معجزہ کیا  ہوتاہے؟

ایک واقعہ ایک معجزہ

معجزہ کیا ہوتاہے؟

*    ارشد اسلم عطّاری مدنی

ماہنامہ ربیع الآخر 1442ھ

دعوت سے واپسی پر  کار میں سوار ہوتے ہی دادا جان نے بچّوں اور ڈرائیور کو سفر کی دُعا پڑھائی۔ دادا جان بچّوں کے ساتھ گفتگو کررہے تھے کہ اچانک موبائل کی بیل بجی ، دادا جان نے سلام دعا کے بعد مختصر سی بات کی اور اللہ حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔

خُبَیب نے کہا : دادا جان! آپ نے ابھی فون پر ایک لفظ بولا تھا “ مُعْجِزَہ “ یہ معجزہ کیا ہوتا ہے؟ یہ سُن کر دادا جان مسکرا کر کہنے لگے : خُبَیب میاں! صرف آپ کو بتاؤں؟ یا صُہَیب اور اُمِّ حبیبہ بھی معجزے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟ یہ سُن کر تینوں بہن بھائی ایک ساتھ بول پڑے : دادا جان! ہم سب کو بتائیے۔

دادا جان نے معجزے کی یہ تعریف بتائی : اعلانِ نبوت کے بعد نبی سے ایسا کام ظاہر ہونا جو عام طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ جیسے مُردوں کو زندہ کرنا ، چاند کے دو ٹکڑے کرنا وغیرہ۔ معجزہ نبی کی نَبُوَّت کی دلیل ہوتا ہے ، معجزے کے ذریعے سچے اور جھوٹے نبی کی پہچان ہوتی ہے۔ دادا جان رکے ، گہرا سانس لیا اور کہا : یاد رکھو بچّو! “ کوئی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرکے ہرگز معجزہ نہیں دِکھا سکتا۔ “

دادا جان جیسے ہی خاموش ہوئے اُمِّ حبیبہ فوراً بولی : کیا ہر نبی کو ایک جیسے ہی معجزے دئیے گئے تھے؟ نہیں بیٹا! داداجان نے نفی میں سَرہلاتے ہوئے کہا : اللہ پاک نے ہر نبی کو اس وقت کے حالات کے مطابق معجزے عطا کئے جیسے :

 (1)حضرت موسیٰ  علیہ السَّلام  کے زمانے میں جادوگروں کے کار نامے بہت مشہور تھے ، اللہ پاک نے ان کے مطابق آپ  علیہ السَّلام   کو معجزات دئیے(1)آپ  علیہ السَّلام  اپنے ہاتھ کوجب چاہتےروشن فرماتے(2) ایک “ لاٹھی “ تھی جب اسے زمین  پر پھینکتے  توکبھی وہ سانپ بن جاتی  اورکبھی بہت بڑا اژدہا۔ اس کے علاوہ لاٹھی کبھی رسی بن جاتی تو کبھی  سایہ داردرخت۔

(2)حضرت عیسیٰ  علیہ السَّلام  کےزمانے میں کچھ بیماریاں ایسی بھی تھیں جن کا علاج کرنے میں ڈاکٹر فیل ہوگئے  تھے۔ اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ  علیہ السَّلام  کواندھوں کی آنکھیں ٹھیک کرنے ، لاعلاج مریضوں کو صحت مند اور مُردوں کو زندہ کرنے کا معجزہ دیا۔

داداجان نے مزید گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا : پیارے بچو! ايك بہت بڑے عالمِ دین مفتی احمدیار خان نعیمی  رحمۃ اللہ علیہ  نے معجزے کی تین قسمیں  بتائی ہیں : (1)ضروری معجزہ جیسے ہمارے پیارےنبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کاخوشبودار پسینہ (2)عارضی اختیاری یعنی اپنی مرضی سے کچھ دیر کے لئے معجزہ ظاہر کرنا جیسے لاٹھی کا اژدہا بن جانا(3)عارضی غیر اختیاری یعنی  مرضی کے بغیر کچھ وقت کے لئے معجزہ کا ظاہر ہونا جیسے قراٰنِ پاک  کی آیات کا نازل  ہونا۔

صُہَیب نے اپنی خاموشی توڑی اور دادا جان سے کہا : ہمارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو کتنے معجزات دئیے گئے؟ دادا جان نے صہیب کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا : صُہَیب! میں جانتا تھا آپ بھی کوئی نہ کوئی سُوال ضرور کریں گے ، مَا شَآءَ اللہ بہت اچھا سوال کیا ہے۔

پیارے بچّو! یہ تو آپ جانتے ہیں کہ ہمارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تمام نبیوں سے افضل اوراعلیٰ ہیں ، اللہ پاک نےآپ کو پہلے نبیوں کے تمام معجزات عطا فرمائے اور بے شمار ایسے معجزات بھی دئیے جو کسی نبی یا رسول کو عطانہیں کئے تھے۔

ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا سب سے بڑا معجزہ قراٰنِ مجید ہے کیونکہ دیگر معجزات تو اپنے وقت پر ظاہر ہوئے اور آپ کے زمانے ہی کے لوگوں نے دیکھے مگر “ قراٰنِ مجید “ قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ ہے۔

 گھر پہنچنے سے کچھ دیر پہلے دادا جان نے کہا : امید ہے کہ آپ معجزے کے بارے میں بنیادی باتیں جان چکے ہوں گے ، اب میں چاہتا ہوں کہ ہر جمعہ آپ لوگوں کو ہمارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا ایک معجزہ بتاؤں ، آپ لوگوں کا اِس بارے میں کیا خیال ہے؟ یہ سُن کر اُمِّ حبیبہ ، صُہَیب اور خُبیب خوش ہوگئے اور “ بالکل بالکل “ کہہ کرتینوں نےدادا کی بات کی تائید کی اور اِتنے میں گاڑی گھر پہنچ گئی۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   شعبہ فیضانِ قراٰن ، المدینۃالعلمیہ ، کراچی

 

Share