حضرت خواجہ محمد حمیدُالدّین سیالوی صاحب کےانتقال پر تعزیت

تعزیت و عیادت

ماہنامہ ربیع الآخر 1442ھ

حضرت خواجہ محمد حمیدُالدّین سیالوی صاحب کے انتقال پر تعزیت

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی  عُفِیَ عَنْہُ  کی([i]) جانب سے : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

مجھے یہ افسوس ناک خبر ملی کہ سجّادہ نشین حضرت خواجہ ضیاءُ الحق سیالوی اور صاحبزادہ محمد قاسم سیالوی کے والدِ محترم ، جگر گوشۂ حضور شیخُ الاسلام ، پیرِطریقت حضرت الحاج خواجہ محمد حمیدُالدّین سیالوی صاحب ہارٹ اٹیک کے سبب 29مُحرَّمُ الْحَرام 1442 سِن ہجری کو تقریباً 70 سال کی عمر میں آستانہ عالیہ سیال شریف پنجاب پاکستان میں وِصال فرما گئے ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن۔

میں تمام سوگواروں سے تعزیت اور صبر و ہمّت سے کام لینے کی تلقین کرتا ہوں۔ یاربَّ المصطَفےٰ جَلَّ جَلَالُہٗ وَ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ! حضرت الحاج خواجہ محمدحمیدُ الدّین سیالوی کو غریقِ رحمت فرما ، اے اللہ! ان کے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف فرما ، اِلٰہَ الْعٰلَمِین! ان کے درجات بلند فرما ، اِلٰہَ الْعٰلَمِین! ان کی دینی خدمات قبول فرما ، مولائے کریم! ان کی قبر تاحدِّ نظر وسیع ہوجائے ، رحمت و رضوان کے پھولوں کی بارشیں ہوں ، ان کی قبر پر انوار و تجلیات کی برسات ہو ، مولائے کریم! نورِ مصطفےٰ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے صدقے ان کی قبر تاحشر جگمگاتی رہے ، اے اللہ! انہیں بے حساب مغفرت سے مشرف فرما کر جنّتُ الْفِردوس میں اپنے پیارے حبیب   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا پڑوس نصیب فرما ، اِلٰہَ الْعٰلَمِین! تمام سوگواروں کو صبرِجمیل اور صبرِ ِجمیل پر اجرِ جزیل مرحمت فرما ، یااللہ!  میرے پاس جو کچھ ٹوٹے پھوٹے اعمال ہیں اپنے کرم کے شایانِ شان ان کا اجر عطا فرما ، ىہ سارا اجر و ثواب جنابِ رسالت مآب   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کو عنایت فرما ، بَوسیلۂ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِين   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   یہ سارا ثواب حضرت الحاج خواجہ محمد حمیدُالدّین سیالوی صاحب سمىت سارى اُمّت کو عنایت فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  

تمام سوگواروں کو چاہئے کہ صبر و ہمت سے کام لیں ، مولیٰ کی رحمت پر نظر رکھیں ، جو بھی دنیا میں آیا اس کو یہاں سے جانا تو ہوگا ، جس نے دنیا میں خوشیوں کے گنج پائے انہیں موت کے رنج نے آلیا ، جس نے یہاں زندگی کے پھول چُنے اسے موت کے خار یعنی کانٹے نے بالآخر زخمی کیا ، جانے والے سے ہمیں اپنے لئے درسِ عبرت لینا اَنْسَب کہ جس طرح یہ چلا گیا کل میری باری ہے۔

؎ جنازہ آگے بڑھ کر کہہ رہا ہے اے جہاں والو!

مِرے پیچھے چلے آؤ! تمہارا رہنما میں ہوں

اللہ کریم ہمیں ایمان کی سلامتی کے ساتھ مدینۂ منوّرہ میں زیرِ گنبدِ خضرا شہادت وہ بھی محبوب کے جلووں میں نصیب فرمائے ، جنّتُ البقیع میں مَدفَن اور جنّتُ الْفِردوس میں اپنے پیارے حبیب   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا پڑوسی بنائے ، جب تک جئیں اللہ و رسول کی محبت کے دَم بھرتے رہیں ، شریعت اور سنّت کی پابندی کرتے رہیں ، گناہوں سے بچتے رہیں ، گناہ میں ہلاکت بڑی ہے ، گناہ کو کُفر کا قاصد کہا گیا ہے ، پاک پروردگار! ہمیں ایک لمحے کے کروڑویں حصّے کے لئے بھی ایمان سے محروم نہ فرمائے ، ہر وقت ایمان ہمارے ساتھ رہے اور کُفر ہم سے ہمیشہ کے لئے دور رہے۔                            اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   

 (اس کے بعد امیرِ اہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے ایصالِ ثواب کے لئے یہ حدیثِ پاک بیان فرمائی : ) فرمانِ مصطفےٰ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   ہے : عالِم کی موت ایسی مصیبت ہے جس کا اِزالہ نہیں ہوسکتا اور ایک ایسا خَلا ہے جو پُر نہیں ہوسکتا ، وہ ایک ستارہ تھا جو بُجھ گیا۔ (شعب الایمان ، 2 / 264 ، حدیث : 1699)

سیالوی صاحبان سے بھی مدنی التجا ہے کہ ہوسکے تو ایصالِ ثواب کے لئے سب تھوڑا تھوڑا حصّہ ملا کر “ فیضانِ حمیدُالدین سیالوی “ کے نام سے ایک مسجد تعمیر کریں ، اِنْ شَآءَ اللہ آپ کا دیا رائیگاں نہیں جائے گا ، اللہ کا یہ گھر جب تک آباد رہے گا صدقۂ جاریہ ہوگا ، ظاہر ہے مسجد ایک بار بَن گئی تو اب قیامت تک کے لئے تحت الثَّریٰ سے عَرشِ عُلا تک مسجد ہے ، ضرور مسجد بنائیے اور آخرت کی بہتری اکھٹی کیجئے ، بخاری شریف میں اللہ پاک کے آخری نبی ، مکی مدنی محمدِ عربی   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا فرمانِ عالی شان ہے : “ جو اللہ پاک کی رضا کے لئے مسجد بنائے گا اللہ پاک اس کے لئے جنّت میں گھر بنائے گا۔ “ (بخاری ، 1 / 171 ، حدیث : 450)

مُحَرَّمُ الْحَرام1442ھ میں وفات پانے والوں کے نام

شیخِ طریقت ، امیرِ اہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے (1)حضرت علّامہ مولانا عبدُالرّشید رضوی (مانسہرہ)([ii]) (2)حضرت علّامہ مولانا پیر نور محمد چشتی(بڑیلہ شریف ، ضلع گجرات)([iii]) (3)حضرت علّامہ مولانا اسماعیل حسینی قادری ابوالعلائی (کھاردہ(Khardaha) کولکاتا ، ہند)([iv]) (4)حضرت مولانا امامُ الدّین قادری مصباحی (بَسکھاری(Baskhari) ، امبیڈکرنگر ،  ہند)([v])  (5)حضرت پیر سیّد اصغر علی شاہ گیلانی (میانی کوٹلی ، ضلع نارووال ، پاکستان)([vi]) (6)حافظِ احادیثِ کثیرہ حضرت مولانا حسین صدیقی ابوالحقانی مصباحی (دربھنگہ بہار ، ہند)([vii]) (7)حضرت مولانا قاری حافظ حبیبُ الرّحمٰن شہزاد سعیدی (ملتان شریف)([viii]) (8)حضرت مولانا فاروق کھتری (بمبئی ، ہند)([ix]) (9)ڈاکٹر سیّد اسدُ اللہ شاہ (پشاور)([x]) (10)پیرِ طریقت ، حضرت سیّد غلام محمد گیلانی کی اہلیہ(کشمیر) (11)پیرِ طریقت ، حضرت سیّد اکسیر حسین شاہ کی ہمشیرہ (نکیال ، کشمیر) کے انتقال پر لواحقین اور جملہ سوگواروں سے تعزیت کی اور مرحومین کیلئے دُعائے مغفرت کرتے ہوئے ایصالِ ثواب بھی کیا۔

شیخِ طریقت ، امیرِ اہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے ان کے علاوہ بھی کئی عاشقانِ رسول کے انتقال پر تعزیت ، دعائے مغفرت و ایصالِ ثواب کی ترکیب کی ، جبکہ کئی بیماروں اور دُکھیاروں کے لئے دُعائے صحت و عافیت فرمائی ہے ، تفصیل جاننے کے لئے اس ویب سائٹ ، “ دعوتِ اسلامی کے شب و روز “ news.dawateislami.net کا وزٹ فرمائیے۔



([i])جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت حضرت مولانا عبید رضا عطاری مدنی مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی نے بھی 25ستمبر2020بروز جمعۃُ المبارک کو آستانہ عالیہ سیال شریف پنجاب جاکر حضرت الحاج خواجہ محمد حمیدالدین سیالوی صاحب کے صاحبزادگان اور دیگر حضرات سے تعزیت اور دعائے مغفرت کی۔

([ii])تاریخِ وفات : 14مُحَرَّمُ الْحرام1442ھ

([iii])تاریخِ وفات : 3محرم الحرام 1442ھ

([iv])تاریخِ وفات : 17محرم الحرام 1442ھ

([v])تاریخِ وفات : 15محرم الحرام 1442ھ

([vi])تاریخِ وفات : 24محرم الحرام 1442ھ

([vii])تاریخِ وفات : 23محرم الحرام 1442ھ

([viii])تاریخِ وفات : پہلی محرم الحرام 1442ھ

([ix])تاریخِ وفات : 8محرم الحرام 1442ھ

([x])تاریخِ وفات : 19محرم الحرام 1442ھ

Share

Articles

Comments


Security Code