جنّت میں گھر بنوائیے(قسط:02)

کچھ نیکیاں کمالے

جنّت میں گھر بنوائیے (قسط : 02)

*    عبد الماجد نقشبندی عطاری مدنی

ماہنامہ ربیع الآخر 1442ھ

گزشتہ سے پیوستہ

(5)با زار میں اللہ پاک کا ذِ کرکرنا : بازارکو  اگرچہ غفلت کی جگہ کہا جاتا ہے لیکن اگر ذرا سی توجّہ کرکے ہم بازار میں اللہ پاک  کا ذکر کرلیا کریں تو ہمیں 10 لاکھ نیکیوں کا ثواب ملے گا اور  10 لاکھ گناہ معاف ہوں گےاور جنّت میں ہمارے لئے گھر بھی بنایا جائے گا چنانچہ  سرکارِمدینہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : جس نے بازار میں داخل ہو کر کہا : لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ  لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لاَّیَمُوْتُ بِیَدِ ہِ الْخَیْرُ وَھُوَ  عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ اللہ پاک  اس کے لئے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا اور اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دے گا اور اس کے لئے جنّت میں گھر بنائے گا۔ ([i])

(6)بیمار کی عیادت کرنا : حُضور نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی بیمار پُرسی یا اس سے ملاقات کرتا ہے  تو رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اچّھا ، تیرا چلنا اچّھا اور تو نے جنّت میں منزل یعنی گھر بنالیا۔ ([ii])

حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت   فرماتے ہیں : پکارنے والا فرشتہ ہوتا ہے اور یہ کلام یا دعا ہے یا خبر یعنی خدا کرے تو اورتیرا چلنا اچھا ہو اورتو جنت میں مکان پالے یا تو اچھا ہے اور تو نے گویا جنت میں مکان بنالیا ، مگر یہ بشارتیں اس کے لئے ہیں جومحض رضائے الٰہی  کے لئے بیمار پُرسی کرے۔ ([iii])

(7)اچّھے اخلاق والا ہونا : اللہ پاک کے پیارے نبی   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : جو جھوٹ چھوڑ دے جو کہ باطل چیز ہے  تو اس کے لئے جنّت کے کنارےمیں گھر بنایا جائے گااور جو لڑائی جھگڑے چھوڑ دے حالانکہ حق پر ہو اس کیلئے بیچ جنّت میں گھر بنایا جائے گا اور جس کے اَخلاق اچّھے ہوں تو اس کے لئے جنّت کے اوپری حصّے میں گھر بنایا جائے گا۔ ([iv])

پیارے اسلامی بھائیو!  خوش خُلقی کا درجہ سب سے اعلیٰ ہے کہ ایسےشخص کے لئے جنّتُ الفردوس کی بشارت ہے لہٰذاہمیں بھی چاہئے کہ اپنے مسلمان بھائیوں سے حُسن ِاَخلاق سے پیشں آئیں اور حُسنِ خُلق جیسی عظیم صفت اپنانے کے لئے کوشش بھی کریں اور اللہ پاک سے دعا بھی کریں۔

 (8)بچّے کی وفات پر صبر کرنا : نبیِّ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایاکہ جب کسی بندے کا بیٹا  فوت ہوجاتا ہے تو اللہپاک ملائکہ سے فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہاں۔ فرماتا ہے : تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا؟ عرض کرتے ہیں : ہاں۔ پھر اللہ پاک فرماتا ہے (اس مصیبت پر) میرے بندے نے کیا کہا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : تیری تعریف کی اور اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنپڑھا۔ اللہ پاک فرماتا ہے : میرے اس بندے کیلئے جنّت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْد رکھو۔ ([v])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   شعبہ تخریج ، المدینۃالعلمیہ ، باب المدینہ کراچی

 



([i])ترمذی ، 5 / 270 ، حدیث  : 3440

([ii])ابن ماجہ ، 2 / 192 ، حديث : 1443

([iii])مراٰۃ المناجیح ، 2 / 427

([iv])ترمذی ، 3 / 400 ، حدیث : 2000

([v])ترمذی ، 2 / 313 ، حدیث : 1023

Share

Articles

Comments


Security Code