یہ شرک نہیں (قسط : 03)

اسلامی عقائد و معلومات

یہ شرک نہیں (قسط : 03)

*   عدنان چشتی عطاری مدنی

ماہنامہ  ربیع الآخر1442ھ

گزشتہ شمارے میں شرک کی مختلف صورتوں (1)ذات میں برابری (2)اَسماء (3)اَفعال (4)اور اَحکام میں برابری پر کلام کیا جا چکا ہے ، مزیدشرک کی دوصورتیں ملاحظہ فرمائیے :

عبادات میں برابری : عبادت صِرف اور صِرف  اللہ پاک ہی کے لئے ہے۔ اللہ پاک کی عبادت میں کسی  دوسرے کو شریک جاننا یا کسی دوسرے کو عبادت کا حقدار سمجھنا  شِرک فِی الْعِبادات کہلاتا ہے۔ جیسے مشرکینِ مکہ نے خانہ کعبہ میں 360 بُت رکھے ہوئے تھےجن کی پوجا کی جاتی تھی۔ عبادت صر ف اللہ پاک کا حق ہے  جیسا کہ قراٰنِ مجید میں ہے : (وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا) ترجمۂ کنزُالایمان : اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ۔ ([i])  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

دوسرے مقام پر یوں فرمایا : (قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-)ترجمۂ کنزُالایمان : تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ ([ii])  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

صِفات میں برابری : اللہ پاک  کی کسی صفت میں مخلوق کو شریک کرنایا اللہ  پاک کی صفات کی طرح کسی اور میں ویسی ہی  صفات ماننا شِرک فِی الصِّفات کہلاتا ہے۔ جیسے اللہ  پا ک   کی صفت ہے قدیم ہونا یعنی وہ ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا اب کسی مخلوق کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ بھی ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا یہ صفات میں شرک  کی مثال ہے۔

یہ شِرک نہیں : ایک بات خوب یاد رکھنے کی ہے کہ صفات میں شرک اُسی وقت ہو گا جب  کہ جیسی صفت اللہ پاک کی ہے ویسی ہی صفت کسی اور میں تسلیم کی جائے  جیسا کہ شاہ ولیُّ اللہ محدّث دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اَلشِّرک ُ  اَنْ يَّثبُتَ لِغَيرِ اللہِ سُبحانَه وَ تَعالٰی شيئًا مِنَ الصِّفاتِ الْمُختَصَّةِ بِه  الخ یعنی جو صفات صرف اللہ پاک کے ساتھ خاص ہیں ان میں سے کوئی شے کسی غیراللہ کے لئے ثابت کرنا شرک ہے۔ ([iii])

اللہ پاک کی وہ صفات جو اُسی کے ساتھ خاص ہیں   جیسے علمِ ذاتی ، اَزَلی ، اَبَدی  اورقدیم ہونا وغیرہ ۔

خوب یاد رہے کہ صرف لفظوں کے ایک جیسا ہونے یا معنی کی یکسانیت کی وجہ سے شرک کا حکم لگا دینا بہت بڑی جرأت ہے کیونکہ قراٰنِ پاک میں بے شمار مقامات پر ایک لفظ یا ایک صفت اللہ پاک کے لئے استعمال ہوئی ہے بالکل وہی لفظ مخلوق کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ اگر لفظوں کا یہ اشتراک (ایک جیسا ہونا)شرک ہوتا تو قراٰنِ پاک میں اس کو ہرگز ہرگز  بیان نہ کیا جاتاکیونکہ قراٰنِ پاک  شرک مٹانے آیا ہے مَعاذَ اللہ اس کی ترغیب دِلانے نہیں آیا۔

اللہ و رسول رَءُوف بھی رَحیم بھی : اللہ پاک نے  اپنے پیارے محبوب کو اپنی صفات کا مظہر بنایا ہے اسی لئے قراٰنِ پاک میں بہت سے  مقامات پر جو صفت اپنی بیان فرمائی وہی اپنے پیارے محبوب   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کو بھی عطا فرمائی  جیسا کہ اللہ کریم فرماتاہے : ( اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ(۷))ترجمۂ

کنزُالایمان : بےشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے۔ ([iv])   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ کریمہ میں اللہ پاک نے اپنی دو صفات رَءُوْف اور رحیم کا ذکر فرمایا ہے۔ قراٰنِ مجید میں ہی  دوسرے مقام پرہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے متعلق یوں ارشاد فرمایا : ( لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸))

ترجمۂ کنزُ الایمان : بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان ([v])  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ کریمہ میں اللہ پاک نے ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی بھی دو صفات  رَءُوْف اور رحیم بیان فرمائی ہیں۔ ایک ہی طرح کے الفاظ اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کے لئے اللہ کریم نے خود ذکر فرمائے کبھی کسی کامل مسلمان کے ذہن میں اس بات کا خیال بھی نہیں آسکتا کہ اس سے یکسانیت ، برابری یا مماثلت ہو گئی ہے لہٰذا یہ شرک ہو گیا کیونکہ یہ ہرگز ہرگز  شرک نہیں۔

شرک کےبارے میں مزید مفید معلومات  جاننے کے لئے آئندہ شمارے میں قسط(04) بعنوان “ یہ شرک  کیوں نہیں؟ “ مطالعہ فرمائیے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   رکنِ مجلس المدینۃالعلمیہ کراچی

 



([i])پ 5 ، النساء : 36

([ii])پ7 ، الانعام : 56

([iii])الفوز الکبیر ، ص21

([iv])پ14 ، النحل : 7

([v])پ11 ، التوبۃ : 128

 

 

 

Share

Articles

Comments


Security Code