کمیٹی ڈالناکیساہے؟

احکامِ تجارت

*   مفتی ابومحمد علی اصغر عطّاری مدنی

ماہنامہ ربیع الآخر 1442ھ

کمیٹی ڈالنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کمیٹی ڈالنا جائز  ہےیا ناجائز؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب :  عام طور پر کمیٹی اس طرح ڈالی جاتی ہے کہ ہرمہینے کچھ افرادمقررہ مقدار میں  پیسے  جمع کرواتےہیں اور کسی ایک  کا نام منتخب کرکے جمع شدہ  پیسے اسے  دے دیتےہیں ، یوں آگے پیچھے تمام افراد کوایک ایک کرکے اپنے  جمع کروائےہوئے پیسے مل جاتےہیں۔ اس انداز پر رہ کر  یہ کمیٹی ڈالنا ، جائز اور درست ہے۔ البتہ کچھ کمیٹیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں بولی لگائی جاتی ہے اور جو سب سے کم بولی لگاتا ہے  بولی شدہ رقم اس کو دے دی جاتی ہے اور باقی جو رقم بچتی ہے وہ دیگر شرکاء میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ مثلاً کمیٹی کی جمع شدہ مجموعی رقم دو لاکھ روپے ہے اب اگر کسی نے سب سے کم بولی ایک لاکھ اسی ہزار روپے لگائی تو ان دو لاکھ روپے میں سے ایک لاکھ اسی ہزار روپے بولی لگانے والے کو مل جائیں گے اور بقیہ بیس ہزار روپے دیگر ممبران میں تقسیم کردئیےجائیں گے   لیکن  کمیٹی  لینے والے  ممبر کو  مجموعی طور پر دو لاکھ روپے ہی جمع کروانے پڑیں گے۔ یہ سود کی صورت ہے ، ایسی کمیٹی ڈالنا حرام و گناہ ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

میڈیکل کا لائسنس کرایہ پر دینا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پا س میڈیکل کا لائسنس ہے۔ کیا میں اس لائسنس کو کرائے پر  دے سکتاہوں؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : جی نہیں! لائسنس کو کرایہ پر دینا جائز نہیں کیونکہ فقہی طورپر  لائسنس کرائےپر دینا ، گھر کرائےپر دینے کی طرح  نہیں ، بلکہ یہ ایک حق (Right)ہے جسے کرائے پر دے کر  آپ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور محض حق (Right)کو کرائے پر دینا جائز نہیں۔ اگر میڈیکل اسٹور کو چلانے کےقانونی تقاضے پورے ہوتے ہوں تو جواز کا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ دکان میں فرنیچر ڈلوا دے اور اس فرنیچر کا کرایہ وصول کرے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

میت کو غسل دینے کی اُجرت لینا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں میت کو غسل دینے کا کام کرتاہوں اور اس کام کی اُجرت لیتا ہوں ، کیا اس کام کی اُجرت لینا میرے لیے جائز  ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : اگر وہاں آپ کےعلاوہ  کوئی دوسرا شخص موجود ہو جو میت کو نہلا سکتاہے تو آپ  کےلیے غسلِ میت کی اُجرت لینا جائز ہے  لیکن اگر کوئی دوسرا موجود نہ ہوجو میت کو غسل دے سکتاہوتو آپ  پر میت کو غسل دینا واجب ومتعین ہوگا ، لہٰذا اس  صورت میں آپ کے لئے غسل ِمیت  کی اجرت  لینا جائز نہیں ہوگا۔ یہ یاد رہےکہ یہا ں غسل دینے والے سے مراد پیشہ ور غاسل نہیں ، نہ ہی یہاں دل نہ ماننے یا مرضی  نہ ہونے یا پہلے کبھی غسل نہ دینے کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص  غسل نہیں دے سکتا ، بلکہ یہاں صحت مند اور عاقل  شخص مراد ہے  جو عملاً میت کو غسل دے سکتاہے۔

فقہائے کرام نے تو یہاں تک لکھا کہ اگر میت کے پاس صرف عورتیں اور ایک چھوٹا بچہ ہو جو میت کو نہلاسکتا ہے تو اس بچے کو غسل کا طریقہ بتایا جائے گا تاکہ وہ  میت  کو غسل دے یعنی  اس صورت میں بھی غسل دینا ساقط نہیں ہوگا۔ تو کسی کا یہ کہنا کہ میں نے کبھی غسل نہیں دیا میں کیسے دوں گا اس بات کو لازم نہیں کہ  اس شخص کو غسل دینے کے لئے نا اہل شمار کیا جائے۔

بہار شریعت میں ہے : “ جنازہ اٹھانے یا میت کو نہلانے کی اجرت دینا وہاں جائز ہےجب ان کےعلاوہ دوسرے لوگ بھی اس کام کے کرنے والے  ہوں اور  اگر ا س کے سواکوئی نہ ہوتو اُجرت پر یہ کام نہیں کیا جاسکتاکیونکہ یہ شخص اس صورت میں اس کام کےلیے متعین ہے۔ “ (بہارِ شریعت ، 3 / 149)

اسی میں ہے : “ چھوٹا لڑکا اس قا بل ہوکہ نہلاسکے تواسے بتائے اور وہ نہلائے۔ “ (بہار شریعت ، 1 / 814)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

خرید و فروخت میں تول کر یا گِن کر بیچنے کا معیار کیا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض چیزیں مختلف علاقوں میں مختلف انداز سے بیچی جاتی ہیں جیسے کیلا اور مالٹا بعض جگہوں پر درجن کے حساب سے یعنی گن کر بکتے ہیں جبکہ بعض جگہ وزن سے بکتے ہیں۔ اس بارے میں شریعتِ مطہرہ کیا فرماتی ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب : شریعتِ مطہرہ نے فریقین کو اس بات کا اختیار دیا  ہے کہ جس چیز کی خرید و فروخت ہورہی ہے اس کا وہ کوئی  بھی پیمانہ مقرر کرسکتے ہیں۔ لہٰذا مالٹا ، کیلا گن کر بھی بیچا جا سکتا ہے اور تول کر بھی۔ پھر وزن کے مختلف پیمانے ہوتے ہیں سیر ، کلو گز ، میٹر ، لیٹر ہر چیز کی کیفیت کے اعتبار سے فریقین کسی ایک واضح پیمانہ پر اتفاق کریں تو درست ہے بلکہ اگر بوری میں  بھر کر فی بوری کے حساب سے بیچنا چاہتے ہیں کہ فی بوری اتنی  قیمت ہے تو بھی جائز ہے اور اگر کسی ڈبے یا برتن کو مقرر کرکے بیچتے ہیں کہ فی ڈبہ یا فی برتن اتنی قیمت ہے تو بھی جائز ہے ۔ ہاں پیمانہ ایسا ہو کہ جس میں جہالت نہ ہومثلاً کسی برتن کو پیمانہ بنایا ہو تو وہ برتن دکھا دیا جائے کہ اس کے حساب سے مال ملے گا یا پھر اس برتن کا مکمل وصف بیان کر دیا جائے کہ اس میں اتنے کلو مال آتا ہے وغیرذٰلک۔

  لہٰذا  جب  پہلے سے دونوں کو معلوم ہے کہ پیمانے کا معیار کیا ہوگا اور  چیزتول کر بیچی جائے گی یا گن کر ، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللہ القَوی  لکھتے  ہیں : “ گیہوں ، جَو اگرچہ کیلی (ماپ سے بکنے والی چیزیں )ہیں مگر سَلم میں ان کی مقدار وزن سے مقرر ہوئی مثلاً اتنے روپے کے اتنے من گیہوں یہ جائز ہے کیونکہ یہاں اس طرح مقدار کا تعیّن ہوجانا ضروری ہے کہ نزاع باقی نہ رہے اور وزن میں یہ بات حاصل ہے۔ ۔ ۔ جو چیزیں عددی ہیں اگر سَلم میں ناپ یا وزن کے ساتھ ان کی مقدار کا تعین ہواتو کوئی حرج نہیں۔ (بہارِ شریعت ، 2 / 799)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   دارالافتاء اہلِ سنّت نورالعرفان ، کھارادر ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code