل کریں اور دینِ اسلام اور مسلمانوں کی علمی و دینی خدمت کریں البتہ دُنیوی ثمرات الگ ہیں، خود کو علّامہ یا مفتی کہلوانے کی نیّت ہرگز نہیں ہونی چاہئے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: قیامت کے دن سب سے پہلے ایک شہید کا فیصلہ ہو گا جب اسے لایا جائے گا تو ربِّ کریم اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا پھر اللہ پاک ارشاد فرمائے گا :”تُو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟“وہ عرض کرے گا :”میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔“ تو اللہ رب العزّت ارشاد فرمائے گا :”تُو جھوٹا ہے تو نے جہاد اس لئے کیاتھا کہ تجھے بہادر کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا، پھر اس کے بارے میں جہنم میں جانے کا حکم دے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔ پھر اُس شخص کو لایا جائے گا جس نے علم سیکھا، سکھایا اور قراٰنِ کریم پڑھا، وہ آئے گا تو اللہ پاک اسے بھی اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہ پاک اس سے دریافت فرمائے گا :”تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟“وہ عرض کرے گا کہ ”میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے لئے قراٰنِ کریم پڑھا۔‘‘اللہ پاک ارشاد فرمائے گا: ”تُو جھوٹا ہے تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور قراٰنِ کریم اس لئے پڑھا تا کہ تجھے قاری کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔‘‘پھر اسے جہنم میں ڈالنے کا حکم ہو گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا، پھر ایک مالدار شخص کو لایا جائے گا جسے اللہ کریم نے کثرت سے مال عطا فرمایا تھا، اسے لا کر نعمتیں یاد دلائی جائیں گی وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا تو اللہ پاک ارشاد فرمائے گا :”تو نے ان نعمتوں کے بدلے کیا کیا؟“ وہ عرض کرے گا:”میں نے تیری راہ میں جہاں ضرورت پڑی وہاں خرچ کیا۔“ تو اللہ پاک ارشاد فرمائے گا:”تو جھوٹا ہے تو نے ایسا اس لئے کیا تھا تا کہ تجھے سخی کہا جائے اور وہ کہہ لیا گیا۔“ پھر اس کے بارے میں جہنم کا حکم ہو گا اور اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم،ص 813، حدیث:4923)

ہماری منزل یقیناً ہماری منزل اللہ کریم کی رضا ہے، لیکن یہ مت بھولئے کہ علمِ دین سیکھنے کے بعد عملی زندگی (Practical Life)میں بھی جانا ہے۔ عملی زندگی میں ہماری منزل کیا ہے؟ اس کی پلاننگ نہایت ضروری ہے، ایک بڑی تعداد ایسے طلبہ کی ہوتی ہے جو آخری سال پڑھ کر فارغ التحصیل ہوجاتے ہیں لیکن انہیں اپنی اورا پنی منزل کی کوئی پہچان نہیں ہوتی۔ بالآخر امّتِ مسلمہ کو ایک اچھے، ماہر اور راسخ عالم یا استاد یا مبلغ یا مصنّف کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے لہٰذا ہر طالبِ علم اپنے مقصدِ حیات اور اپنی منزل کا تعین کرے، تحریر وتقریر(بیان)، تدریس یا جس بھی شعبۂ زندگی میں جا کر دین کی خدمت کرنا چاہتا ہے اس کا تعین کرے، اس فن و شعبہ کے ماہرین سے مشورہ کرے، ان کے تجربات سے سیکھے اور پہلے دن سے ہی اپنی مصروفیات، اندازِ تعلم، غیرنصابی مطالعہ غرض کہ ہر پہلو سے اپنی منزل کو فوکس کرے۔ مستقبل میں مفتی بننے کی خواہش ہے تو فتاویٰ کا مطالعہ کرے اور ضروری معلومات رکھے۔ پیارے طلبۂ کرام! اس وقت اسلام و امّتِ مسلمہ میں قابل، راسخُ العلم، راسخُ العقیدہ، کثیرُالمطالعہ اور دردِ امّت رکھنے والے علما کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے آج ہی سے اپنے لئے خدمتِ دین کا ایک شعبہ منتخب کیجئے اور اسی پہلو سے محنت کیجئے۔

سال کا پہلا دن طلبہ نئے ہوں یا اگلے درجے میں جانے والے، سبھی کو پہلے دن ہی وقت پر اپنی کلاس میں پہنچ جانا چاہئے۔ بعض طلبہ اس دن کو اہمیت نہیں دیتے جو کہ بہت نامناسب ہے، اس دن اکثر اساتذۂ کرام کی اہم ہدایات اور نصیحتیں شامل ہوتی ہیں۔ اساتذہ اپنے زندگی کے تجربات وغیرہ سے آگاہ کرتے اور مستقبل کو روشن کرنے کی راہیں دکھاتے ہیں۔

تاخیر اور چھٹی اکثرطلبہ اس بات کی اہمیت کو نہیں سمجھتے، جبکہ یہ حقیقت ہے کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہی طلبہ تاخیرو چھٹی کے نقصانات  کا برملا اعتراف کرتے ہیں۔ یادرکھئے! درجے میں ہر پیریڈ کا ایک مقررہ دورانیہ ہوتا ہے، استاد صاحب کی کوشش ہوتی ہے اچھے طریقے سے سبق مکمل کرلیں، اس لئے پیریڈ کے آغاز ہی سے سبق شروع ہوجاتا ہے، لیٹ ہونے والے ابتدائی اہم باتوں سے لاعلم رہ جاتے، جبکہ بعض اوقات سبق کے دوران یا بعدمیں ایسی ہی بات جو پیریڈ کے شروع میں بیان ہوچکی ہوتی ہے اور یہ لیٹ ہونے کی وجہ سے محروم رہتے ہیں اس کے بارے میں سوال کرلیتے ہیں یوں استاد صاحب اور سارا درجہ تشویش کا شکار ہوتاہے۔ جب تاخیر سے آنا اتنا نقصان کا باعث ہے تو چھٹی کرنا کس قدر محرومی کا سبب ہوگا!

اسباق کی تیاری پیارے طلبۂ کرام!کبھی بھی یہ مت سوچئے کہ درجے میں جاکر استاد جو پڑھائیں گے اسے سُن کر سبق اور کتاب سے کماحقہ فائدہ اٹھایا جاسکتاہے۔ روزانہ کے سبق سے کماحقہ مستفیض ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ جو سبق درجے میں پڑھنا ہے اسے ایک دن پہلے ہی تین سے زائد بار پڑھاجائے، الفاظ کے معانی، عبارت کا مفہوم اور نفسِ مسئلہ کو سمجھا جائے، جوباتیں سمجھ نہ آئیں ان کو لکھ لیا جائے، یوں جب اگلے دن درجے میں استاد صاحب سبق پڑھائیں گے تو ہر بات جلد سمجھ آئے گی، جو باتیں سمجھ نہ آئی تھیں وہ بھی حل ہو جائیں گی۔

وقت کی قدر ہم بچپن سے ہی سنتے اور دیکھتے آرہے ہیں کہ وقت رُکتا نہیں، وقت گزر جاتا ہے، اس لئے اس کی قدر کرنا اور موجودہ وقت کو صحیح کام میں لے آنا ہی کامیابی ہے، طلبہ کی ایک تعداد ہے جو موبائل، انٹرنیٹ، ہوٹلنگ، گھومنے پھرنے اور پڑھائی کے علاوہ دیگر کئی مصروفیات میں اپنا قیمتی وقت ضائع کردیتی ہے۔ وقتی طور پر یہ سب چیزیں بہت اچھی لگتی ہیں، لیکن جب وقت گزرجاتا ہے تو احساس ہوتا ہے۔ آپ کسی بھی ایسے فرد سے جس پر گھر بار کی ذمہ داریاں ہوں معلوم کریں کہ وقت کی کیا اہمیت ہے اور آپ کے کیا جذبات ہیں تو وہ یہی کہے گا کہ کاش وقت لوٹ آئے!!

تعلیمی سال کے آغاز کے اعتبار سے طلبہ کی تین قسمیں بنتی ہیں: (1)پہلے سال میں داخلہ لینے والے (2)اگلے درجات میں جانے والے (3)آخری درجے میں جانے والے۔ان تینوں اقسام کے حوالے سے مدنی پھول اگلے ماہ کے شمارے میں ذکر کئے جائیں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭۔۔۔ ناظم ماہنامہ فیضانِ مدینہ،باب المدینہ کراچی

Share